سوال:مالکِ اشتر حضرت عثمانؓ کا قاتل تھا تو حضرت علیؓ نے اسے…
زبان تبدیل کریں:

سوال:

مالکِ اشتر حضرت عثمانؓ کا قاتل تھا تو حضرت علیؓ نے اسے اپنے ساتھ کیوں رکھا اور اپنی فوج کا سپہ سالار بنایا اور اسے مصر کا گورنر بھی بنایا۔

سوال پوچھنے والے کا نام:  

جواب:

انتظامی معاملات میں کچھ اضطراری صورتیں بھی پیش آتی رہتی ہیں اور سمجھدار حضرات جانتے ہیں کہ حالت اضطرار میں شریعت کے وہ احکام جاری نہیں ہوتے جو عام حالات میں جاری ہوتے ہیں۔ مثلاً جان بچانے کے وقت حرام کھانے کی اجازت ہے مگر عام حالات میں حرام کھانے کی اجازت نہیں ہے وغیرہ۔ 

پس انتظامی معاملات میں جب کبھی اضطرار کی حالت پیدا ہو جائے تو اس کو شریعت کے عام حالات پر قیاس نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ نبی کریمﷺ کے زمانے میں ایسے بہت سارے واقعات پیش آئے جن پر جرم کھل کر سامنے آگیا اور اس جرم کی سزا بالکل واضح تھی۔ حضرت عمرؓ نے ان مواقع پر اجازت بھی مانگی کہ اے اللہ کے نبی آپﷺ مجھے اجازت دیں تاکہ میں اس کی گردن مار دوں مگر حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں عمر آپ نہیں جانتے ہو کہ ان لوگوں کا پروپیگنڈا اسلام کے بڑھتے ہوئے قدم کس شدت کے ساتھ روک دے گا کہ حضورﷺ تو اپنے ہی ساتھیوں کو معمولی سے اختلاف پر قتل کر دیتے ہیں۔

 سو سزا تو وہی بنتی تھی جو حضرت عمرؓ نے اجازت مانگتے ہوئے بیان کی مگر حالت اضطرار کی تھی۔ لہٰذا عام حالات کا وہ حکم یہاں نافذ نہیں کیا گیا ٹھیک اسی طرح حضرت عثمانؓ سے قصاص کا معاملہ حیدر کرارؓ حل کرنا چاہتے تھے مگر ان کا موقف یہ تھا کہ ابھی ہمارا کنٹرول مضبوط نہیں اس مقصد کے لیے ہمیں حضرت عثمانؓ کے قاتلوں سے معاملات طے کرنا پڑیں گے جب ہمارا کنٹرول مضبوط ہو جائے گا اور ان پر ہم پوری طرح سے قابو پا لیں گے تب ہم ان سے قصاص لے لیں گے مگر ان پر اختیار حاصل کیے بغیر قصاص کا مسئلہ حل نہیں کیا جا سکتا۔ گویا یہاں پر جو کچھ صورتحال موجود تھی وہ سب اضطراری تھی اور اضطرار کی حالت کا عام حالت پر قیاس کرنا درست نہیں ہوتا۔