سوال:
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
میرے گھر والے کہتے ہیں کہ زیدی شیعہ ٹھیک ہیں ان کے عقائد خراب نہیں ہیں۔ اس بارے میں ذرا تفصیل سے بتا دیجئے تاکہ میں انہیں سمجھا سکوں۔
جزاکم اللہ خیرا کثیرا
سوال پوچھنے والے کا نام: محمد انسجواب:
نفاق پر بحث کرتے ہوئے اربابِ علم فرماتے ہیں کہ جنگلی چوہا شکاری کو دھوکہ دینے کے لیے اپنی رہائش گاہ کے دو سوراخ بناتا ہے ایک داخل ہونے کے لیے اور دوسرا نکل جانے کے لیے، جب کوئی شکاری اس چوہے کو شکار کرنے کے لیے حملہ آور ہوتا ہے تو یہ فوراً اپنی بل میں گھس جاتا ہے اب شکاری اس بات کا انتظار کرتا رہ جاتا ہے کہ اسی جگہ سے چوہا نکلے گا مگر وہ تو دوسرے سوراخ سے نکل کر بھاگ بھی چکا ہوتا ہے۔
جس بل سے وہ داخل ہوتا ہے اس کو نافقاء اور جس سے نکل کر بھاگتا ہے اسے قاصعاء کہتے ہیں۔
ٹھیک یہی صورتحال اپنی زبان سے خود کو مؤمن کہنے والے دشمنانِ صحابہؓ کی ہے کہ وہ دھوکہ دینے کے لیے نام بدل بدل کر اپنا تعارف کرواتے ہیں۔ چنانچہ جب کسی سمجھدار مسلمان کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ تو فلاں فلاں عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج لوگ ہیں تو دھوکہ دینے والے فوراً دوسرے سوراخ سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نہیں جناب ہم اثناء عشری شیعہ نہیں بلکہ ہم تو شیعہ ہیں یا ہم تو زیدی ہیں، اب جس بندے نے تحقیق کے بعد یہ نظریہ قائم کر لیا ہوتا ہے کہ یہ فلاں فلاں غلط عقائد کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہے وہ شک و شبہ میں پڑ جاتا ہے کہ اس کے بارے میں میں کیا رائے قائم کروں۔
حقیقتِ حال یہ ہے کہ کسی بھی ملک میں کسی مسلک کا وجود دو چیزوں پر قائم رہ سکتا ہے:
1۔ اس مسلک کا قاضی موجود ہو۔
2۔ جائز ناجائز بتانے والا مفتی موجود ہو۔
قاضی اس لیے کہ اس مسلک کے مطابق زندگی کے مسائل اور معاملات میں فیصلہ کرے اور مفتی اس لیے تاکہ اس مسلک کے مطابق ان کو دین کی تعلیم دے اور جائز ناجائز بتائے کہ یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا۔
اب جو دھوکہ دینے والے کسی قاصعاء سے نکلنے کی کوشش میں یہ کہتے ہیں کہ ہم تو زیدی ہیں تو ان سے پوچھا جائے کہ آپ کا پاکستان میں کون سا دینی ادارہ، دارالافتاء اور دین سکھانے والا مرکز ہے؟ اس کا نام اور جگہ بتائیں؟
واقعہ وہی ہے جو میدانِ سیاست میں سند کا درجہ رکھنے والی شخصیت مفتی محمودؒ نے اپنے فتاویٰ میں تحریر کر دیا ہے کہ پورے پاکستان میں صرف اثناء عشری رہتے ہیں اس کے علاوہ اس گروہ کا کوئی دوسرا فرقہ یہاں موجود نہیں جب یہ بات حقائق سے ثابت ہو گئی کہ ان کا کوئی دارالافتاء اور قاضی موجود نہیں تو سوال میں درج دعویٰ گوزِ شتر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔