دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت -…

دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 4 از 5

اسی طرح مباہلہ بھی آپ کی خصوصیت نہیں ، کیونکہ حضرت فاطمہ حسن و حسین رضی اللہ عنہم بھی اس میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔جیسا کہ یہی لوگ چادر کے نیچے چھپائے جانے میں بھی آپ کے شریک تھے۔ پس اس سے معلوم ہوا یہ حدیث نہ ہی مردوں کے ساتھ خاص ہے ‘ اور نہ ہی آئمہ کے ساتھ خاص ہے۔بلکہ اس میں عورت ؛ بچے اور دوسرے لوگ بھی شریک ہیں ۔ کیونکہ مباہلہ کے وقت حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما چھوٹے بچے تھے۔ مباہلہ کا واقع سن نو یا دس ہجری میں فتح مکہ کے بعد اس وقت پیش آیا جب نجران کے عیسائیوں کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ جب نبی کریمﷺ کا انتقال ہوا تو اس وقت حضرت حسینؓ کی عمر سات سال بھی نہیں تھی ۔ جب کہ حضرت حسنؓ  آپ سے ایک سال بڑے ہیں ۔ان کو بلانے کی وجہ یہ تھی کہ حکم یہی ملا تھا کہ ہر گروہ اپنے قرابت داروں بیٹوں اور عورتوں کو بلائے اور خود بھی حاضر ہو۔ تو ان دونوں فریقین میں سے ہر ایک نے اپنے قریب تر رشتہ داروں کو بلانا تھا۔یہ لوگ نسب میں نبی کریمﷺ  کے سب سے زیادہ قریبی تھے۔ اگرچہ بعض دوسرے لوگ نبی کریمﷺ  کے نزدیک ان سے افضل تھے۔ اس لیے کہ آپ کو یہ حکم نہیں ملا تھا کہ اپنے افضل ترین اتباع کاروں کو بلائیں ۔ مقصود یہ تھا کہ لوگوں میں سب سے قریبی اور خاص افراد کو بلایا جائے۔ اس لیے کہ انسان کی فطرت میں ہے کہ [ایسے مواقع پر] اسے اپنی ذات اور اپنے قریبی خونی رشتہ داروں کا ایک خوف سا رہتاہے۔ یہی وجہ تھی کہ چادر والی روایت میں اور دعا میں بھی انہیں ہی خاص کیاہے۔

مباہلہ تو برابری کی بنا پر قائم تھا۔اس لیے عیسائیوں کو چاہیے تھا کہ وہ نسب کے لحاظ سے اپنے قریب تر رشتہ داروں کو بلا لائیں ۔ انہیں بھی اپنی اولاد کے بارے میں ایسے ہی خوف تھا جیسا خوف کسی اجنبی پر نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ لوگ مباہلہ کرنے سے رک گئے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہیں علم ہوچکا تھا کہ آپﷺ حق پر ہیں ۔اور اگر انہوں نے مباہلہ کیا تو آپ کی بددعا ان کے لیے اور ان کے اقارب کے لیے قبول ہو جائے گی۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ کبھی انسان کو اپنی اولاد کے بارے میں اتنا خوف محسوس ہوتا ہے کہ اتنا خوف اپنی جان کے بارے میں محسوس نہیں ہوتا۔

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت علیؓ کے جو فضائل صحیح سند کے ساتھ ثابت ہیں ؛ جیسے رسول اللہﷺ کا فرمان :

’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

اور حدیث : کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہے کہ آپ کو مجھ سے وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔‘‘

اور یہ حدیث: ’’یا اللہ ! یہ بھی میرے اہل بیت ہیں ۔ان سے پلیدی کو دور کردے ‘ اور انہیں بالکل پاک کردے ۔‘‘

سوال :گر یہ کہا جائے کہ : یہ باتیں آپ کے خصائص میں سے نہیں ہیں ؛ بلکہ ان میں دوسرے لوگ بھی آپ کے شریک اور حصہ دار ہیں تو پھر بعض صحابہ کرامؓ  نے یہ تمنا کیوں کی تھی کہ ایک کاش ! یہ مقام اسے مل جاتا ۔جیسا کہ حضرت سعد اور حضرت عمرؓ  سے منقول ہے ۔

جواب:اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریمﷺ  نے ظاہراً و باطناً حضرت علیؓ کے مومن ہونے کی شہادت دی تھی۔اور اللہ اور اس کے رسولﷺ سے موالات کا اثبات اور آپ کے لیے اہلِ ایمان کی محبت و موالات کا وجوب تھا۔ اس میں ان نواصب کا رد ہے جو آپ کے کافر یا فاسق ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ اور اسلام سے خارج گروہ خوارج پر رد ہے ؛ جو لوگوں میں سب سے بڑھ کر عبادت گزار تھے؛ جن کے بارے میں نبی کریمﷺ  نے فرمایا تھا:

’’ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز اوران کے روزہ کے مقابلہ میں اپنے روزے ؛ اور ان کی تلاوت قرآن کے مقابلہ میں اپنی تلاوت کو حقیر سمجھوگے۔وہ قرآن پڑھیں گے، جو ان کے حلق سے تجاوز نہ کرے گا۔ دین سے وہ ایسے نکل جائے گی، جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے ؛ تم انہیں جہاں کہیں بھی پاؤ تو قتل کر ڈالو۔‘‘[صحیح بخاری:ح 52]عن علِی وأبِی سعِید الخدرِیِ وجابِرِ بنِ عبدِ اللّٰہِ رضِی اللّٰہ عنہم فِی البخارِیِ:4؍200کتاب المناقب باب علاماتِ النبوۃِ، مسلِم:2؍740، کتاب الزکاۃ، باب ذِکرِ الخوارِجِ وصِفاتِہِم، باب التحرِیضِ علی قتلِ الخوارِجِ، وانظر: جامِع الأصولِ لِابنِ الأثِیرِ:10؍۔ سنن أبِی داود:4؍336، کتاب السنۃِ باب فِی قِتالِ الخوارِجِ، سنن ابنِ ماجہ:1؍60۔ المقدمۃ، باب فِی ذِکرِ الخوارِجِ، المسندِ ط۔ الحلبِیِ:3؍65۔]

خوارج حضرت علیؓ کو کافر اور فاسق کہتے تھے ؛ اور آپ کو قتل کرنا حلال اور مباح سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ان خوارج میں سے ہی ایک شخص نے آپ کو قتل کردیا تھا۔اس قاتل کا نام عبد الرحمن بن ملجم المرادی تھا۔

حالانکہ یہ انسان لوگوں میں سب سے بڑا عبادت گزار تھا۔

اہل سنت والجماعت کو خوارج و نواصب سے مناظرہ کرتے ہوئے حضرت علیؓ کے ایمان اور دین داری کے اثبات کے لیے کہیں بہت زیادہ اور قوی دلائل کی ضرورت ہوتی ہے ؛ ایسے دلائل کی ضرورت شیعہ سے مناظرہ کرتے ہوئے پیش نہیں آتی۔ اس لیے کہ خوارج بڑے سچے اور دیندار لوگ ہوتے ہیں ۔اور ان کے ہاں جو شبہات پائے جاتے ہیں ؛ وہ شیعہ کے شبہات کی نسبت زیادہ طاقتور ہیں ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے مسلمان جب حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں جب یہود و نصاریٰ سے مناظرہ کریں ؛ تو انہیں ان دلائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے جن سے یہودیوں کے اس دعویٰ پر ردّ کرسکیں کہ آپ ولد الزنا یا جھوٹے ہیں ۔العیاذ باللہ ۔ اور انہیں ان دلائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے جن سے عیسائیوں پر رد کرسکیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رب اور معبود بنائے بیٹھے ہیں ۔ یہودیوں سے مناظرہ کرنا عیسائیوں سے مناظرہ کرنے کی نسبت زیادہ مشکل کام ہے۔ ان کے ایسے شبہات ہیں جن کو رد کرنا نصاری کے بس کی بات نہیں ۔ بلکہ ان کا جواب مسلمان ہی دے سکتے ہیں ۔یہی حال نواصب کا ہے۔ ان کے ایسے شبہات ہیں جن کا جواب دینا شیعہ کا کام نہیں ۔بلکہ ان کا جواب اہل سنت ہی دے سکتے ہیں ۔

صفحہ 4 از 5