دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت -…

دسویں فصل: شیعہ کی وضع کردہ احادیث؛ خطیب خوارزمی کی روایت

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 2 از 5

¹¹۔ سعد بن ابی وقاصؓ  کا بیان ہے کہ معاویہؓ  نے انھیں حضرت علیؓ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا، مگر انھوں نے انکار کر دیا۔ معاویہؓ  نے وجہ پوچھی کہ تم علی بن ابو طالبؓ  کو گالی کیوں نہیں دیتے؟ تو بتایاکہ مجھے نبی کریمﷺ  نے تین باتیں بتائی تھیں ، اس وجہ سے میں ہر گز آپ کو گالی نہیں دوں گااور اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہو جائے تو وہ سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے۔میں نے سنا کہ بعض غزوات میں جب نبی کریمﷺ حضرت علیؓ  کو مدینہ میں چھوڑ کر گئے اور حضرت علیؓ  نے کہا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ تو نبی کریمﷺ نے جواب میں فرمایا:’’ اے علی! تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔بس صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘[رواہ البخاری5؍18۔ علامہ موسیٰ جار اللہ اپنی کتاب’’ الو شیعہ‘‘ میں ’’انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ‘‘ کی تشریح میں فرماتے ہیں :دراصل رسول اللہﷺ نے علیؓ  کو فرمایا تھا کہ اگرچہ تیرا مقام نیکی میں بلند ہے لیکن سیدنا ہارون علیہ السلام کی طرح تم خلافت کا بوجھ نہیں اٹھا سکو گے، سیدنا ہارون چالیس دن بھی خلافت کا بار نہ اٹھا سکے اور مقصد یہ تھا کہ تم خلافت کے جھنجھٹ میں نہ پڑنا بلکہ تعلیم و تعلّم کے کام میں مشغول رہنا۔ حالانکہ ہارون نبی علیہ السلام تھے اور تم نبی بھی نہیں ہو ۔]غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہﷺ  نے فرمایا:

(( لأعطین الرایۃ غداً رجلاً یحب اللہ و رسولہ و یحبہ اللہ و رسولہ۔))

’’ کل میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ‘ اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

ہم آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے ۔[جب صبح ہوئی تو]نبی کریمﷺ نے حضرت علیؓ کو طلب کیا۔ آپ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں ۔آپ نے [ان کی آنکھوں میں لعاب ڈالا ] اور پھر انہیں جھنڈا عطا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر فتح عطا کی۔

جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:

﴿ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآئَ نَا وَ اَبْنَآئَ کُمْ﴾ [آل عمران 61]

’’پس آپ فرما دیجیے : آئیے !ہم اپنے بیٹوں کو بلاتے ہیں تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ ۔‘‘

تو رسول اللہﷺ نے حضرت علی ؛ فاطمہ ؛ حسن و حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا ؛ اور فرمایا؛ ’’ اے اللہ ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں ۔‘‘

[شیعہ نے یہ حدیث تفصیلاً ذکر کی ہے اور قبل ازیں یہ بیان کی جا چکی ہے]۔‘‘[انتہی کلام الرافضی]

[جواب ]: خطیب اعظم خوارزمی کی اس بارے میں ایک کتاب ہے ؛ اس میں اتنی جھوٹی روایات ہیں جن کا من گھڑت ہونا کسی ادنی علم رکھنے والے پر بھی مخفی نہیں ۔علماء حدیث کی تو بات ہی کچھ دیگر ہے۔نیز خطیب خوارزمی کا شمار محدثین میں نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا یہ مقام و مرتبہ ہے کہ دقیق علمی مسائل میں اس کی طرف رجوع کیا جائے۔ اس نے وہ روایات نقل کی ہیں جن کے بارے میں تمام محدثین جانتے ہیں کہ یہ من گھڑت اور جھوٹی روایات ہیں ۔رافضی مصنف نے اپنی کتاب کے شروع میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ اپنی کتاب میں وہی روایات نقل کرے گا جو اہل سنت والجماعت کے ہاں صحیح ہوں گی۔ اور انہوں نے اپنی معتمد کتابوں اور معتمد اہل علم کے اقوال سے نقل کیا ہوگا۔ تو پھروہ ایسی روایات کیونکر ذکر کرتا ہے جن کے من گھڑت اور جھوٹ ہونے پر تمام اہلِ سنت کا اجماع ہے۔جب کہ معتمد کتبِ احادیث سے کوئی بھی روایت ہی نقل نہیں کی۔ اور نہ ہی کوئی ایسی روایت ہے جسے ائمہ محدثین نے صحیح کہا ہو۔ 

یہ دس روایات جو اس نے ذکر کی ہیں ؛ شروع سے لیکر آخر تک دس کی دس روایات محض جھوٹ ہیں ۔سوائے عمرو بن عبدود کے قتل کے واقعہ کے۔

¹۔ سعد بن ابی وقاصؓ کا بیان کہ معاویہؓ نے انھیں حضرت علیؓ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا، مگر انھوں نے انکار کردیا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے وجہ پوچھی کہ تم علی بن ابو طالبؓ  کو گالی کیوں نہیں دیتے؟ تو بتایا کہ مجھے نبی کریمﷺ  نے تین باتیں بتائی تھیں ،اس وجہ سے میں ہر گز آپ کو گالی نہیں دوں گا؛اور اگر ان میں سے ایک بھی مجھے حاصل ہو جائے تو وہ سرخ اونٹوں سے بڑھ کر ہے....الخ

یہ حدیث صحیح ہے اورامام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔[صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابۃ، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللّٰہ عنہ ، (ح:32؍2404)]

اس حدیث میں حضرت علیؓ کے تین فضائل بیان ہوئے ہیں : مگر اس میں آئمہ کی کوئی خصوصیت نہیں ۔اور نہ ہی حضرت علیؓ  کی کوئی خصوصیت ہے۔یہ قول کہ : بعض غزوات میں جب نبی کریمﷺ حضرت علیؓ کو مدینہ میں چھوڑ کر گئے اور حضرت علیؓ نے کہا کہ آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟ تو نبی کریمﷺ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں فرمایا:’’ اے علی! تجھے مجھ سے وہی نسبت ہے جو حضرت ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے تھی۔بس صرف اتنا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔‘‘

ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ حاکم مدینہ مقرر کرنے میں حضرت علیؓ رضی اللہ عنہ کی کوئی خصوصیت نہیں ،اور نہ ہی آپ کو نائب مقرر کرنا دوسروں کو نائب مقرر کرنے سے زیادہ کامل ہے۔یہی وجہ تھی کہ حضرت علیؓ یہ عرض کی تھی : آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں ؟اس لیے کہ ہر غزوہ میں مدینہ میں کچھ نہ کچھ مرد مہاجرین و انصار میں سے موجود رہتے تھے؛ سوائے غزوہ تبوک کے ۔اس موقع پر آپ نے تمام لوگوں کو کوچ کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس موقع پر مدینہ میں وہی لوگ باقی رہ گئے تھے جو یا تو معذور تھے ‘ یا بچے اور عورتیں یا پھر منافق؛ اوروہ لوگ جو غلطی یا سستی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔ اسی وجہ سے حضرت علیؓ  نے پیچھے رہ جانے کو اچھا نہ سمجھا‘ اور عرض کیا :

’’کیا آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں ؟ یعنی آپ مجھے ساتھ کیوں نہیں لے جارہے ‘ پیچھے کیوں چھوڑ رہے ہیں ؟

صفحہ 2 از 5