دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت -…

دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 5

تو نبی کریمﷺ  نے واضح کیا کہ : پیچھے رہنے میں کوئی نقص یا عیب نہیں ۔ بیشک موسی علیہ السلام نے بھی اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو پیچھے اس وجہ سے چھوڑا تھا کہ وہ آپ کے نزدیک امانت دار تھے۔ایسے ہی میں بھی آپ کو پیچھے اس لیے چھوڑ کر جارہا ہوں کہ آپ میرے نزدیک امانت دار ہیں ۔مگر اتنا فرق ہے کہ موسی علیہ السلام نے اپنے بعد نبی کو پیچھے چھوڑا تھا ‘ اور میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘[یہ حدیث مندرجہ ذیل کتب میں ملاحظہ کی جائے۔ (1) مسند احمد:1؍383، ح:3632۔(2) مستدرک حاکم (3؍22،21) (3) ترمذی کتاب تفسیر القرآن۔ سورۃ الانفال(ح:3084) و سندہ ضعیف لانقطاعہ۔ ابوعبیدہ کا اپنے والد عبد اﷲ بن مسعودؓ سے سماع نہیں ہے۔ (4) تفسیر ابن کثیر(4؍94۔95)، (5) مسند ابی یعلی(2؍641)، (6) دلائل النبوۃ(3؍138) ابن کثیر البدایۃ والنہایہ(3؍297۔298) پر لکھتے ہیں کہ نبی کریمﷺ  نے فرمایا قیدیوں کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے؟ سیدنا ابوبکرؓ  نے عرض کیا: ’’یا رسول اللہﷺ! یہ آپ کی قوم و قبیلہ کے لوگ ہیں انھیں زندہ رہنے دیجیے ممکن ہے کہ ﷲان کو توبہ کی توفیق عطا کرے۔‘‘ حضرت عمرؓ  نے جواب دیا:’’ان لوگوں نے آپ کی تکذیب کی اور آپ کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا، لہٰذا ان کو تہ تیغ کردیجیے۔‘‘ عبد ﷲ بن رواحہؓ  نے کہا:’’ ان کو نذر آتش کردیجیے۔‘‘ سیدنا عباسؓ نے کہا:’’ آپ نے قطع رحمی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ 

یہ تشبیہ اصل استخلاف میں ہے ۔ اس لیے کہ موسی علیہ السلام نے حضرت ہارون علیہ السلام کو تمام بنی اسرائیل پر نائب بنایا تھا ۔نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو کچھ تھوڑے سے مسلمانوں پر اپنا نائب بنایا تھا۔جب کہ باقی سارے لوگوں کو آپ اپنے ساتھ جہاد پر لے گئے تھے۔

حضرت علیؓ  کو اگر ہارون علیہ السلام کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے تو حضرت ابوبکرؓ کو حضرت ابراہیم و عیسیٰ رحمہم اللہ اور حضرت عمرؓ کو حضرت نوح و موسیٰ رحمہم اللہ کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔

ظاہر ہے کہ یہ چاروں پیغمبر حضرت ہارون علیہ السلام سے افضل تھے۔ مزید برآں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما ہر دو کو دو دو انبیاء کے مشابہ قرار دیا ہے، ایک کے نہیں ۔ بنا بریں یہ تشبیہ حضرت علیؓ کی تشبیہ سے عظیم تر ہے۔ نیز یہ کہ استخلاف علیؓ میں دیگر صحابہؓ بھی ان کے سہیم و شریک تھے مگر اس تشبیہ میں کوئی صحابی حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کا شریک نہیں ۔ لہٰذا یہ تشبیہ کسی طرح بھی حضرت علیؓ  کی خصوصیت قرار نہیں دی جا سکتی۔

ایسے ہی رسول اللہﷺ  کا فرمان :’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘ [صحابہ کہتے ہیں :]ہم آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے ۔

[جب صبح ہوئی تو]نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو طلب کیا۔ آپ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ۔آپ نے[ان کی آنکھوں میں لعاب ڈالا ] اور پھر انہیں جھنڈا عطا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر فتح عطا کی۔

حضرت علیؓ کے فضائل میں روایت کردہ احادیث میں سب سے صحیح حدیث ہے۔اسے امام بخاری اور امام مسلم نے کئی اسناد سے نقل کیا ہے۔مگر یہ وصف بھی حضرت علیؓ  یا ائمہ کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کا رسولﷺ  ہر متقی مؤمن سے محبت کرتے ہیں ؛ اور ہر متقی مؤمن اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔ لیکن اس حدیث میں نواصب کا بہترین ردّ ہے، جو حضرت علیؓ کو بغض و عداوت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ؛ آپ سے برأت[نبی کریمﷺ  نے یہ سب باتیں سنیں اور کوئی جواب نہ دیا، لوگ طرح طرح کی قیاس آرائیاں کرنے لگے کسی نے کہا، ابوبکرؓ  کے قول پر عمل کریں گے، کسی نے کہا، عمر کی تجویز کو عملی جامہ پہنائیں گے۔ کسی نے کہا، عبداللہ بن رواحہؓ  کے قول پر عمل کریں گے۔ نبی کریمﷺ باہر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کے دل کو انتہائی نرم بنا دیتے ہیں اور بعض کا دل اتنا سخت ہوتا ہے کہ اس کے سامنے پتھر کی بھی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ پھر ابوبکرؓ  کو مخاطب کرکے فرمایا، آپ کی مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام جیسی ہے، جنھوں نے فرمایا تھا:﴿مَنْ تَبِعَنِی فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ (سورۂ ابراہیم:32) نیز آپ کی مثال سیدنا عیسیٰ علیہ السلام جیسی ہے جن کا ارشاد ہے:﴿ اِنْ تُعَذِّبْہُمْ فَاِنَّہُمْ عِبَادُکَ﴾ (سورۃ المائدۃ:118) پھر سیدنا عمرؓ  سے مخاطب ہو کر فرمایا: آپ کی مثال سیدنا نوح علیہ السلام جیسی ہے، جنھوں نے فرمایا تھا:﴿رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَی الْاَرْضِ مِنَ الْکَافِرِیْنَ دَیَّارًا﴾ (سورۂ نوح:26) نیز آپ کی مثال سیدنا موسیٰ علیہ السلام جیسی ہے، انھوں نے فرمایا تھا:﴿ رَبِّ اشْدُدْ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰی یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَ لِیْمَ﴾ (سورۂ یونس:88) پھر آپ نے فرمایا: چونکہ مسلمانوں کی اقتصادی حالت کمزور ہے، اس لیے کفار یا تو فدیہ ادا کریں یا انھیں قتل کردیا جائے۔]کا اظہار کرتے ہیں اور آپ سے محبت و دوستی نہیں رکھتے۔نیزخوارج کی تردید ہے جو حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کی تکفیر کرتے اور آپ کو فاسق کہتے ہیں ۔کیونکہ اس حدیث میں رسول اللہﷺ  نے گواہی دی ہے کہ آپ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتے ہیں ۔

علاوہ ازیں اس حدیث سے ان روافض کی تردید ہوتی ہے، جو کہتے ہیں کہ جو احادیث فضائل صحابہؓ میں وارد ہوئی ہیں وہ ان کے مرتد ہونے سے پہلے کی ہیں ۔ خوارج بھی حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہی کہتے ہیں ۔ حالانکہ خوارج و روافض دونوں کے اقوال سرے سے باطل ہیں ۔[اہل سنت و الجماعت ان کے اقوال سے بری ہیں ]۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے خوشنودی کا اظہار نہیں کر سکتے جس کے متعلق اس کو معلوم ہو کہ اس کی موت کفر پر ہو گی۔اسی طرح یہ حدیث ان اہل ہویٰ اور گمراہ فرقوں جیسے معتزلہ ؛مروانیہ وغیرہ؛ پر بھی حجت ہے جو اپنی خواہشات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور حضرت علیؓ  سے بغض رکھتے ہیں ‘ اور آپ پر سبّ و شتم کرتے ہیں ۔

واقعہ مباہلہ ؍اور حدیث کساء

صفحہ 3 از 5