سوال:
کچھ دن پہلے مجھے ایک بریلوی مسلک کا بندہ ملا وہ کہتا ہے کہ دیوبندی کہتے ہیں کہ صحابہؓ ہمارے ایمان کا حصہ ہیں لیکن میں کہتا ہوں کہ صحابہؓ ہمارے ایمان کا حصہ نہیں ہیں کیونکہ صفت ایمان مفصل میں ان کا کوئی تذکرہ نہیں ہے اسی لیے یہ ہمارے ایمان کا حصہ نہیں ہیں۔
سوال پوچھنے والے کا نام: عبداللہجواب:
پھر تو عقیدہ ختم نبوت پر ایمان رکھنا بھی اس کے لیے کوئی ضروری نہیں نہ ہی عقیدہ ختم نبوت اس کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس لیے کہ صفت ایمان مفصل میں عقیدہ ختم نبوت کا ذکر موجود نہیں اسی طرح عذاب قبر وغیرہ بہت سارے عقائد جو ایمان مفصل میں مستقل نام کے ساتھ موجود نہیں تو وہ بھی اس کے عقیدے کا حصہ نہ ہوئے،
حالانکہ صفت ایمان مفصل میں عقیدہ ختم نبوت، عذاب قبر وغیرہ کا الگ نام کے ساتھ ذکر نہ ہونے کے باوجو اسلام کا مسلمہ عقیدہ ہیں اور ختم نبوت کے منکر کا کافر ہونا پوری امت کے نزدیک متفق علیہ ہے تو پھر اس مسلک کے اس ملنے والے آدمی کا ایمان بچتا ہے یا نہیں یہ وہ خود فیصلہ کر لے اور آپ بھی اس پر غور فرما لیں۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا عقیدہ قرآن پاک میں پوری وضاحت سے ہزار سے زائد آیات میں بیان کیا جا چکا ہے اور امنت باللہ و ملائکتہ کے بعد جو جملہ وکتبہ موجود ہے اس میں صرف کتابوں کے وجود کو ماننا اور اس پر ایمان رکھنا کافی نہیں بلکہ کتاب یعنی قرآن پاک میں جو جو عقیدہ بیان کیا گیا ہے ان سب کا ماننا بھی ایمان اور عقیدہ ہے اور اس کتاب یعنی قرآن پاک میں بیان فرمائے ہوئے کسی بھی عقیدہ کا انکار اسی طرح کفر ہے جس طرح ایمان مفصل کے اندر بیان کیے ہوئے اصولوں کا انکار کرتا کفر ہے۔