سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حطیئہ و زبرقان بن بدر -…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حطیئہ و زبرقان بن بدر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

’’آپ ان بچوں پر احسان کریں جن کا مسکن کنکریلی پتھریلی وادیوں کے درمیان ہے، اور سخت سردی ان کو ڈھانپے ہوئے ہے۔‘‘

أہلی فدائک ما بینی وبینہم

من عرض داویۃ تعمی بہا الخبر

’’میری آل و اولاد آپ پر قربان، میرے اور ان کے درمیان لمبا چوڑا چٹیل میدان حائل ہے، جن کی وجہ سے میں ان کے حالات سے بالکل ناواقف ہوں۔‘‘

حضرت عمرؓ ان اشعار سے متاثر ہو کر رونے لگے، اور حطیئہ کی رہائی کا حکم دے دیا، اور اس کی زبان پر لگام لگانے کے لیے مسلمانوں کے حق میں اس کے ہجویہ کلام کو 3000 درہم میں خرید لیا، تو حطیئہ نے اس پر افسوس کرتے ہوئے کہا:

وأخذت أطراف الکلام فلم تدع

شتمًا یضر ولا مدیحًا ینفع

’’آپ نے میرے کلام کے نوک پلک تک کو خرید لیا، آپ نے تکلیف دینے والی کوئی گالی نہیں چھوڑی اور نہ کوئی مدح سرائی کہ جو کسی کو نفع پہنچائے۔‘‘

ومنعتنی عرض البخیل فلم یخف

شتمی وأصبح أمن لا یفزع

’’آپ نے مجھے اس کلام کو بخیل پر پیش کرنے سے روک دیا، اب وہ میری ہجو سے نہیں ڈرتا، وہ بڑا پر امن ہے، اسے کچھ بھی گھبراہٹ نہیں۔‘‘

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حطیئہ بالکل یہ ہجو چھوڑنے پر دل سے مطمئن نہ ہوا، اس لیے حضرت عمرؓ نے اسے طلب کیا اور اپنے سامنے بٹھایا اور اسے اس کی زبان کاٹنے کی دھمکی دی تو حطیئہ نے کہا: امیر المؤمنین! میں نے اپنی ماں اور باپ تک کی ہجو کی ہے، یہاں تک کہ اپنی بیوی اور خود اپنی ذات کو ہجو سے نہیں بخشا۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ مسکرانے لگے اور اسے معاف کر دیا۔ 

(الکامل فی الأدب: جلد 2 صفحہ 725 )

 اور پھر حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں حطیئہ ہجو کہنے سے باز آ گیا۔ 

اسی سے ملتا جلتا ایک دوسرا واقعہ زہر الآداب کے مصنف نے بھی ذکر کیا ہے: لکھتے ہیں کہ قبیلہ بنو عجلان کے لوگوں کو ’’بنو العجلان‘‘ کے نام پر بڑا فخر تھا، اس نام سے پکارا جانا وہ لوگ باعث شرف و عزت سمجھتے تھے، کیونکہ ان کا دادا عبداللہ بن کعب ’’عجلان‘‘ نام سے اس وجہ سے معروف ہوا کہ وہ مہمانوں کی ضیافت میں پیش قدمی کرتا تھا، اور یہ ان کے لیے شرافت کی چیز تھی، یہاں تک کہ ان کے اس فخریہ نام سے چڑ کھاتے ہوئے قیس بن عمرو بن کعب نجاشی نے اپنے ایک قصیدہ میں ان کی ہجو کی اور کہا:

أولئک أخوال اللعین وأسرۃ

الہجین ورہط الواہن المتذلل

’’وہ سب بدبختوں کے ماموں، دوغلوں کے خاندان والے اور کمزوروں و ذلیلوں کی جماعت کے لوگ ہیں۔‘‘

وما سمی العجلان إلا لقولہ

خذ العقب واحلب أیہا العبد واعجل

’’اس کا نام عجلان اس لیے پڑا کہ لوگ اس سے کہتے تھے کہ ابے او غلام! پیالہ لے اور جلدی جلدی دودھ لا۔‘‘

مذکورہ اشعار کے بعض ناقلین کا خیال ہے کہ نجاشی کے ان اشعار کو سن کر بنو عجلان کے لوگ اسے پکڑ کر حضرت عمرؓ کے پاس لائے اور آپؓ نے اسے قید میں ڈال دیا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپؓ نے اسے کوڑے لگائے۔ 

(زھر الآداب: القیروانی: جلد 1 صفحہ 54، الأدب فی الإسلام: صفحہ 92)

بہرحال یہ واقعات شاہد ہیں کہ خلیفۂ راشد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ہجو کے اشعار پر مواخذہ کرتے تھے، سچ تو یہ ہے کہ آپؓ صرف اسی پر بس نہ کرتے تھے بلکہ شعر کے دیگر اصناف پر بھی آپ سختی سے مواخذہ کرتے، مثلاً وہ اشعار جن میں مسلمانوں کی عزت و ناموس سے چھیڑ چھاڑ کی گئی ہو تاکہ مسلمانوں میں آپس میں بغض و عداوت کی آگ لگ جائے، اسی طرح وہ اشعار جو مسلم خواتین پر تبصرہ کرتے ہوں، وغیرہ۔ دیکھئے واضح الصمد نے اپنی کتاب میں اسے خوب تفصیل سے نقل کیا ہے۔ 

(ادب صدر الاسلام: دیکھئے واضح المصد: صفحہ 92، 93 )


صفحہ 2 از 2