شعر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پختہ ارادہ کو نرمی اور شفقت…

شعر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پختہ ارادہ کو نرمی اور شفقت میں بدل دیتا ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

سیدنا عمرؓ یہ سن کر بہت روئے، اور ابو موسیٰ اشعریؓ کو حکم دیا کہ کلاب کو تلاش کر کے فوراً واپس بھیجیں۔ انہوں نے فوراً انہیں حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دیا، وہ عمر کے پاس آئے، ان سے ملاقات کی، اور پھر آپؓ نے امیہ کو بلا بھیجا اور اس سے آپؓ نے کچھ دیر بات کی، اور اس سے پوچھا کہ اس کے نزدیک اس وقت سب سے محبوب کیا چیز ہے؟ تو امیہ نے کہا: کلاب، میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس موجود ہو اور میں اسے سونگھ لوں، تب آپؓ نے کلاب کو سامنے آنے کا حکم دیا، کلاب کو دیکھ کر بوڑھا خوشی سے کود پڑا، اور اپنے بیٹے کو سونگھتے ہوئے خوشی کے آنسو بہانے لگا۔ حضرت عمرؓ بھی یہ دیکھ کر رونے لگے،

(الأدب الإسلامی: دیکھئے نایف معروف: صفحہ 180 )

 اور جو دوسرے لوگ موجود تھے وہ بھی رونے لگے اور سب نے کلاب سے کہا کہ تم اپنے والدین کے پاس ہی رہو، اور جب تک دونوں زندہ ہیں انہی میں جہاد کرو، جب وہ نہیں رہیں گے پھر تمہاری مرضی میں جو آئے سو کرنا۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے انہیں ان کا عطیہ دینے کا حکم دیا، اور ان کے باپ کے ساتھ بھیج دیا۔ پھر دیگر سوار بھی ان کے باپ کے شعر کو پڑھ کر گنگنانے لگے اور جب کلاب کو خبر ملی کہ دوسرے لوگ ان کے باپ کے شعر کو گنگناتے ہیں تو انہوں نے یہ شعر کہا: 

لعمرک ما ترکت أبا کلاب

کبیر السن مکتئبا مصابا

’’اللہ کی قسم! میں نے سخت بڑھاپے کے وقت رنجیدہ اور مصیبت کی حالت میں ابو کلاب کو نہیں چھوڑا۔‘‘

و أما لا یزال لہا حنین

تنادی بعد رقدتہا کلابا

’’اور نہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد غم بھری ہلکی آواز میں کلاب کو پکارنے والی ماں کو۔‘‘

لکسب المال أو طلب المعالی

ولکنی رجوت بہ الثوابا

’’مال کمانے کے لیے یا ناموری کے لیے نہیں چھوڑا تھا، بلکہ اس سے میرا مقصد ثواب حاصل کرنا تھا۔‘‘

کلاب اچھے مسلمانوں میں سے تھے، وہ اپنے والدین ہی کے پاس رہے یہاں تک کہ دونوں فوت ہو گئے۔

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبوالنصر: صفحہ 288 )

اسی سے ملتا جلتا ایک دوسرا واقعہ بھی ہے وہ یہ کہ معروف شاعر شیبان بن مخبل سعدی نے ہجرت کی اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے ساتھ فارس والوں سے جنگ کرنے کے لیے چلا گیا اس پر اس کے والد مخبل بہت زیادہ گھبرا گئے، کیونکہ وہ کمزور اور بوڑھے ہو چکے تھے، وہ جدائی پر صبر نہ کر سکے اور یہ قصیدہ کہا:

أیہلکنی شیبان فی کل لیلۃ

لقلبی من خوف الفراق وجیب

’’کیا شیبان ہر رات مجھے ایسے ہی ہلاک کرتا رہے گا، یقین جانو جدائی کے خوف و غم سے میرا دل دھڑک رہا ہے۔‘‘

فإنی حنت ظہری خطوب ألا تری

أری الشخص کالشخصین وہو قریب

’’کیا تو دیکھتا نہیں کہ نامساعد حالات نے میری کمر جھکا دی ہے، ایک ہی آدمی مجھے دو دکھائی دیتے ہیں، حالانکہ وہ میرے قریب ہی ہوتا ہے۔‘‘

ویخبر شیبان أن لن یعقّنی

تعق إذا فارقتنی وتحوب

’’شیبان مجھ سے کہتا تھا کہ وہ میری نافرمانی ہرگز نہ کرے گا، لیکن اے شیبان جب تو مجھ سے بچھڑ گیا، تو نافرمان بھی ہوا اور گنہگار بھی۔‘‘

فلا تدخلن الدھر قبرک حوبۃ

یقوم بہا یومًا علیک حسیب

’’تو اپنی قبر میں گناہ لے کر کبھی نہ جانا کہ کسی دن سخت حساب لینے والا ان گناہوں کے بارے میں تجھ سے باز پرس کرے۔‘‘

جب حضرت عمرؓ نے یہ اشعار سنے تو آپ کا دل پسیج گیا اور آپؓ رونے لگے، اور سعد بن ابی وقاصؓ کے نام خط لکھا کہ شیبان کو واپس بھیج دو، چنانچہ انہوں نے شیبان کو ان کے باپ کے پاس بھیج دیا۔ 

(صدر الاسلام: صفحہ 90)

یہ اپنی نوعیت کا کوئی آخری واقعہ نہ تھا کہ جس کے بارے میں شعر سن کر حضرت عمرؓ متاثر ہوئے ہوں، بلکہ اس سے ملتے جلتے کئی واقعات ہیں، انہی میں سے ایک واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں خراش بن ابی خراش ہذلی نے ہجرت کی، مسلمانوں کے ساتھ معرکہ میں شریک ہوئے اور دشمن کی زمین میں کافی دور تک گھستے چلے گئے، ابوخراش مدینہ آئے، اور حضرت عمر بن خطابؓ کے سامنے بیٹھ کر اپنے بیٹے سے ملاقات کی شدت اشتیاق کا اظہار کیا، اور کہا کہ وہ ایسا آدمی ہے جس کی بیوی فوت ہو چکی ہے اور بھائی قتل ہو چکے ہیں، اب اس کے بیٹے خراش کے علاوہ اس کا کوئی دوسرا معین و مددگار نہیں ہے، اور وہ بھی مجھے چھوڑ کر جنگ پر چلا گیا ہے اور پھر یہ اشعار پڑھنے شروع کیے:

ألا من مبلغ عنی خراشا

وقد یأتیک بالنبأ البعید

’’کیا خراش کو کوئی میرا پیغام پہنچانے والا ہے، تیرے پاس کوئی دور کا آدمی اس کی خبر لے کر آئے گا۔‘‘

وقد تأتیک بالأخبار من لا

تجہز بالحذاء ولا تزید

’’اور ممکن ہے تیرے پاس ایسا آدمی خبریں لائے جو ننگے پاؤں اور بغیر ساز و سامان والا ہو۔‘‘

تنادیہ لیعقبہ کلیب

ولا یأتی لقد سفہ الولید

’’(اے نفس) تو اسے بلاتا ہے تاکہ غم کا مارا اسے اپنا جانشین بنائے، حالانکہ وہ آنے والا نہیں ہے، یقیناً وہ لڑکا پاگل ہو گیا ہے۔‘‘

فرد أناء ۃ لا شیء فیہ

کان دموع عینیہ الفرید

’’(اس کے دل نے) بڑی سرد مہری سے جواب دیا کہ اسے (یاد کرنے سے) کوئی فائدہ نہیں ہے، (ایسا خاموش جواب) گویا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے آنسو چمک دار موتی ہیں۔‘‘

وأصبح دون غابقۃ وأمسی

جبال من جرار الشام سود

’’غابقہ سے پہلے صبح کی، اور شام کے سیاہ پہاڑوں کے دامن میں شام کی۔‘‘

ألا فاعلم خراش بأن خیر

المہاجر بعد ہجرتہ زہید

’’خراش کو جان لینا چاہیے کہ ہجرت کے بعد مہاجر کی خبر نہیں مل رہی ہے۔‘‘

رأیتک وابتغاء البر دونی

کمخضوب اللبان ولا یصید

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبو النصر: صفحہ 230 )

’’تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مجھے چھوڑ کر نیکی کی تلاش ایسے ہی ہے جیسے گوند لگا ہوا کانپا جو شکار نہ پھنسا سکے۔‘‘

سیدنا عمرؓ ان اشعار سے کافی متاثر ہوئے اور خراش کو اس کے باپ کے پاس واپس چلے جانے کا حکم دے دیا، اور پھر یہ عام فرمان جاری رکھا کہ ’’جس کے بوڑھے والدین زندہ ہوں وہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد پر نہ جائے۔‘‘ 

(أدب صدر الإسلام: صفحہ 90)

صفحہ 2 از 3