Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام
زبان تبدیل کریں:

سوال:

ہمارے مشہور اور معروف علماء مثلاً مولانا فضل الرحمٰن اور مفتی تقی عثمانی صاحب کیوں شیعہ کے کفر پر برسر ممبر بات نہیں کرتے۔ اگر یہ کام اتنا اہم ہے تو؟

مدلل جواب کا منتظر ہوں!

سوال پوچھنے والے کا نام:  

جواب:

آپ نے جن دو حضرات کے نام تحریر فرمائے ہیں ذرا انہی کو پیش نظر رکھ لیں اور ہمیں تھوڑا سا سمجھا دیں کہ شیخ الاسلام صاحب الیکشن کیوں نہیں لڑتے؟ کیا آپ کے نزدیک سیاست دین کا کوئی اہم شعبہ نہیں؟ اور کیا آپ کے نزدیک مولانا تقی عثمانی صاحب دین اسلام ہی کے نمائندہ نہیں؟ کیا ان پر دین کی خدمت ضروری نہیں؟ جب وہ دین اسلام کے نمائندہ بھی ہیں اور عالم دین بھی ہیں اور سیاست دین کا اہم کام بھی ہے تو پھر ان کو الیکشن لڑ کر اسلام کی خدمت کرنی چاہیے وہ کیوں نہیں کرتے؟

یا اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن صاحب مدرسہ میں بخاری کیوں نہیں پڑھاتے؟

کیا بخاری شریف پڑھانا دین کا کوئی اہم کام نہیں؟ اگر بخاری شریف دین کا عظیم الشان شعبہ ہے اور مولانا فضل الرحمٰن دین کے خادم ہیں تو پھر آپ ان سے بھی سوال کریں ناں!

مگر مفتی تقی عثمانی صاحب نے اب تک الیکشن میں حصہ نہیں لیا حالانکہ یہ دین کا اہم کام ہے اسی طرح مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے اب تک کوئی فتویٰ نہیں دیا حالانکہ یہ دین کا اہم کام ہے مگر اس کے باوجود نہ تو آپ کے ذہن میں اس بارے کوئی اعتراض ہی پیدا ہوا اور نہ ہی سیاست یا فتویٰ و بخاری کی اہمیت و عظمت پر کوئی اشکال پیدا ہوا پھر آخر کیا وجہ ہے کہ مفتی تقی عثمانی صاحب سیاست میں حصہ نہ لیں پھر بھی سیاست کی اہمیت ختم نہ ہو اور مولانا فضل الرحمٰن صاحب بخاری شریف نہ پڑھائیں پھر بھی بخاری شریف پڑھانے کی عظمت ختم نہ ہو مگر جوں ہی مسئلہ رد رافضیت کا آ جائے تو مفتی تقی عثمانی صاحب یا مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے یہ کام نہ کرنے سے اس محنت کی اہمیت و عظمت یکسر ختم ہو جائے آخر کیوں؟ کہیں روافض جراثیم کا اثر تو نہیں؟

 بھائی جس طرح دنیا کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اللہ پاک نے ہر ہر شعبے کو دوسرے سے الگ کر دیا ہوا ہے زلف برہم سنوارنے کے لیے نائی ہیں، کپڑے سلائی کے لیے درزی ہیں، جوتے بنانے کے لیے موچی ہیں، گوشت بنانے کے لیے قصائی ہیں، دکان چلانے کے لیے تاجر ہیں، کھیتی باڑی کے لیے کسان ہیں۔ آج تک کسی نے کسان پر یہ اعتراض نہیں کیا کہ تم دکان کیوں نہیں چلاتے دکان والے سے کسی نے یہ نہیں کہا تم ہوائی جہاز کیوں نہیں اڑاتے وغیرہ۔ 

اسی طرح دین کے مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے دین کے شعبے تقسیم کر دیے ہوئے ہیں۔ پس جس طرح تاجر پر قصائی نہ ہونے کا اعتراض زیادتی ہے نیز تاجر کے کسان نہ ہونے سے کھیتی باڑی والے شعبہ کی اہمیت ختم نہیں ہوتی اسی طرح کسی سیاست دان کے رد رافضیت پر کام نہ کرنے سے اس عظیم الشان دینی کام کی اہمیت و عظمت ختم نہیں ہو سکتی۔