سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حطیئہ و زبرقان بن بدر -…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حطیئہ و زبرقان بن بدر

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

روایت کیا جاتا ہے کہ مخضرمی شاعر حطیئہ جس کی کنیت ابو ملیکہ اور نام جرول بن اوس ہے، نیز بنو قطیعہ بن عبس سے جس کا تعلق ہے، ایک مرتبہ قحط سالی سے بھاگ کر روزی کی تلاش میں عراق جا رہا تھا، راستے میں زبرقان بن بدر بن امرء القیس بن خلف تمیمی سعدی  (عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبوالنصر: صفحہ 219)سے اس کی ملاقات ہو گئی۔ زبرقان اپنی قوم کے صدقات لے کر حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس جا رہا تھا زبرقان نے حطیئہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیا، پھر دونوں میں گفتگو ہوئی اور زبرقان کو حطیئہ کی خستہ حالی کا علم ہوا تو اس نے حطیئہ سے کہا کہ چلو میری قوم میں رہو، اور میرے لوٹنے کا انتظار کرو چنانچہ حطیئہ وہاں چلا گیا، لیکن بغیض بن عامر بن شماس بن لؤی بن جعفر انف الناقہ، جو زبرقان کا حریف تھا، اس نے حطیئہ کو زبرقان سے بدظن کرنے اور اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی، اور اسے زبرقان کے خلاف بھڑکایا اور کامیاب ہو گیا حطیئہ نے اس کردار سے خوش ہو کر بنو انف الناقہ کی تعریف اور زبرقان کی ہجو میں اشعار کہے، اور کئی قصیدوں میں کہے، زبرقان بن بدر حطیئہ کا ہجو پر مشتمل ایک قصیدہ لے کر حضرت عمرؓ کے پاس شکایت کرنے گئے، اس قصیدہ کے چند اشعار یہ ہیں: 

ما کان ذنب بغیض لا أبالکم

فی بائس جاء یحدو آخر الناس

’’تمہارا باپ نہ رہے، سب سے آخر میں ایک ضرورت مند محتاج کو سہارا دے کر بغیض نے کون سا گناہ کا کام کیا ہے۔‘‘

نقدم مریتکم لو أن درتکم

یوماً یجیٔ بہا مسحی و إبساسی

’’اگر میں نے کسی دن تمہاری اونٹنی کا دودھ دوہا اور پیا ہے تو تم کو کبھی میں نے غلہ بھی دیا ہے۔‘‘

دع المکارم لا ترحل لبغیتہا

واقعد فإنک أنت الطاعم الکاسی

’’بزرگی کے حصول کے لیے سفر نہ کرو، بلکہ بیٹھ رہو، تم کو دوسرے لوگ کھلائیں گے اور پہنائیں گے۔‘‘

من یفعل الخیر لا یعدم جوازیہ

لا یذہب العرف بین اللّٰه والناس

’’بھلائی کرنے والا اس کا بدلہ ضرور پاتا ہے، نیکی کبھی اللہ تعالیٰ اور انسانوں کے درمیان رائیگاں نہیں جاتی۔‘‘

ما کان ذنبی ان فلت معاولکم

من آل لأبی صفاۃ أصلہا رأسی

’’میرا کیا قصور اگر تمہاری کدالیں ابوصفاۃ کے اَن سے اچٹ جائیں ان کو نہ لگیں۔‘‘

فدنا ضلوک فسلوا من کنانتہم

مجداً تلیداً ونبلًا غیرأ نکاسی

(عمر بن الخطاب: محمد أبو النصر: صفحہ 220)

’’انہوں نے تم سے مقابلہ کیا تو انہوں نے اپنے ترکش میں قدیم بزرگی و شرافت کو محفوظ رکھا۔‘‘

زبرقان نے اپنا قضیہ پیش کرتے ہوئے یہ اشعار سنا کر کہا کہ حطیئہ نے میری ہجو کی ہے۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا: اس نے تمہارے بارے میں کیا کہا ہے؟ زبرقان نے کہا کہ اس نے مجھ سے کہا ہے:

دع المکارم لا ترحل لبغیتہا

واقعد فإنک أنت الطاعم الکاسی

’’یعنی بزرگی کے لیے سفر نہ کرو بلکہ بیٹھ رہو تم کو دوسرے لوگ کھلائیں گے اور پہنائیں گے۔ الخ‘‘

سیدنا عمرؓ نے کہا: میرے خیال میں یہ ہجو نہیں ہے بلکہ تم پر عتاب کیا ہے۔ زبرقان نے کہا: حسان کو بلاؤ، چنانچہ حسان آئے، آپؓ نے ان سے اس شعر کے بارے میں پوچھا، تو حضرت حسانؓ نے کہا: اس نے زبرقان کی ہجو نہیں کی ہے بلکہ اس پر گندگی اچھالی ہے، پھر حضرت عمرؓ نے اسے قید میں ڈال دیا۔ 

(الأدب فی الإسلام: صفحہ 172)

سیدنا عمرؓ شعر کی باریکیوں کو خود ہی بہت اچھی طرح جاننے والے تھے، لیکن چونکہ اس واقعہ کا تعلق قضاء و فیصلہ سے تھا اس لیے آپ نے ضرورت محسوس کی کہ کسی متخصص ماہر فن کو بلائیں جو در پیش مسئلہ کے بارے میں اپنا فیصلہ دے، اور پھر آپؓ اسے نافذ کریں۔

عربی ادیب عباس محمود عقاد کا کہنا ہے کہ پیش نظر معاملہ میں آپؓ کی نگاہوں سے یہ بات اوجھل ہو گئی کہ آپ خود ہی ادیب اور اشعار کو نقل کرنے والے ہیں، بلکہ آپ کے پیش نظر صرف یہی بات رہی کہ آپ اس وقت ایک قاضی کے مقام پر ہیں، جو شبہات کی بنیاد پر حدود کو معاف کرتا ہے، اور ماہرین فن کے علم سے مستغنیٰ ہو کر صرف اپنے علم کی بنا پر حکم صادر نہیں کرتا۔

(عبقریۃ عمر: 246)

 چنانچہ جب قید کی مشقتوں سے حطیئہ دوچار ہوا تو چند اشعار میں اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کو نرم کرنے کی کوشش کی، اور معذرت کے لیے وہی اسلوب اختیار کیا جو معذرت نامے کا مشہور شاعر نابغہ، نعمان بن منذر کے لیے اختیار کرتا تھا، اس کا شعر تھا: 

أعوذ بجدک إنی امرء

سقتنی الأعادی إلیک السجالا

’’میں آپ کی بزرگی کا واسطہ دے کر پناہ کا طالب ہوں۔ میں بے قصور آدمی ہوں، میرے دشمنوں نے میرے خلاف آپ کو نفرت کا ڈول پلایا ہے۔‘‘

ولا تأخذنی بقول الوشاۃ

فان لکل زمان رجالا

’’آپ چغل خوروں کی باتوں میں آ کر میری گرفت نہ کریں، کیونکہ ہر دور میں ایسے بدخواہ پائے جاتے رہے ہیں۔‘‘

فإن کان ما زعموا صادقًا

فسیقت إلیک نسائی رجالا

’’اگر وہ لوگ اپنی تہمت میں سچے ہیں، تو میری عورتیں آپ کے پاس پیدل لائی جائیں۔‘‘

حواسر لا یشتکین الوجا

یخضضن آلا و یرفعن آلا

’’ان کے چہروں پر دوپٹے نہ ہوں، انہیں ننگے پاؤں ہونے کی وجہ سے پاؤں گھسنے کی شکایت نہ ہو، اور وہ کسی خاندان کی پستی اور کسی خاندان کی برتری کی علامت ہوں۔‘‘

ان اشعار کو سننے کے بعد بھی حضرت عمرؓ نے اس کا عذر قبول نہ کیا، لیکن پھر اس نے دوبارہ دل کو نرم کردینے والے مؤثر اور مائل کرنے والے ابیات سیدنا عمرؓ کے پاس بھیجے، اس میں کہا تھا:

ما ذا تقول لأفراخ بذی مرخ

زغب الحواصل لا ماء ولا شجر

’’چوزوں کے مانند وادی ذی مرخ میں میرے بچوں کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں جو بالکل ناتواں اور بے آب و دانہ ہیں۔‘‘

ألقیت کاسبہم فی قعطر مظلمۃ

فاغفر علیک سلام اللہ یا عمر!

’’آپ نے ان کے کمانے والے کو تاریک قید میں ڈال دیا ہے، اے عمر! آپؓ پر سلامتی ہو، معاف کر دیجیے۔‘‘

أنت الإمام الذی من بعد صاحبہ

ألقت إلیک مقالید النہی البشر

’’آپؓ وہ امام ہیں کہ جس کو اس کے ساتھی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد، مخلوق نے دانائی کی کنجیاں سونپ دیں۔‘‘

لم یؤثروک إذا ما قدموک لہا

لکن بک استأثروا إذ کانت الأثر

’’لوگوں نے خلافت کے لیے آپ کو پیش کر کے آپ پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنے اوپر احسان کیا ہے۔‘‘

فامنن علی صبیۃ بالرمل مسکنہم

بین الأباطح تغشاہم بہا القررُ

صفحہ 1 از 2