امام طحاوی رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

امام طحاوی رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 2 از 4

مصر میں علی بن ابی عمران اور بکار بن قتیبہ سے فقہ حاصل کیا، اسی طرح ایک جمِ غفیر نے امام طحاویؒ سے شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے جن میں ان کے صاحبزادے علی بن احمد، ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، ابوسعید عبد الرحمٰن بن احمد مصری وغیرہ شامل ہیں (الحاوی: صفحہ، 5 ولسان المیزان: جلد، 1 صفحہ، 274 

امام طحاوی رحمۃاللہ کا فقہی مسلک:

امام طحاویؒ کے ماموں ابوابراہیم اسماعیل بن یحییٰ مزنی امام شافعیؒ کے کبار تلامذہ میں سے تھے اور فقہ پر کامل دسترس رکھتے تھے اور یہ بات پہلے آچکی ہے کہ امام طحاویؒ نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے ماموں شیخ مزنی سے استفادہ کیا ہے اور طبعی طور پر وہ پہلے فقہ شافعی کی طرف مائل بھی تھے لیکن بعد میں انہوں نے یہ مسلک چھوڑ دیا اور فقہ حنفی کی طرف آگئے اس کی وجہ کیا بنی؟ اس بارے میں بعض کہتے ہیں کہ امام طحاویؒ کے ماموں ایک دن ان پر غصہ ہوئے اور کہا: والله لا جاء منك شئی جس پر امام طحاویؒ کو رنج ہوا اور ابو عمران حنفی قاضی مصر کی مجلس میں جانے لگے اور حنفی مسلک کو اپنایا بعد میں جب مختصر کی تصنیف سے فارغ ہو گئے تو فرمایا: رحم الله أبا إبراهيم لو كان حيا لكفر عن يمينه۔

بعض نے کہا کہ امام طحاویؒ حنفیہ کی کتابوں کا زیادہ مطالعہ کرتے تھے اس لیے ماموں کو غصہ آیا اور کہنے لگے: والله ما جاء منك شئی

حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ امام طحاوی رحمۃاللہ نے جو لكفر عن يمينه فرمایا ہے یہ امام شافعیؒ کے مذہب کی بناء پر ہے، ورنہ حنیفہ کے نزدیک اس طرح کی قسم لغو یا غموس ہوتی ہے جس میں کفارہ نہیں آتا، علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمۃاللہ لکھتے ہیں کہ بعض علماء نے فعل مضارع (لایجیء) نقل کیا ہے۔

(البدایۃ والنہایۃ: جلد، 11 صفحہ، 147) 

تو اس صورت میں ہمارے یہاں بھی کفارہ واجب ہوگا۔

(الفوائد البہیہ فی تراجم الحنفیہ: صفحہ، 32 البتہ علامہ زاہد کوثری کی عبارت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امام مزنی کی رائے کفارہ کے بارے میں حنفیہ کی رائے کے مطابق ہے کہ یمینِ غموس میں کفارہ نہیں ہوتا، دیکھیے، الحاوی' صفحہ، 8) 

لیکن اس روایت کی کوئی معتد بہ سند نہیں ہے، دوسری بات یہ ہے کہ امام مزنی خود بھی حنفیہ کی کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرتے تھے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ اس بنیاد پر امام طحاویؒ پر غصہ کریں؟

اس بارے میں ابوسلیمان بن زبر خود امام طحاویؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ میں پہلے امام شافعیؒ کے مسلک پر تھا کچھ عرصہ بعد احمد بن ابی عمران کی مجلس میں جانے لگا اور حنفیہ کے قول کو اپنایا (اور یہ مزنی کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے) اس طرح محمد بن احمد شروطی کا قول ہے کہ انہوں نے امام طحاویؒ سے پوچھا: لم خالفت مذهب خالك؟ واخترت مذهب أبی حنيفة؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں اپنے ماموں مزنی کو دیکھتا تھا کہ ہر وقت حنفیہ کی کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے ( متو میں نے بھی مطالعہ شروع کیا) اور حنفیہ کی طرف مائل ہو گیا، علامہ کوثری لکھتے ہیں: بظاہر یہ دونوں روایتیں زیادہ صحیح ہیں کہ براہِ راست خود امام طحاویؒ سے مروی ہیں اور دوسری روایات اشکال سے خالی نہیں ہیں (الحاوی: صفحہ، 8، 9) 

*طبقات فقہاء حنفیہ میں امام طحاوی رحمۃاللہ کا مقام:*

علامہ شامی نے ابنِ کمال باشا کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام طحاویؒ کا شمار مجتہدین فی المسائل میں ہوتا ہے جیسے کہ علامہ کرخی، خصاف، حلوانی، سرخسی ، بزدوی وغیرہ ہیں، یعنی یہ حضرات اصول و فروع میں اپنے امام کی مخالفت نہیں کرتے بلکہ اپنے امام کے اصول وقواعد کو سامنے رکھ کر ان مسائل کے احکام کا استنباط کرتے ہیں جن کے بارے میں صاحبِ مذہب سے کوئی روایت نہ ہو۔

(فتاویٰ شامی: جلد، 1 صفحہ، 57 مطبوع جامعہ رشیدیہ کوئٹہ) 

لیکن علامہ عبد الحئی لکھنویؒ الفوائد البهية میں اس قول کو ذکر کر کے لکھتے ہیں: یہ فیصلہ محلِ نظر ہے، امام طحاویؒ کی کتابوں کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اصول و فروع کے کافی مسائل میں صاحبِ مذہب سے اختلاف کیا ہے، اس لیے وہ مجتہد منتسب الی ابی حنیفہ ہونگے یعنی وہ اصول و فروع میں کسی امام کی پیروی نہیں کرتے، البتہ اپنی نسبت کسی امام کی طرف اس لیے کرتے ہیں کہ اجتہاد میں ان کے طرز و طریقہ کو اپناتے ہیں اور اگر یہ فیصلہ تسلیم نہ ہو تو کم از کم امام طحاویؒ مجتهد فی المذہب ضرور ہیں جیسے کہ امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ ہیں اور پھر انہوں نے اپنی تائید میں شاہ ولی اللہؒ کے فیصلے کو نقل کیا ہے۔ 

(الفوائد البہیۃ فی تراجم الحنفیہ: صفحہ، 31)

 *امام طحاوی رحمۃاللہ بحیثیت مفسر:* 

تفسیر قرآنِ کریم اور آیاتِ احکام کی تشریح ان علوم میں سے ہیں جن میں امام طحاویؒ کو کامل دسترس تھی اور اس علم میں ان کی تصنیفات بھی ہیں، چنانچہ احکامُ القرآن کے نام سے بیس اجزاء میں انہوں نے تفسیر لکھی تھی صاحبِ کشف الظنون نے قاضی عیاض کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ امام طحاویؒ کی ایک تصنیف نوادر القرآن ایک ہزار صفحات پر مشتمل تھی امام طحاویؒ کی تفسیر اگرچہ ہم تک نہیں پہنچ سکی لیکن معانی الآثار کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تفسیر میں امام طحاویؒ کا طریقہ ان کے معاصر مفسر ابنِ جریر طبری کی طرز تفسیر سے مشابہ ہے کہ اس میں اقوالِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین اور عرب کے استعمالات کو سامنے رکھ کر تفسیر کرتے ہیں۔

 *امام طحاوی رحمۃاللہ اور علم قرات:* 

علم قراءۃ میں بھی امام طحاویؒ نے اتنی مہارت حاصل کی کہ اپنا نام طبقات قراء میں درج کرا گئے، وہ موسیٰ بن عیسیٰ کی قراءت کی روایت کرتے ہیں اور عاصم ابن ابی النجود کی قراءة کو ترجیح دیتے تھے اگرچہ تمام قراءات اور ان کے راویوں سے خوب آگاہ تھے۔ (ابو جعفر الطحاوی واثرہ فی الحدیث: صفحہ، 113) 

*امام طحاوی رحمۃاللہ اور علم لغت:* 

امام طحاویؒ نے علم نحو و لغت محمود بن حسان سے حاصل کیا ہے اور اس فن میں بھی وہ درجہ کمال کو پہنچے چنانچہ معانی الآثار کے مطالعہ سے جابجا علمِ لغت میں ان کا کمال واضح ہوتا ہے۔

صفحہ 2 از 4