Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

سوال:

حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری نے ختم نبوت کی تحریک جب شروع کی تھی تو اپنے ساتھ شیعوں کو بھی ملایا تھا ویسے آپ کا شاہ صاحب پر بھی یہی فتوٰی ہوگا جو -----

کیا جب دو سانپ آپس میں لڑ رہے ہوں تو عارضی طور پر ایک کے ساتھ متحد ہونا عقل کے خلاف ہے یا نہیں؟

سوال پوچھنے والے کا نام:  

جواب:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ نعمتیں تو وہ دی ہیں جن کا فائدہ اسی دنیا میں ہے جیسے جسم اور جسم کی ضرورتیں پوری کرنے کا سامان۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کو کچھ وہ نعمتیں بھی عطا فرمائی ہیں جن کا فائدہ آخرت میں ہو گا۔

انسان دنیاوی نعمتوں کے معاملے میں تو بڑا عقلمند اور ہوشیار واقع ہوا ہے کہ ان کی حفاظت پوری عقل مندی سے کر گزرتا ہے۔ دیکھئیے جسم بیمار ہو جائے اور بیماری دل کو لگ جائے تو دل کی بیماری کے مسائل اور معاملات وہ کبھی آنکھ کے ڈاکٹر سے نہیں پوچھتا حالانکہ آنکھ کا ڈاکٹر بھی ڈگری کے اعتبار سے ڈاکٹر ہی ہے اسی طرح اگر دانتوں کو درد ہو جائے تو یہ کبھی دماغ والے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا اور دماغ کا کوئی مسئلہ درپیش ہو تو یہ آنکھوں والے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا کیوں؟

اسی لیے ناں کہ ہیں تو سب ڈاکٹر مگر جو جس مرض کا علاج کرنے میں ماہر ہے اسی سے علاج کروانا عقل مندی ہے اور دل کا علاج کروانے کے لیے ہڈیوں کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا بے وقوفی ہے۔

 کس قدر افسوسناک بات ہے کہ دین حق کی صورت میں حاصل ہونے والے راہ جنت کے معاملے میں ہمارا طریقہ کار یکسر مختلف ہے بس مشہور ہونا شرط ہے۔ پھر ایک مولانا صاحب ہی سارے دین کا ماہر اور ہر ہر نقطہ میں کامل ہی کامل ہے۔ 

ارے اللہ کے بندو جسم جو ایمان کے مقابلے میں ہر طرف آسان اور نظر آنے والا وجود ہے اس میں تو ایک ہی ڈاکٹر ماہر اور کامل نہیں ہو سکتا پھر ایمان کے ہر ہر پہلو پر اور ہر ہر مسئلے میں ایک ہی عالم بھلا کس طرح سے ماہر ہو جائے گا؟

صحیح بات یہ ہے کہ علماء میں سے جو عالم جس فن میں مصروف ہو جاتا ہے وہ رفتہ رفتہ اسی فن میں کامل بن جاتا ہے۔ تدریس والا تدریس میں تبلیغ والا تبلیغ میں اور تقابل ادیان کے مسئلہ پر جو جس باطل گروہ کے باب میں تحقیق کرتا چلا جاتا ہے تو وہ اس گروہ کے بارے میں پوری مہارت حاصل کر جاتا ہے۔ لہٰذا ایمانیات کے باب میں عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ جس عالم نے قادیانیت کو پڑھا اور اسی پر اپنی ساری زندگی کو گزار دیا وہ اس فن میں ماہر ہے قادیانیت کے مسئلہ پر مہارت کا یا تقریر کے فن میں مہارت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب وہ تصوف میں بھی امام بن گئے اور بخاری پڑھانے میں بھی شیخ الحدیث ہو گئے اور عیسائیت یہودیت کی باریکیوں سے بھی آگاہ ہو گے اور فتنہ رفض کو جاننے پہچاننے میں بھی ماہر بن گئے۔ نہیں بلکہ جس عالم کی جس میدان میں زندگی گزر رہی ہے وہ اس میدان میں ماہر ہے اگر مبلغ ہے تو تبلیغی نصاب ان سے ضرور سیکھیے جہاد فی سبیل اللہ کا باب سکھانے میں غلطیوں کا قوی امکان ہے اسی طرح دیگر شعبوں کو قیاس کر لیا جائے۔

حضرت شاہ جیؒ عظیم مبلغ تھے مگر تصوف میں وہ خود کسی اور در کے سائل تھے مسئلہ رفض پر سید احمد شاہ چوکیروی کے مداح تھے وغیرہ۔