شعر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پختہ ارادہ کو نرمی اور شفقت…

شعر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پختہ ارادہ کو نرمی اور شفقت میں بدل دیتا ہے

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

امیہ بن اسکر کنانی نام کا ایک آدمی تھا، وہ اپنی قوم کے بزرگوں میں سے تھا، اس کا ایک لڑکا تھا جس کا نام کلاب تھا، اس نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مدینہ ہجرت کی تھی، اور وہیں کافی دنوں تک مقیم رہا تھا، ایک دن اس کی ملاقات طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما سے ہو گئی، اس نے ان دونوں سے پوچھا کہ اسلام میں کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ اس کو بتایا گیا کہ جہاد، چنانچہ اس نے حضرت عمرؓ سے اہلِ فارس سے جنگ کے لیے جانے والی فوج میں جہاد کے لیے شرکت کی اجازت مانگی۔ یہ سن کر امیہ اٹھ کھڑا ہوا اور حضرت عمرؓ سے کہا: 

امیر المؤمنین! یہ دن ہماری زندگی کے کٹھن دن ہیں، اور اگر میرا بڑھاپا نہ ہوتا تو۔ لیکن یہ سنتے ہی اس کا عابد و زاہد بیٹا کلاب عمرؓ کے سامنے آکھڑا ہوا، اور کہا: لیکن میں، اے امیر المؤمنین! اپنی جان کو فروخت کر دوں گا، اور دنیا کے بدلے آخرت خریدوں گا، ایک کھجور کے سائے میں اس کا باپ کھڑا تھا وہ اپنے بیٹے سے چمٹ گیا اور کہا: اپنے کمزور والدین کو چھوڑ کر مت جاؤ، ہم نے بچپن میں تمہاری پرورش کی، اور جب ہمیں تمہاری ضرورت پڑی تو تم ہمیں چھوڑ کر جا رہے ہو؟ کلاب نے کہا: ہاں، میں ان سے بہتر پانے کے لیے ان کو چھوڑ رہا ہوں، اور پھر اپنے باپ کو راضی کر کے جہاد پر نکل گیا، باپ تھوڑی دیر کھجور کے درخت کے نیچے ساکت کھڑا رہا، اتنے میں دیکھا کہ ایک کبوتری اپنے چوزوں کو بلا رہی ہے، یہ منظر دیکھ کر بوڑھا باپ رونے لگا، اور بوڑھی ماں بھی رونے لگی، پھر بوڑھے باپ نے یہ اشعار کہے:

لمن شیخان قد نشدا کلابا

کتاب اللہ لو قبل الکتابا

’’دونوں بوڑھوں کا سہارا کون ہو گا! ان دونوں نے کلاب کو اللہ کی کتاب کا واسطہ دیا، کاش وہ کتاب الہٰی کی بات مان لیتا!‘‘

أنا دیہ فیعرض فی إباء فلا

وأبی کلاب ما أصابا

’’میں نے اسے پکارا، لیکن اس نے اعراض کرتے ہوئے انکار کر دیا، قسم ہے میرے باپ کی، کلاب اپنے فیصلہ میں صائب نہیں تھا۔‘‘

لذا ہتفت حمامۃ بطن وج

علی بیضاتہا ذکرًا کلابا

’’اسی لیے جب وادی ’’وج‘‘ کی کبوتری نے اپنے چوزوں کو کوکو کہہ کر بلایا تو ان دونوں نے کلاب کو یاد کیا۔‘‘

فإن مہاجرین تکنفاہ

ففارق شیخہ خطاً و خابا

’’دو مہاجروں نے اس کو پالا پوسا اور حفاظت میں رکھا، لیکن اس نے غلطی کرتے ہوئے اپنے بوڑھے والدین کو داغ مفارقت دے دیا، اور خسارے میں رہا۔‘‘

ترکت أباک مرعشۃ یداہ

وأمک ما تسیغ لہ شرابا

’’تو اپنے باپ سے اس حال میں جدا ہوا کہ اس کے دونوں ہاتھ کانپ رہے ہیں، اور تیری ماں کو پانی کا ایک گھونٹ بھی اچھا نہیں لگتا۔‘‘

تنفض مہدہ شفقًا علیہ

وتجنبہ أبا عرہا الصعابا

’’ماں اپنی مامتا سے اس کے بچپن کو خوشگوار کرتی رہی اور اسے اپنے اونٹوں کے خطرات و مشکلات سے بچاتی رہی۔‘‘

فإنک قد ترکت أباک شیخًا

یطارق أینقًا شربًا طرابا

’’تو نے اپنے باپ کو اس وقت داغ مفارقت دیا جب کہ وہ بوڑھا ہو گیا ہے اور رنج و غم کا قصیدہ پڑھتے ہوئے کمزور اونٹوں کو ہانکتا ہے۔‘‘

إذا ارتعشن أرقا لًا سراعًا

أثرن بکل رابیۃ ترابا

’’جب وہ اونٹ کمزوری سے ڈگمگاتے ہوئے تیزی سے چلتے ہیں تو ہر ٹیلے سے گرد و غبار اڑاتے ہیں۔‘‘

طویلًا شوقہ یبکیک فردًا

علی حزن ولا یرجو الإ یابا

’’اس سے ملنے کی شدید خواہش رنج و غم کی وجہ سے تنہائی میں تجھے رلاتی ہے، اور اب وہ باپ اس کلاب کے لوٹنے کی امید نہیں رکھتا۔‘‘

فإنک والتماس الأجر بعدی

کباغی الماء یتبع السرابا

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبوالنصر: صفحہ 226)

’’تو اور میرے بعد ثواب کی جستجو کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ پیاسا آدمی سراب کے پیچھے دوڑتا ہے۔‘‘

 امیہ اندھا ہو چکا تھا، اس کا راہبر اس کا ہاتھ پکڑ کر حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس لایا، اس وقت آپؓ مسجد میں تشریف فرما تھے، اس نے وہاں یہ شعر سنائے:

أعاذل قد عذلت بغیر علم

وما تدرین عاذل ما ألاقی

’’اے ملامت کرنے والی! تو نے بغیر علم کے ملامت کی، کوئی ملامت کرنے والی کیا جانے کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہے۔‘‘

فأما کنت عاذلتی فردی

کلابًا إذ توجہ للعراق

’’اگر تو مجھے ملامت کر رہی ہے تو کلاب کو میرے پاس لوٹا دیتی، جب کہ وہ عراق کی طرف جا رہا تھا۔‘‘

ولم أقض اللبانۃ من کلاب

غداۃ غد و اذن بالفراق

’’میں نے کلاب سے ابھی کل تک کوئی ضرورت پوری نہیں کی تھی کہ اس نے ہمیں جدائی کا پیغام دے دیا۔‘‘

فتی الفتیان فی عسر ویسر

شدید الرکن فی یوم التلاقی

’’سختی اور آسانی دونوں حالتوں میں جوانوں کا ایک جوان تھا اور جنگ کے موقع پر مردِ آہن تھا۔‘‘

فلا وأبیک ما بالیت وجدی

ولا شفقی علیک ولا اشتیاقی

’’تیرے باپ کی قسم تو نے میرے جذبات کی پروا نہ کی، اور نہ میری شفقت پدری اور شوق ملاقات کی پروا کی۔‘‘

وإیفادی علیک اذا شتونا

وضمک تحت نحری واعتناقی

’’اور ٹھنڈ کے موسم میں میں نے تجھ کو جو گرمی پہنچائی اور تجھے سینے اور گلے سے لگایا کسی چیز کی تو نے پروا نہیں کی۔‘‘

فلو فلق الفؤاد الشدید وجد

لہم سواد قلبی بانفلاق

’’پس اگر ملاقات کا شدید احساس دل کو پھاڑنے لگے تو میرے دل کا سیاہ نقطہ بھی پھٹ جانا چاہتا ہے۔‘‘

سأستعدي علی الفاروق ربًّا

لہ دفع الحجیج إلی بساق

’’میں عمر فاروق کے خلاف اپنے رب سے مدد طلب کروں گا، وہی جبل عرفات تک حاجیوں کو لے جانے والا ہے۔‘‘

وأدعو اللہ مجتہدًا علیہ

ببطن الأخشبین إلی دقاق

’’مکہ کے دونوں اخشب پہاڑوں کے درمیان کہیں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ سے پوری طاقت سے عمر کے لیے بد دعا کروں گا۔‘‘

إن الفاروق لم یردد کلابًا

علی شیخین ہا مہما زواق

’’اگر عمر فاروق نے کلاب کو اس کے بوڑھے والدین کے پاس جو مرنے کے قریب ہیں واپس نہ لوٹایا۔‘‘

صفحہ 1 از 3