سوال:
معیارِ حق ہونے کا مطلب کیا ہے؟ نیز کیا تمام صحابۂ رسول معیار حق ہیں؟
سوال پوچھنے والے کا نام:جواب:
"معیار" کا معنٰی ہے:" کسوٹی، جانچنے اور پرکھنے کا آلہ"، معیارِ حق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس کو دیکھ کر حق اور باطل میں امتیاز ہو جائے اور جس کی اتباع کرنے سے آدمی حق کو پالیتا ہو۔
اہل سنت و الجماعت کے نزدیک رسول اللہﷺ کے تمام صحابہ معیارِ حق ہیں، صحابہؓ نے نبی کریمﷺ سے جس قدر دین برحق سیکھا وہ بعد میں آنے والوں تک بعینہ اسی طرح پہنچایا، اس میں اپنی طرف سے کوئی اضافہ نہیں کیا، کوئی حکم نہیں بدلا، کوئی بات آنحضرتﷺ کی طرف غلط منسوب نہیں کی، جس بات کو صحابہ کرامؓ نے یہ فرمایا ہے کہ یہ حضرت رسولِ مقبولﷺ کا ارشاد ہے، وہ بالکل صحیح ہے، اس کو ماننا لازم ہے، صحابہ کرامؓ پر اگر اعتماد نہ ہو اور اُن کو دین کے نقل کرنے میں معیارِ حق تسلیم نہ کیا جائے، تو پھر سارے دین سے اعتماد ختم ہو جائے گا اور صحیح دین دوسروں تک پہنچنے کی کوئی صورت نہیں رہے گی، کیوں کہ رسول اللہﷺ اور آپ کی امت کے درمیان واسطہ صحابۂ کرامؓ ہیں، اگر اس واسطہ پر اعتماد نہ رہے اور اس واسطہ کو معیارِ حق تسلیم نہ کیا جائے تو پورا دین جو ہمیں اسی واسطے سے پہنچا ہے اس پر کیسے اعتماد رہے گا۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کے ایمان کو اور لوگوں کے لیے معیار قرار دیا ہے، چنانچہ ارشادِ خداوندی ہے:
فَاِنۡ اٰمَنُوۡا بِمِثۡلِ مَآ اٰمَنۡتُمۡ بِهٖ فَقَدِ اهۡتَدَوْا (البقرة: 137)
ترجمہ: سو اگر وہ بھی اسی طریق سے ایمان لے آئیں جس طریق سے تم (اہلِ اسلام) ایمان لائے ہو تب تو وہ بھی راہِ حق پر لگ جائیں گے۔
رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہؓ کے بارے میں فرمایا کہ:
"میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں، اُن میں سے جس کی بھی تم اتباع کرو گے ہدایت پاؤ گے۔"
ایک اور حدیث شریف میں رسول اللہﷺ نے کا ارشادِ گرامی ہے کہ:
"میں نے اپنے بعد اپنے صحابہ کے اختلاف کے بارے میں اپنے رب سے سوال کیا، تو میرے رب نے مجھے وحی کی کہ اے محمدﷺ! تیرے صحابہ میرے نزدیک آسمان میں ستاروں کے مانند ہیں، جن میں سے بعض ستارے دوسرے بعض سے (اپنی نورانیت اور روشنی میں) زیادہ قوی ہیں، (لیکن) ہر ایک ستارے کے لیے نور اور روشنی ہے(اسی طرح صحابہ کرامؓ میں سے بھی بعض بعض سے افضل ہیں، لیکن نور اور ہدایت پر ہر ایک ہے) تو جس نے اُن کے اختلاف میں سے کچھ بھی لیا (یعنی کسی بھی صحابی کے قول کو اختیارکیا) تو وہ میرے نزدیک ہدایت پر ہے۔"
ان احادیث سے بھی واضح طور پر معلوم ہوا کہ صحابۂ کرام سب کے سب معیارِ حق ہیں۔
