امام طحاوی رحمۃاللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

امام طحاوی رحمۃاللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 4

 *نسب و نسبت:*

ابو جعفر احمد بن محمد بن سلامه بن سلمة بن عبد الملک الازدى الحجرى المصرى الطحاوی، ابنِ خلکان نے آپ کے جدِ ثانی سلمہ کو ذکر نہیں کیا ہے۔ 

(وفیات العیان: جلد، 1 صفحہ، 71)

 بعض حضرات نے لکھا ہے کہ علامہ سمعانی نے مختلف مقامات میں امام طحاویؒ کا تذکرہ کیا ہے اور ہر جگہ جدِ اول کے نام میں اختلاف ہے، سلامت، سلام اور سلمۃ تینوں نام ملتے ہیں (ابو جعفر الطحاوی واثرہ فی الحدیث: صفحہ، 41، 42) 

لیکن یہ نقل کی غلطی ہوگی اس لیے کہ جو نسخہ ہمارے پاس ہے اس میں اس طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔

 *ازدی:* 

یہ نسبت ہے ازد بن غوث کی طرف جسے ازدشنوءۃ کہا جاتا ہے، اسی طرح ازد بن عمران بن عامر کی طرف بھی نسبت ہے اور ایک نسبت ہے حجر بن عمران کی طرف، جسے ازدِ حجر کہا جاتا ہے امام طحاویؒ کی نسبت میں جو ازدی کہا جاتا ہے اس سے یہی ازدِ حجر مراد ہے۔

(الانساب: جلد، 1 صفحہ, 130)

حجرہ:

حاء کے فتحہ اور جیم کے سکون کے ساتھ، علامہ سمعانی لکھتے ہیں کہ تین قبائل ہیں جن کو حجری کہا جاتا ہے، حجر حمیر، حجر رعین اور حجر الازد، امام طحاویؒ کا تعلق آخر الذکر قبیلہ سے ہے۔

(الانساب: جلد، 2 صفحہ، 179)

 *مصری:* 

یہ مشہور ملک مصر کی طرف نسبت ہے جسے قدیم زمان میں بابلیون بھی کہا جاتا تھا، جو اس کے بانی مصر بن مصر ایم بن حام بن نوح کی طرف نسبت کی وجہ سے مصر کے نام سے مشہور ہے۔

(معجم البلدان: جلد، 5 صفحہ، 137)

 *طحاوی:* 

طحا (طاء اور حا کے فتحہ کے ساتھ) مصر کے ایک گاؤں کا نام ہے کہا جاتا ہے کہ امام طحاویؒ طحا کے رہنے والے نہیں تھے بلکہ اس کے قریب طحطوط نامی گاؤں کے تھے لیکن ان کو طحطوطی کہلوانا پسند نہ تھا اس لئے طحا کی طرف نسبت کرتے ہیں۔ 

(معجم البلدان: جلد، 4 صفحہ، 22)

 *ولادت و رحلت:* 

امام طحاویؒ کی تاریخ ولادت میں دو مشہور قول ملتے ہیں جن کا باہمی فرق کافی زیادہ ہے، ابنِ خلکان نے تاریخ ولادت کے بارے میں 238ھ اور 229ھ کو نقل کیا ہے اور دوسرے قول (229 ھ) کو راجح قرار دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ علامہ سمعانی سے مروی ہے 

(وفیات الاعیان: جلد، 1 صفحہ، 72) 

علامہ عبدالحئی لکھنوی رحمۃاللہ نے بھی 229 ھ کے قول کو نقل کر کے 230ھ کو قیل کے ساتھ بیان کیا ہے (فوائد البھیۃ صفحہ 32 ) علامہ عینی نے بھی اس قول کو راجح قرار دیا ہے۔

(الحاوی فی سیرۃ االاما الطحاوی مطبوع مع معانی الآثار: جلد، 1 صفحہ، 4) 

لیکن علامہ ذہبیذہبیؒ، ابن حجرحجرؒ، یاقوت حموی، شاہ عبدالعزیز رحمۃاللہ و دیگر نے 239 ھ کو نقل کیا ہے۔

(معجم البلدان: جلد، 4 صفحہ، 22 سیر اعلام النبلاء: جلد، 15 صفحہ، 28 بستان المحدثین: صفحہ، 228) 

علامہ زاہد کوثری نے لکھا ہے کہ الجواہر المضية میں ابوسعید بن یونس کا بیان ہے قال الطحاوی ولدت سنة تسع وثلاثين ومائتین تو چونکہ یہ قول خود امام صاحبؒ سے مروی ہے اس لیے اس کو راجح کہا جائے گا۔ 

(الحاوی: صفحہ، 4) 

لیکن یہاں ایک بات تو یہ ہے کہ ہمارے پاس الجواہر المضیہ کے موجودہ نسخہ میں عبارت یوں ہے: قال الطحاوی: ولدت سنة تسع وثلاثين و مائتین اور ابنِ عساکر نے ابنِ یونس ہی سے 239ھ کے قول کو نقل کیا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ بہت سارے متقدمین اور متاخرین محققین نے 239ھ کے قول کو بیان کیا ہے بعض حضرات صاحبُ الانساب کے حوالہ سے 239ھ کا قول بیان کرتے ہیں اور تیسری بات یہ ہے کہ الانساب کا جو نسخہ ہمارے پاس ہے اس میں دو جگہ طحاوی کی ولادت کا تذکرہ ہے اور ہر جگہ 239ھ ہی مذکور ہے۔

(الانساب مطبوع دار الجنان: جلد، 2 صفحہ، 179 جلد، 4 صفحہ، 53)

حضرت امام طحاویؒ کی وفات بروز جمعرات ذوالقعدہ ۳۲۱ھ کو مصر میں ہوئی تو پہلے قول 229ھ کے مطابق امام صاحبؒ کی عمر بیانوے سال ہوگی اس حساب سے لفظِ مصطفیٰ سے تاریخِ ولادت 229ھ اور محمد سے مدت عمر 92 اور محمد مصطفیٰ سے تاریخِ وفات 321ھ نکلتی ہے اور دوسرے قول کے مطابق امام طحاویؒ کی عمر بیاسی سال ہوگی۔ 

*امام طحاوی رحمۃاللہ کی صحاحِ ستہ کے مصنفین سے معاصرت اور بعض اساتذہ میں مشارکت:*

شیخ کوثری علامہ عینی رحمۃاللہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ امام طحاویؒ کی تاریخِ ولادت و وفات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام طحاویؒ کی عمر امام بخاریؒ (متوفی 256ھ) کی وفات کے وقت 27 سال (دوسرے قول کے مطابق 17سال) امام مسلمؒ (متوفی 261 ھ) کی وفات کے وقت 32 سال (بنا بر قول ثانی 22 سال) بوقتِ انتقال ابو داؤد (متوفی 275ھ) 46 سال (دوسرے قول کے مطابق 36 سال) امام ترمذیؒ (متوفی 279ھ) کی وفات کے وقت 50 سال (40 سال) امام نسائیؒ رحمۃاللہ (متوفی 303ھ) کی وفات کے موقع پر 70 سال یا 60 سال) اور امام ابنِ ماجہؒ (متوفی 273ھ) کی رحلت آخرت کے وقت 44 سال (یا 34 سال) اور امام احمد بن حنبلؒ (متوفی 241ھ) کے انتقال کے وقت 12 سال (یا 2 سال) تھی۔ 

(الحاوی مطبوع مع معانی الآثار: صفحہ، 4)

امام طحاویؒ امام مسلمؒ، ابوداؤدؒ، نسائیؒ، اور ابن ماجہؒ کے ساتھ بعض مشایخ اور اساتذہ میں بھی شریک ہیں مثلاً ہارون بن سعید اجلیؒ، ربیع بن سلمانؒ، ابوموسیٰ یونس بن عبدالاعلیؒ وغیرہ۔

*اساتذہ و تلامذه:*

امام طحاویؒ نے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ اپنے ماموں مزنی سے استفادہ کیا ہے اور ان ہی کے واسطے سے مسندِ شافعی کی روایت بھی کرتے ہیں، علامہ کوثری کہتے ہیں کہ امام نے اپنے والد سے بھی سماع کیا ہے ان کے علاوہ امام طحاویؒ کے اساتذہ کی فہرست کافی طویل ہے جسے دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ امام طحاویؒ نے مصر، یمن، بصرہ، کوفہ، حجاز، شام، خراسان اور دیگر دیارِ اسلامیہ کے علماء سے استفادہ کیا ہے اور حصولِ فقہ کے لیے دمشق گئے اور قاضی ابو خازم عبدالحمید سے خوب استفادہ کیا۔

(البدایہ والنہایہ اور بعض دوسری کتابوں میں دمشق کے قاضی کی کنیت ابو حازم حاء مہملہ کے ساتھ آئی ہے حافظ ابنِ حجرؒ کہتے ہیں یہ غلط ہے صحیح ابو خازم، خاء معجمہ کے ساتھ ہے۔ 

( البدایۃ والنہایہ : جلد، 1 صفحہ، 174، ولسان المیزان: جلد، 1 صفحہ، 275) 

صفحہ 1 از 4