سوال:حضرت آپ نے جو کتاب کے بارے میں بتایا تاریخِ شیعیت تو…
زبان تبدیل کریں:

سوال:

حضرت آپ نے جو کتاب کے بارے میں بتایا تاریخِ شیعیت تو وہ تو ٹھیک ہے پر جو قرآنی تناظر کہا اس کی سمجھ نہیں آئی اور اس کے بارے میں کون سکھائے یا بتائے گا کیا آپ اس بارے میں سمجھا سکتے ہیں؟

سوال پوچھنے والے کا نام:  

جواب:

جی ہاں کیوں نہیں ایک جھلک تو ابھی عرض کیے دیتا ہوں شوق ہو تو بالمشافہ شرف زیارت عنایت فرمایئے. 

فی الوقت یہ عرض ہے کہ اسلام کا سب سے پہلا عقیدہ تو سب عام و خاص جانتے ہیں کہ وہ عقیدہ توحید ہے مگر شاید اس پر کسی نے سوچا بھی نہ ہو کہ جب اسلام کے عقائد میں کوئی پہلا تو کوئی دوسرا عقیدہ ہے تو اس کی جو ضد ہے یعنی کفر اس کے عقائد میں بھی تو کوئی اکائی ہوگی یعنی اس کا بھی تو کوئی پہلا عقیدہ ہوگا آخر وہ کیا ہے؟ قران پاک ہمیں بتاتا ہے کہ 

كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً  

یعنی سب لوگ ایک ہی دین پر چلے آتے تھے۔

پھر اختلاف والے لوگ پیدا ہو گئے۔ یہ اللہ کے بھیجے ہوئے ایک ہی دین سے اختلاف کرنے والا گروہ کب پیدا ہوا؟ اس بارے میں کوئی دو رائے نہیں سب اہل علم بتاتے ہیں کہ حضرت ادریس علیہ الصلوۃ والسلام تک ایک ہی دین عقیدہ اور عمل سب لوگوں میں جاری رہا یہاں تک کہ حضرت ادریس علیہ السلام فوت ہو گئے اور ان کی جگہ ان کے پانچ لائق اور قابل شاگردوں نے اللہ کے دین کو لوگوں میں پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ ان پانچ حضرات کا بھی انتقال ہو گیا تب عدوااللہ شیطان کو موقعہ ملا اور اس نے اپنا کھیل شروع کیا۔ 

سب سے پہلے اس نے لوگوں کے دل میں ڈالا کہ ان کی اپنے ان بزرگوں کی تصویریں بنا کر اپنے سامنے رکھ لو پھر دیکھو کہ عبادت میں تمہارا دل کیسے لگتا ہے یہ بات ان کو اچھی لگی اور انہوں نے تصویریں بنا کر ان سے اظہار محبت اور اللہ کی عبادت کا سلسلہ جاری رکھا رفتہ رفتہ ان پانچ حضرات سے محبت میں غلو بڑھتا چلا گیا حد یہاں جا پہنچی کہ ان اللہ کے بندوں کو ہی اللہ کے اوصاف کا حامل بنا کر دکھایا گیا۔ چنانچہ اللہ جل شانہ نے حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام کو ان کی طرف مبعوث فرمایا جنہوں نے لگ بھگ 10 صدیوں تک اس قوم کو یہ حقیقت سمجھاتے گزار دی کہ کوئی ولی اللہ ہو یا اللہ کا نبی وہ اپنی نیکی اور بزرگی کی وجہ سے اللہ نہیں بن جاتا نہ وہ اللہ کے کاموں میں کارساز اور شریک بنتا ہے لہٰذا تم ایک اللہ کو مانو اور اسی کی عظمت دل کے اندر بٹھاؤ مگر مجال ہے جو ان کے کانوں پر جو بھی رینگی تھی قرآن پاک میں سورۃ نوح میں ان کا حال نقل کیا ہے کہ ایک طرف اللہ کا نبی کھڑے ہو کر ان کو توحید کی دعوت دیتا تو اس کے مقابلہ میں ان کا کوئی ذاکر منہ بھر کر یہ مجلس پڑھتا کہ 

وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا 

پنج تن کی اصطلاح عربی الفاظ پر مشتمل نہیں عجمیوں کی اختراع ہے جس اصل قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہو رہی ہے۔ 

ہماری درج بالا گزارشات سے واضح ہو گیا کہ جس طرح دینِ حق کا پہلا عقیدہ توحید ہے اسی طرح کفر و شرک کا اوّلین عقیدہ اللہ کے پانچ نیک و صالح بندوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات میں شریک ٹھہرانا ہے یہ بیان قرآن کریم کی درج بالا آیت میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ 

اب ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ جنہوں نے دین حق کے عقیدہ توحید سے مقابلہ کرتے ہوئے پانچ صالحین کو اللہ تعالیٰ کے اوصاف کا حامل بنا لیا اللہ تعالیٰ نے ان کا نام کیا بتایا ہے؟

سورۃ الحجر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

وَلَـقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِكَ فِىۡ شِيَعِ الۡاَوَّلِيۡنَ‏ وَمَا يَاۡتِيۡهِمۡ مِّنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا كَانُوۡا بِهٖ يَسۡتَهۡزِءُوۡنَ‏ 

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے۔ اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس کا استہزاء کرتے ہیں۔

اس مقام پر اللہ جل شانہ نے انبیاء کا استہزاء کرنے والوں کا نام شیعہ الاولین بتایا ہے غور فرمائیں کہ حضرت نوح علیہ السلام سے پہلے جتنے بھی انبیاء آئے ہیں کسی بھی نبی کا استہزاء نہیں کیا گیا بس جب وصف نہ پایا گیا تو موصول بھی نہ پائے گئے معلوم ہوا کہ حضرت نوح علیہ الصلاۃ والسلام جن سے قوم نے استہزاء کا سلسلہ شروع کیا قرآن پاک میں ان کو شیع الاولین کہا گیا ہے پھر انبیاء سے استہزاء کا سلسلہ نبی کریمﷺ تک جاری رہا اور جو جو نبی کا استہزاء کرتے رہے ان کا تعارف اسی نام سے کروایا جاتا رہا۔ 

اب سوال یہ ہے کہ نام تو لفظ *شیع* سے معلوم ہو گیا *الاولین* کا اضافہ کیوں لایا گیا؟ اہل علم کا بیان ہے کہ الاولین دراصل الاخرین کی طرف اشارہ ہے گویا ''من قبلک شیع الاولین'' اور ''من بعدک شیع الآخرین'' یعنی آپ سے پہلے جو انبیاء سے استہزاء کرنے والے ہو گزرے ہیں وہ ''شیع الاولین'' ہیں اور آپ کے بعد جو استہزاء کرنے والے آئیں گے وہ ''شیع الاخرین'' ہوں گے۔

نبی کریمﷺ سے پہلے تو انبیاء آتے رہے ہیں۔ لہٰذا وہاں استہزاء والوں کا پہچاننا واضح ہے مگر نبی کریمﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہو گیا اب نبی تو نہیں آئیں گے ہاں البتہ منصبِ نبوت کی جگہ اللہ جل شانہ نے منصبِ خلافت کو شروع فرمایا جیسا کہ اہل علم جانتے ہیں اب نبی کریمﷺ سے پہلے جو لوگ انبیاء سے استہزاء کرتے تھے وہ معلوم و معروف ہیں۔ 

جو منصبِ خلافت پر فیض ہونے والوں کا استہزاء کرتے تھے وہ کون تھے؟

قرآن کریم میں ان مجرموں کا اعتراف جرم نقل فرماتے ہیں 

 اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَہۡزِءُوۡنَ 

یعنی ہم تو ان کا صرف مذاق اڑانے والے ہیں۔

یہ ہے اس دین کی ابتدا اور نقطہ آغاز جن نام ''شیع'' عقیدہ پنج عادت اور نشانی تبرا ہے۔ 

فتدبروا یا اولی الابصار