امام طحاوی رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

امام طحاوی رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 3 از 4

لتأطرنه على الحق طرا کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: فوجدنا أهل اللغة يحكون فی ذلك عن الخليل بن أحمد أنه يقول: أطرت الشئ إذا ثنیته وعطفته وأطر كل شئ عطفه ووجدنا هم يحكون فی ذلك عن الأصمعی أنه قال: أطرت الشئ وأطرت: إذا أملته إليك ورددته إلى حاجتك فكان قول الرسول ولتأطرنه إلى تردونه إليه وتعطفونه عليه وتميلون إليه اسی طرح حدیث میں آتا ہے: لا يدخل الجنة ولد زنية تو یہاں یہ خیال آ سکتا ہے کہ زنا سے وجود میں آنے والے بچہ کا کیا قصور ہے کہ وہ جنت کا حقدار نہ ہو یہ تو وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزۡرَ اُخۡرٰى‌ الخ

(سورۃ الانعام آیت 164)

کے بظاہر خلاف ہے تو امام طحاویؒ فرماتے ہیں ( واللہ اعلم بمرادہ) جو آدمی کسی چیز کی مہارت اور ملابست اختیار کرتا ہے تو وہ اسی چیز کی طرف منسوب ہونے کا مستحق ہوتا ہے، مثلاً جن کا مطمح نظر دنیا ہے ان کو بنو الدنیا کہا جاتا ہے مسافر کو ابن السبیل کہتے ہیں تو اسی طرح ابن زنیہ کے معنیٰ ہوں گے جو زنا کا ارتکاب کرتا ہے اور زنا اس پر غالب ہوتا ہے۔

(ابو جعفر الطحاوی واثرہ فی الحدیث: صفحہ، 108، 109) 

 *امام طحاوی رحمۃاللہ ائمہ فن کی نظر میں:* 

محد ثین، اہلِ تاریخ اور اسماءُ الرجال کے ماہرین و محققین نے ہمیشہ امام طحاویؒ کی وقیع الفاظ میں تعریف کی ہے ، چنانچہ علامہ سیوطیؒ کہتے ہیں: الإمام العلامة الحافظ صاحب التصانيف البديعة، وكان ثقة ثبتا فقيها لم يخلف بعده مثله۔

علامہ ابنِ کثیرؒ فرماتے ہیں: هو أحد الثقات الأثبات والحفاظ الجهابذة علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں: امام طحاویؒ کی امانت اور ثقاہت پر سب علماء کا اجماع ہے علمِ حدیث عللِ حدیث اور ناسخ و مسنوخ میں ید طولی رکھتے تھے جن کے بعد ان کی خالی جگہ کوئی پر نہ کر سکا۔

علامہ کوثری یہاں لکھتے ہیں: کہ اگر صاحبِ انصاف ان کی اور ان کی معاصرین کی کتابوں کا بغور مطالعہ کرے تو اس فیصلے پر مجبور ہوگا کہ وہ قرآن وحدیث سے استنباط احکام اور فقہ میں سب معاصرین سے زیادہ مہارت رکھتے تھے۔

(الحاوی: صفحہ، 7)

 *امام طحاوی رحمۃاللہ مخالفین کی عبارت میں* 

امام طحاویؒ پر بعض اہلِ علم نے تنقید بھی کی ہے، ابوبکر بیہقی کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر طحاویؒ کی کتاب کا مطالعہ کیا سو اس میں بہت ساری ضعیف حدیثیں ہیں جن کو اس نے اپنے مذہب کی تائید کے لیے صحیح قرار دیا ہے اور جو صحیح حدیثیں ان کے خلاف جاتی ہیں ان کی وہ تضعیف کرتے ہیں، حافظ عبد القادر قرشی کہتے ہیں کہ ہمارے استاذ ( قاضی علاء الدین) نے مجھے اس بارے میں تفتیش و تحقیق کا حکم دیا اور میں نے نظرِ دقیق و عمیق سے معانی الآثار اور اس کی اسناد کا مطالعہ کیا، پھر حافظ قرشی قسم کھا کر کہتے ہیں: واللہ! بیہقی کی بات کا کوئی اشارہ بھی مجھے اس کتاب میں نہیں ملا، پھر حافظ مشرقی کے استاذ نے بیقہی کی کتاب السنن الکبریٰ پر تحقیق کر کے ثابت کیا ہے کہ خود امام بیہقی رحمۃاللہ اپنے مذہب کی تائید کے لیے کسی راوی کی توثیق کرتے ہیں اور دوسرے ہی صفحہ میں اس آدمی کی تضعیف اس بناء پر کرتے ہیں کہ اس کی روایت ان کے خلاف جاتی ہے۔

(الجواہر المضیۃ: جلد، 2 صفحہ، 431، 432 حافظ عبد القادر قرشی نے معانی الآثار پر جو کام کیا ہے وہ الحاوی فی بیان آثار الطحاوی اور ان کے استاذ نے سننِ کبیر بیقہی پر جو تحقیق کا کام کیا ہے وہ الجوهر النقی فی الرد على سنن البيقہی کے نام سے مشہور ہے)

ابنِ تیمیہ رحمۃاللہ اپنی کتاب المنہاج میں لکھتے ہیں کہ امام طحاویؒ اگرچہ عالم، فقیہ اور كثير الحدیث تھے، لیکن نقد احادیث میں اور اسناد کی صحت و سقم کی شناخت میں زیادہ نظر دقیق نہیں رکھتے تھے اور بسا اوقات قیاس کے ذریعے سے کسی حدیث کو راجح اور دوسرے کو مرجوح قرار دیتے تھے۔ (منہاج السنیۃ لابن تیمیہ: جلد، 4 صفحہ، 185، 195) 

علامہ کوثری کہتے ہیں کہ اس الزام کی بنیاد یہ ہے کہ امام طحاویؒ نے حدیث رد الشمس لعلی کو صیح قرار دیا ہے جو کہ ابنِ تیمیہؒ کے نظریہ کے خلاف ہے اور یہ سوائے عناد کے اور کچھ نہیں اس لیے کہ بہت سارے محدثین نے اس کی تصحیح کی ہے، چاہے ابن تیمیہؒ اس پر راضی ہوں یا ناراض 

(الحاوی فی سیرۃ الامام الطحاوی مطبوع مع معانی الآثار: صفحہ، 13)

*تصانیف:* 

امام طحاوی رحمۃاللہ نے اپنی پایندہ تصنیف معانی الآثار کے علاوہ بھی بہت ساری ایسی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں جو کہ اہلِ علم و تحقیق کے لیے آبِ حیات سے کم نہیں، ذیل میں ان میں سے بعض کا تذکرہ ہوگا۔

1: مشکل الآثار: جو کہ مشکل الحدیث کے نام سے مشہور ہے، اس میں احادیث کے درمیان ظاہری تضاد کی نفی اور احادیث سے استخراج احکام کا بیان ہے، بعد میں ابوالولید ابنِ رشد نے اس کی تلخیص کی اور اس پر کچھ اعتراضات بھی کئے علامہ بدرالدین عینی کے استاذ قاضی جمال الدین یوسف بن موسیٰ نے اس تلخیص کی تلخیص کی ہے اور تمام اعتراضات کے جوابات بھی دیئے جو کہ المعتصر من المختصر کے نام سے مشہور ہے۔

2: اختلاف العلماء: یہ بھی ایک مفصل کتاب تھی جس کی تلخیص ابو بکر رازی نے کی ہے۔

3: احکام القرآن: قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ إن للطحاوی ألف ورقة فی تفسیر القرآن جس سے آپ کی علم تفسیر میں مہارت کاملہ کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے۔

4: الشروط: کے نام سے امام طحاویؒ کی تین کتابیں مشہور ہیں۔

5: شروطِ کبیر 

6 شروطِ اوسط 

7- شروطِ صغیر

مختصر الطحاوی: یہ فقہ حنفی کی کتاب ہے، جس کی شرح امام ابوبکر رازی جصاص، شمس الائمہ سرخی اور دیگر نے کی ہے، علامہ ابنِ حجرؒ نے اس نام کی دو کتابوں کا تذکرہ کیا ہے مختصر صغیر و مختصر کبیر ۔

9: النوادر الفقہیہ 

10: النوادر و الحکایات

 11: حکم ارض مکۃ 

12: قسم الفقئ والغنائم 

13: النقض علی الکراسی 

14: شرح جامع صغیر 

15: شرح جامع کبیر

16: سننِ شافعی

17: کتاب المحاضر والسجلات وغیرہ۔

18: عقیدۃ الطحاوی: ایک مختصر مگر جامع و مانع کتاب ہے جس کی صحت پر تمام اہلِ علم متفق ہیں۔

مولانا محمد یوسف کاندھلوی رحمۃاللہ نے بروکلمان کی کتاب ادب عرب کی تاریخ کے حوالہ سے ایک اور تصنیف صحیح الآثار کے نام سے اضافہ کیا ہے لیکن یہ غلط ہے۔

صفحہ 3 از 4