فتح اسکندریہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتح اسکندریہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حضرت مسلمہ بن مخلد انصاری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ان لوگوں سے جنگ کے بارے میں مجھے مشورہ دو تو حضرت مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے ہے کہ آپؓ اصحاب رسول میں سے ایسے آدمی کو ڈھونڈیں جسے جنگی مہارت و تجربہ حاصل ہو اور اسے مسلمانوں کا قائد بنا کر لڑائی چھیڑ دیں، وہ براہ راست لڑے گا اور جنگ کے تقاضوں کو پورا کرے گا۔ عمرو رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اس لائق کون ہے؟ انہوں نے کہا: عبادہ بن صامت۔ حضرت عمرو رضی اللہ عنہ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا، جب وہ آپؓ کے قریب آئے تو اپنے گھوڑے سے اترنا چاہا، حضرت عمرؓو نے انہیں اترنے سے روک دیا اور کہا: مجھے اپنے نیزہ کی انی دو، عبادہ نے نیزہ آپؓ کی طرف بڑھایا۔ حضرت عمروؓ نے اپنے سر سے عمامہ اتارا اور نیزے کی انی میں باندھ دیا اور بطور علم انہیں نیزہ واپس کر کے رومیوں سے لڑائی کے محاذ پر بھیج دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسی دن ان کے ہاتھوں اسکندریہ کو فتح کرایا۔

(الأنصار فی العصر الراشدی، ص:۲۲۸)

ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ان رومیوں سے جنگ کے بارے میں کئی بار سوچا اور اس نتیجہ پر پہنچا کہ رومیوں کی آخری طاقت کی سرکشی کا سر وہی لوگ توڑ سکتے ہیں جنہوں نے ان کے پیشروؤں کا سر توڑا ہے، آپ کا اشارہ انصار کی طرف تھا۔ اس کے بعد آپ نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان کے ہاتھ میں علم دیا اور اللہ نے انہیں فتح نصیب کی۔

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 212)

اور حضرت ابن عبدالحکمؓ روایت کرتے ہیں کہ نو مہینے اسکندریہ کا محاصرہ جاری رہا اور 20ہجری میں ماہ محرم کے آغاز میں فتح ہوا۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 229)

عیسوی سن کے مطابق 21 دسمبر 640ء میں، جب کہ بٹلر فتح مصر کی تاریخ لکھتے ہوئے اس تحقیق پر پہنچا ہے کہ شہر اسکندریہ کا محاصرہ جولائی 640ء کے آخر میں شروع ہوا اور 8 نومبر 641ء مطابق 7 ذی الحجہ 21 ہجری میں وہاں کے باشندوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ میرے خیال میں یہی تحقیق درست ہے، کیونکہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے نام جو خط آیا تھا اس میں لکھا تھا کہ ’’تم دو سال سے لڑ رہے ہو۔‘‘ اس حساب سے اگر دیکھا جائے تو دسمبر 639ء جس میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے عریش پر چڑھائی کی تھی، اس وقت سے 641ء تک جس میں اسکندریہ فتح ہوا، دو سال کی مدت لگ جاتی ہے۔

اسکندریہ فتح ہونے کے بعد حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے وہاں کے لوگوں کو نہ تو قتل کیا اور نہ ہی قیدی بنایا بلکہ انہیں بھی باشندگان بابلیون کی طرح امان دے کر جزیہ وصول کرنا منظور کر لیا۔ پھر جب وہاں فساد کے اندیشے ختم ہوگئے اور آپؓ کو اطمینان ہوگیا تو فوج کا ایک محافظ دستہ وہاں چھوڑ کر بقیہ دستوں کو مصر میں رومیوں کے دیگر قلعوں اور پناہ گاہوں کو فتح کرنے کے لیے ادھر ادھر پھیلا دیا، اس بحر متوسط کا پورا ساحلی علاقہ اور رشید و دمیاط جیسے اس کے بڑے بڑے شہروں پر فتح مکمل کر لی اور اپنے دائرہ اقتدار کو ڈیلٹائے مصر اور صعید تک وسیع کر دیا۔

(الدولۃ الإسلامیۃ فی عصر الخلفاء الراشدین: صفحہ 229)


صفحہ 3 از 3