زکوٰۃ کے اخراجات - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

زکوٰۃ کے اخراجات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

بے شک سیدنا عمرؓ نے تالیف قلب کے طور پر اموالِ زکوٰۃ کے مستحقین کے بارے میں وارد شدہ نص قرآنی سے متعلق جمود کا مؤقف اختیار نہیں کیا، بلکہ نص قرآنی کی گہرائی میں اتر کر آپؓ نے سمجھ لیا کہ اس حصہ کا مقصد اشراف عرب کو اسلام میں داخل کر کے اسلام کو قوی اور غالب بنانا ہے اور ان میں جو لوگ راضی برضا خود بخود اسلام لے آئیں انہیں اسلام پر قائم رکھنا ہے۔ گویا آپؓ نے نص قرآنی کے ظاہری الفاظ سے قطع نظر اس کی علت پر غور کیا اور چونکہ آپؓ کے عہد خلافت میں اللہ نے اسلام کو مضبوط اور غالب کر دیا تھا اور مسلمانوں کی تعداد بہت ہو چکی تھی لہٰذا آپؓ نے سوچا کہ اب تالیف قلب کی خاطر دیا جانے والا مال لینے والوں کے حق میں باعث ذلت و رسوائی ہے، اور جس علت کی بنا پر اللہ نے ان کے لیے حصہ مقرر کیا تھا اب وہ علت ختم ہو چکی ہے۔ اسی نظریہ کے تحت آپ نے ان کا حصہ موقوف کر دیا، اور اسی مبنی بر حکمت فاروقی اقدام کے پیش نظر ہم یہ کہتے ہیں کہ تالیف قلب کے نام سے اموالِ زکوٰۃ کے مصارف پر پابندی لگا کر حضرت عمرؓ نے کسی قرآنی نص کو معطل نہیں کیا، کیونکہ کسی شرعی حکم کو معطل کرنا اسے منسوخ کرنے کے مترادف ہے اور منسوخ کرنے کا حق صرف صاحب شریعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچتا ہے، پس وفات رسولﷺ کے بعد کسی شرعی حکم کے لیے نسخ ہے ہی نہیں۔ 

(الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی: صفحہ 132، 133 )

حضرت عمر فاروقؓ کی نگاہِ بصیرت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جن احوال و اسباب کی رعایت پر شرعی نصوص قائم ہیں ان کی تبدیلی اور تغیر پر آپؓ کی نگاہ ہوتی تھی اور اس کا خیال رکھتے تھے، صرف ظاہری نص پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے جیسے کہ اس سے پہلے بات گزر چکی ہے۔ 

(الاجتہاد فی الفقہ الإسلامی: صفحہ 136)

اموالِ زکوٰۃ کے مصارف و اخراجات میں یہ چیزیں بھی شامل تھیں کہ اسے گردن آزاد کرانے، قرض داروں، مسافروں اور جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کیا جاتا تھا، چنانچہ قرآنِ کریم نے مسافروں پر توجہ دی، اموال زکوٰۃ، فے اور غنیمت کے خمس میں ان کا حصہ مقرر کیا، اجنبی اور زادِ راہ ختم ہو جانے والے یا لٹ جانے والے مسافروں پر ایسی خاص توجہ فرمائی کہ دنیا کے کسی نظام اور شریعت میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ نبی کریمﷺ کی سنت اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے اس خصوصی عنایت کی عملی مثالیں فراہم کرتے ہیں اور اسی اسوۂ حسنہ کو زندہ رکھتے ہوئے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے عہد میں ’’دار الدقیق‘‘ کے نام سے ایک عمارت بنوائی، آٹا، ستو، کھجور، کشمش اور دیگر ضروریات سفر جن کی ایک مسافر کو جس کا زادِ راہ ختم ہو گیا ہو اور آنے والے مہمان کو ضرورت ہوتی ہے، یہ ساری چیزیں اس میں رکھتے تھے، مکہ و مدینہ کی درمیانی گزرگاہوں پر آپؓ نے کچھ سرائے خانے بنوائے جو لٹے ہوئے یا زادِ راہ ختم ہو جانے والے مسافروں کے لیے معاون ثابت ہو سکیں اور چشمے سے دوسرے چشمے تک ان کو پہنچانے کا ذریعہ بنیں۔ 

(الطبقات: ابن سعد: جلد 3 صفحہ 283)

اسلامی سلطنت کے لیے ضروری ہے کہ مستحقین زکوٰۃ والی آیت کریمہ میں جن آٹھ اصناف کی تحدید کی گئی ہے ان کو ڈھونڈے اور ان کی خبر گیری کرے، ہر شہر میں مردم شماری کے مقام، دفاتر و دواوین ہوں، پھر ان سب کی معلومات حکومت کے مرکزی دفتروں میں بھی موجود ہوں۔ عہد خلافت راشدہ میں صدقات و زکوٰۃ کا ایک مرکزی دیوان ہوتا تھا اور پھر دیگر ریاستوں میں اس کی شاخیں ہوا کرتی تھیں، لیکن یہ تنظیم اس وقت ہوئی جب مردم شماری کے دفاتر و رجسٹر حضرت عمرؓ کے عہد میں تیار کر لیے گئے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 184)

مستحقین زکوٰۃ کی آٹھوں قسمیں جن کا ذکر آیت کریمہ میں ہوا ہے اگر ہم دقت نظری سے اس کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ جہاد فی سبیل اللہ، اسلامی افواج کی تیاری، فقر کے خاتمہ، قرض کی ادائیگی اور ضرورت مندوں کی ضرورت کی تکمیل جیسی اہم دینی، سیاسی اور معاشرتی مصلحتوں و مفادات کو شامل ہے۔ مختصر لفظوں میں یہ کہ آیت کریمہ معاشرہ کے تمام تقاضوں اور سماج میں تمام لوگوں کے درمیان باہمی محبت، رواداری اور امن و سکون کا ماحول پیدا کرنے کے اہم اسباب کو سمیٹے ہوئے ہے۔ 

(سیاسۃ المال فی الإسلام: صفحہ 184)


صفحہ 2 از 2