سوال:
یہ جو مولانا طارق جمیل صاحب نے کچھ باتیں ان رافضی شیعہ کے حق میں کی ہے جب ہمیں کوئی شیعہ ملتا ہے ہمارے جاننے والا تو وہ پھر ہمیں وہ ویڈیوز دکھاتا ہے ہم اس کا کیا جواب دیں گے؟
سوال پوچھنے والے کا نام: عبداللہجواب:
شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ نے تحفہ اثنا عشریہ میں مکائد کا ایک عنوان قائم کر کے اپنی زبان سے خود کو مومنین کہنے والے دشمنان صحابہ کی دھوکہ بازیاں اور مسلمانوں کو فریب اور چکر دینے کے مختلف طریقے نقل کیے ہیں۔ ان مکائد میں ایک مکر یہ بھی نقل فرمایا ہے کہ ان کے شاطر قسم کے آیۃ اللہ مسلمانوں کے مذہبی اور دینی رہنما بن کر ان کی مسجدوں میں امام خطیب اور مبلغ بن جاتے ہیں۔ بظاہر وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کہتے ہیں مگر پس پردہ شیعیت کو مضبوط کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ جس کی واضح ترین مثال نور اللہ شوستری تھا یہ وہی شخص ہے جو اہل سنت کا عالم و خطیب مشہور ہوا پھر اسی شہرت کے بل بوتے پر مسلمانوں کی حکومت میں قاضی القضات کے عہدے پر جا پہنچا اس کی اصل حقیقت ایک نہایت راز دان شاگرد کے ذریعے سے معلوم ہو سکی کہ یہ بظاہر سنی بنا ہوا تھا حقیقت میں شیعہ تھا شیعت پر کتابیں لکھتا رہا اور شیعت کو مضبوط کرتا رہا۔
جن صاحب کا نام آپ نے لیا ہے ان کی زندگی کا جائزہ لیں کیا اس شخص نے غزہ میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو نہیں دیکھا؟
عراق اور شام میں پھیلائی جانے والی بربریت کو نہیں دیکھا؟
افغانستان میں ظلم اور ستم کے ٹوٹتے پہاڑ نہیں دیکھے؟
یہ سب اس کی زندگی میں ہی اور مقررانہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے بعد ہی ہوا ہے مگر کیا آج تک کبھی آپ نے سنا کہ اس شخص نے امریکہ سمیت پوری دنیا کے ظالموں کے خلاف بددعا کی اور قنوت نازلہ پڑھی؟
حالانکہ ملا عمر کے دور حکومت میں امریکہ اور اس دنیا بھر سے جمع کیے ہوئے حواریوں نے بلا جواز مسلمانوں پر حملہ کیا اور پورے ملک پر آگ برسا کر لاکھوں مسلمان مرد عورت اور بچوں تک کو بارود کی آگ پہ جلا دیا۔
اسی طرح شام میں جو ظلم ہوتا رہا کیا اس نے وہاں کے ظالموں کے لیے کبھی ایک دن بھی قنوت نازلہ پڑھی یا بددعا کی؟
عراق میں جو کچھ مسلمانوں پر ظلم ہوتا رہا اور امریکہ نے وہاں حملہ کیا اور لاکھوں بے گناہ بچے قتل ہوئے کیا وہاں اس کو قنوت نازلہ پڑھنا یا مظلوموں کے لیے دعا کرنا یا ظالموں کے خلاف بد دعا کرنا نصیب ہوا؟
غزہ میں جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے اس پر تو غیر مسلم لوگ بھی تلملا اٹھے ہیں اور فلوٹیلا نامی کاوشوں کے ذریعے سے انہوں نے بھی غزہ کے اوپر ہونے والے ظلم پر صدائے احتجاج بلند کی ہے مگر کیا ایک دن اس شخص کی زبان سے ان مظلوموں کے لیے بھی کوئی دعا کا لفظ یا وہاں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف کوئی قنوت نازلہ یا بددعا اس کی زبان سے نکل سکی؟ نہیں ہرگز نہیں!
مگر ایران کے لیے اس کی قنوت نازلہ اور بد دعاؤں کی ویڈیو اور اس پر بد اخلاقی کا مظاہرہ سوشل میڈیا پر وائیرل ہو چکا ہے۔
تو کیا اب بھی کسی کو اس کے بارے میں شک رہ سکتا ہے کہ یہ شخص اندر سے کیا ہے؟
کون ہے؟ اور کیا چاہتا ہے؟ عقلمندوں کے لیے اشارہ کافی ہے۔
