سوال:
کیا آپ نے سنا کہ مفتی تقی عثمانی صاحب نے حالت حاضرہ کے بارے میں کیا فرمایا؟ کیا اس طرح شیعوں کے بارے میں مواد شیئر کرنے سے فرقہ واریت اور گستاخیوں کی آگ مزید تو بھڑکے گی؟؟
سوال پوچھنے والے کا نام:جواب:
جی ہاں ہم نے مفتی تقی عثمانی صاحب کا وہ فتویٰ بھی سنا تھا جو انہوں نے کرونا کے موقع پر نمازیوں کے لیے صف بنانے کے حوالے سے جاری فرمایا تھا کہ باجماعت نماز ادا کرتے ہوئے نمازی ایک دوسرے سے کئی گز فاصلے پر کھڑے ہوں جبکہ سیدنا فاروق اعظمؓ کے زمانے میں طاعون جیسے مرض کی وبا پھیلی تھی جس میں صحابہ کرامؓ کی بڑی تعداد انتقال فرما گئی اس کے باوجود سیدنا فاروق اعظمؓ نے اس طرح کا کوئی فتویٰ جاری نہ فرمایا اور ہاں اسی رمضان المبارک کے ابتدائی جمعہ کے خطبہ میں ہم نے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کا یہ بیان بھی سنا تھا جس میں وہ فرما رہے تھے کہ اسرائیل اور بھارت نے طالبان کی مالی امداد کے لیے ایک فنڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ان کے ذریعے سے پاکستان میں لڑائی جاری رکھی جا سکے مگر 26 فروری کو بی بی سی نے یہ خبر دی کہ
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورہ اسرائیل کے دوران نیتن یاہو کی ایک جعلی ویڈیو بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ انڈیا اور اسرائیل افغان طالبان سے ہر ممکن تعاون کریں گے۔الخ
بی بی سی اردو 26 فروری 2026ء
اس طرح کے شواہد اور حقائق سامنے آنے کے بعد مفتی صاحب نے اپنے پہلے والے بیان سے رجوع کر لیا۔
مفتی تقی عثمانی صاحب ایک قابل قدر شخصیت اور معروف عالم دین ہیں مگر ہمیں اسلام نے یہ تعلیم دی ہے کہ معصوم صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی جماعت ہے اور انبیاء کرام علیہم السلام کے علاؤہ کسی امام وغیرہ کے لیے معصوم ہونے کا عقیدہ رکھنا کفر ہے۔
باقی اس حوالے سے ہم نے مفتی صاحب کو بھی بذریعہ خط قرآن پاک کی وہ تصریحات یاد دلانے کی کوشش کی ہے جو اس حوالے سے قرآن کریم میں موجود ہیں اللہ کرے جس طرح حضرت نے افغانستان کے خلاف انڈیا اسرائیل گٹھ جوڑ والے بیان سے رجوع فرما لیا ہے وہ اس بیان سے بھی رجوع فرما لیں تاکہ امت مسلمہ اعتقادی گمراہی میں مبتلا نہ ہو۔
لیکن اگر وہ رجوع نہ بھی کریں تب بھی اس سلسلہ میں جو قرآن پاک کی ہدایات ہیں ہمیں ان ہی پر ایمان رکھنے اور ان پر عمل کرنے کا حکم ہے نہ کہ قرآنی تصریحات کے خلاف کسی بڑے یا چھوٹے کی باتوں پر ایمان رکھنے اور عمل کرنے کا۔