سوال:
حضرت قرآن میں ہے اَشِدَّآءُ عَلَى الۡكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡۖ اور جنگ جمل اور جنگ صفین کا کیا مطلب ہے صحابہ کی جنگ کا قرآن میں رد ہے؟
سوال پوچھنے والے کا نام:جواب:
کیا حضرت عثمان غنیؓ کے قصاص کے لیے جان کی بازی لگا دینا رُحَمَآءُ بَيۡنَهُمۡ کا مظہر نہیں؟
دراصل اس مسئلہ میں غلط فہمیوں کی گرد ہی اتنی گہری اور دبیز ہے کہ حقیقت حال تک رسائی نہایت مشکل ہو گئی ہے۔
بھائیو! جان لو کے اوّل تو یہ لڑائیاں در اصل اس سازش کا پیش خیمہ ہیں جو سبائیوں نے ایجاد کی تھیں ٹھیک اسی طرح جس طرح کے صدیق اکبرؓ کے دور خلافت میں انکار زکوٰۃ کی سازش کھڑی کر کے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی تھی وہ تو صدیق اکبرؓ کا کمالِ فراست تھا جو اس وقت ان کی سازش کارگر نہ ہو سکی ورنہ دشمنان صحابہ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ پس یہ جنگ صحابہ کے درمیان نہیں دراصل اس سازش کے خلاف تھی جو سبائی ذریت نے پیدا کی تھی۔
اس ضمن میں تفصیلی مضمون مشاجرات کا حقیقی پس منظر ملاحظہ کرنا چاہیے۔
مختصر جواب میں ان کا ذکر بہت مشکل ہے۔
