امام طحاوی رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

امام طحاوی رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 4 از 4

در حقیقت یہ کتاب معانی الآثار ہی ہے جسے بروکلمان نے غلطی سے صحیح الآثار سمجھا ہے اسی طرح مولانا محمد یوسف صاحب نے شرح المعنی کا نام لیا ہے اور ثبوت میں حافظ ابنِ حجر عسقلانیؒ کا حوالہ دیا ہے کہ موصوف نے باب اذا صلى فی الثوب الواحد فليجعل على عاتقه میں تصریح کی ہے کہ طحاوی نے بھی شرح المعنیٰ میں اس موضوع پر ایک باب باندھا ہے لیکن دراصل فتح الباری میں لفظ معانی کا الف رہ گیا ہے یہ طباعت کی غلطی ہے جیسا کہ معانی الآثار سے ظاہر ہے، لہٰذا یہاں بھی شرح معانی الآثار صحیح ہے، شرح المعنیٰ غلط ہے۔

*معانی الآثار کا مختصر تعارف:* 

امام طحاویؒ کو اللہ تعالیٰ نے علمِ حدیث کا جو ملکہ اور استعداد عطاء فرمائی تھی وہ بے مثال تھی ناسخ و منسوخ کا علم تطبیق بین الروایات اور ترجیح راحج کے باب میں وہ امام و مقتدی تھے، معانی الآثار جسے شرح معانی الآثار بھی کہا جاتا ہے اس بات پر شاہد عدل ہے، اس کے مقدمہ میں امام طحاویؒ فرماتے ہیں: سألنی بعض أصحابنا من أهل العلم أن أضع له كتاباً أذكر فيه الآثار الماثورة عن رسول اللهﷺ فی الأحكام الخ۔

اس پوری عبارت میں وہ کئی باتوں کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں:

1: ان کی کتاب صرف احادیث احکام پر مشتمل ہوگی۔

2: اس میں حدیث مرفوع، موقوف، آثارِ صحابہ وغیرہ سب کا تذکرہ ہوگا۔

فقہاء کے اختلافات اور ان کی مستبدلات کا تذکرہ ہوگا۔

کتاب اللہ، سنت، اجماع، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کے آثار متواترہ کے ذریعہ سے ترجیح رائج کا اہتمام ہوگا۔

5: ناسخ و منسوخ کی تعیین کر کے احادیث کے ظاہری تضاد کو رفع کیا جائے گا بسا اوقات روایات میں کمی بیشی ہوتی ہے اور روایت بالمعنیٰ اور اختصار کے سبب بھی روایات میں اختلاف آجاتا ہے ، اس لیے جب تک اس باب سے متعلق تمام احادیث اور فقہائے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کے آراء سامنے نہ ہوں تو پورا اطمینان حاصل نہیں ہو سکے گا اس لیے امام طحاویؒ نے ہم عصر دوسرے اربابِ علم کی طرزِ تصنیف سے ہٹ کر اس بات کا التزام کیا کہ باب میں تمام روایات و آثار سامنے آجا ئیں۔

امام طحاویؒ معانی الآثار میں عموماً پہلے فریق مخالف کے مستدلات لاتے ہیں پھر اپنے نقطہ نظر کے موافق احادیث و آثار کو لاتے ہیں اور ان کی وجہ ترجیح بتاتے ہیں اور عمل صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین سے اس کی تائید پیش کرتے ہیں اور آخر میں نظر سے بھی اس کی ترجیح ثابت کرتے ہیں اور ہر وقت بحث کے آخر میں یہ تصریح کرتے ہیں کہ جس رائے کو انہوں نے رائج قرار دیا ہے یہ امام ابوحنیفہؒ اور صاحبینؒ کا مذہب ہے اور اگر ان حضرات میں اختلاف ہو تو اس کو بھی ذکر کرتے ہیں۔

البتہ فریقِ مخالف کا نام نہیں لیتے صرف ذهب قوم إلى هذه الآثار وخالفهم فی ذلك آخرون، کہہ دیتے ہیں، آثارِ مختلفہ میں امام طحاویؒ کی پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کسی طرح ظاہری تعارض و اختلاف کو ختم کر دیں اور ایسی تعبیر اور مفہوم پیش کر دیں کہ دونوں اخبار پر عمل ممکن ہو سکے اگر جمع ممکن نظر نہ آئے تو اگر یہاں نسخ کا مسئلہ ہو تو وہ بیان کر کے تعارض کو ختم کر دیتے ہیں اگر یہ بھی نہ ہو تو وجوہ ترجیح سے کسی ایک کی ترجیح ثابت کرتے ہیں امام طحاویؒ حسبِ معمول معانی الآثار میں بھی وہ منفرد طریقہ ترجیح اپناتے ہیں جس کے وہ خود موجد ہیں اور ان سے پہلے کسی کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی وہ یہ کہ ترجیح روایات میں صرف راویوں کے جرح و تعدیل پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ احکامِ منصوصہ سے اپنے قواعدِ کلیہ کا استخراج و استنباط بھی کرتے ہیں جس کے تحت مختلف مسائل فرعیہ آسکتے ہوں، اس کے بعد اگر کسی راوی کی روایت سے معلوم شدہ حکم ان جزئیات کے خلاف ہو تو امام طحاویؒ اسے علت قادحہ شمار کرتے ہیں جس کو عرف طلباء میں نظرِ طحاوی کہا جاتا ہے اور یہ ترجیح بالرای نہیں کہلائے گی بلکہ جس اصل کلی میں مختلف جزئیات و نظائر آتے ہیں وہ متواتر کے حکم میں ہوتا ہے اور جو روایت اس کے خلاف ہو وہ شاذ شمار ہوگی اور اعتبار کے اس درجہ تک نہیں پہنچ سکے گی کہ قابلِ استدلالی ہو تو یہ الأخذ بأقوى الحجج کے قبیل میں سے ہے۔

(دیکھیے الحاوی: صفحہ، 11) 

*شروح معانی الآثار:* 

معانی الآثار پر تخریج احادیث، شرح روایت، رجال اسناد، تلخیص وغیرہ کے اعتبار سے ہر زمانہ میں کام ہوتا آ رہا ہے چنانچہ ہم یہاں اس پر ہونے والے کام کی کچھ تفصیل ذکر کرتے ہیں:

1: علامہ بدرالدین عینیؒ نیمعانی الاخبار فی رجال معانی الآثار کے نام سے اس کے رجال پر بحث کی ہے پھر مزید دو جامع شروح بھی لکھی ہیں۔

2: نخب الافکار فی شرح معانی الآثار

3: مبانی الاخبار فی شرح معانی الآثار

4: حافظ عبد القادر قرشی صاحب الجواہر المضیہ نے احادیث کی تخریج کر کے الحاوی فی تخریج احادیث الطحاوی کے نام سے کتاب لکھی ہے۔

5: حافظ ابو محمد نے بھی معانی الآثار کی شرح لکھی ہے۔

6: حافظ ابنِ عبدالبرؒ نے معانی الآثار کی تلخیص کی ہے۔

7: حافظ زیلعی صاحب نصب الرایہ نے بھی اس کی تلخیص کی ہے۔

8: علامہ قاسم قطلوبغا نے رجالِ طحاوی پر الایثار برجال معانی الآثار کے نام سے کتاب لکھی ہے۔

9: مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃاللہ نے امانی الاخبار کے نام سے شرح لکھی ہے لیکن آپ کے انتقال کی وجہ سے یہ شرح باب الوتر سے آگے نہیں جاسکی۔

(مولانا محمد عاشق الہٰی رحمۃاللہ بلند شہری متوفی 1422ھ نے بھی مجانی الاثمار کے نام سے شرح لکھی ہے اور تبہیج الراوی کے نام سے احادیث کی تخریج کی ہے، اسی طرح مولانا محمد ایوب مظاہری نے بھی احادیث کی تخریج اور رجال معانی الآثار پر مشتمل ایک حاشیہ لکھا ہے جو کہ مکتبہ حقانیہ ملتان سے معانی الآثار کے ساتھ چھپا ہے)


صفحہ 4 از 4