کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص…

کفار محاربین سے دوستانہ تعلقات ناجائز اور حرام ہیں، جو شخص ان سے ایسے روابط رکھے وہ گمراہ اور ظالم اور مستحق عذاب الیم ہے۔ جو کافر، مسلمانوں کے دین کا مذاق اُڑاتے ہیں ان کے ساتھ معاشرتی تعلقات، نشست و برخاست وغیرہ بھی حرام ہے۔ مفسدوں سے اقتصادی و معاشر


صفحہ 1 از 6

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین حسب ذیل مسئلہ میں کہ کوئی شخص یا جماعت کسی داعی نبوت ِکاذبہ پر ایمان لانے کی وجہ سے باتفاق اُمت دائرہ اسلام سے خارج ہو، اور اُن کا کفر یقینی اور شک و شبہ سے بالاتر ہو، اس کے علاؤہ اُن میں حسب ذیل وجوہ بھی موجود ہوں۔

(1) وہ اسلام کا لبادہ اُوڑھ کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہوں اور تمام عالم اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف ہوں۔

(2) مسلمانوں کو جانی و مالی ہر طرح کی ایذاء پہنچانے میں تامقدور کوتاہی نہ کرتے ہوں۔

(3) اُن کی مادی قوت اور مالی وسائل میں روز افزوں ترقی کا تمام تر انحصار مسلمانوں کے استحصال پر ہوں، اُن کے کارخانے اور انڈسٹریاں مسلمانوں کے ذریعہ چلتی ہوں اور وہ اسلامی ملک کے تمام کلیدی مناصب پر فائز اور معاشی وسائل پر قابض ہونے کی کوششیں کر رہے ہوں۔

(4) دشمن اسلام بیرونی طاقتوں، یہودی اور مسیحی حکومتوں اور ہندوستان کی اسلام دشمن حکومت سے اُن کے روابط ہوں، الغرض مسلمانوں کیلئے دینی، معاشی، اقتصادی اور معاشرتی اعتبار سے اُن کا طرز عمل سنگین خطرات کا باعث ہو، بلکہ ان کی وجہ سے ایک اسلامی مملکت کو بغاوت و انقلاب کے خطرات تک لاحق ہوں۔

(5) حکومت یا حکومت کی سطح پر یہ توقع نہ ہو کہ اس فتنہ سے ملک و ملت کو بچانے کی کوئی تدبیر کی جائے گی، اور یہ اُمید نہ ہو کہ جس شرعی سزا کے وہ مستحق ہیں وہ اُن پر جاری ہو سکے گی۔ اندریں حالات بے بس مسلمانوں کو اس فتنہ کی روک تھام کیلئے کیا کرنا چاہئے؟ اور اس سلسلہ میں شرعی طور پر ان پر کیا فریضہ عائد ہوتا ہے؟ کیا ان حالات میں اس جماعت یا فرد کی بڑھتی ہوئی جارحیت پر قدغن لگانے کیلئے حسبِ ذیل اُمور کے جواز یا وجوب کی شرعاً کوئی صورت ہے کہ ۔۔۔۔

(الف) امت اسلامیہ اس فرد یا جماعت کے ساتھ برادرانہ تعلقات منتقع کرے۔

(ب) اُن سے سلام و کلام، میل جول، نشت و برخاست، شادی و غمی میں شرکت نہ کی جائے بلکہ معاشرتی سطح پر ان سے مکمل طور پر قطع تعلق کر لیا جائے۔

(ج) اُن سے تجارت، لین دین اور خرید و فروخت کی جائے یا نہیں؟

(د) اُن کے کارخانوں اور فیکٹریوں سے مال خریدا جائے یا اُن کا مکمل اقتصادی مقاطعہ کیا جائے؟

(ھ) اُن کی تعلیم گاہوں، ہوٹلوں، ریسٹورانوں میں جانا جائز ہے یا نہیں؟

(و) اُن سے رواداری برتی جائے یا نہیں؟

(ز) اُن کے کارخانوں اور فیکٹریوں کی مصنوعات استعمال کی جائیں یا نہیں؟ غرض اُن سے مکمل سوشل بائیکاٹ یا مقاطعہ کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ کیا تمام مسلمانوں کو بھی شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ انہیں راہِ راست پر لانے کے لئے اُن کا بائیکاٹ کریں۔جبکہ اُس کے سوا اور کوئی چارہ اصلاح موجود نہ ہو۔

جواب: بلا شعبہ قرآن کریم کی وحی قطعی، جناب رسول اللہﷺ کی احادیثِ متواترہ قطعیہ اور اُمت محمدیہ کے قطعی اجماع سے ثابت ہے کہ حضرت محمدﷺ آخری پیغمبر ہیں، آپﷺ کے بعد کوئ نبی نہیں آ سکتا۔ آنحضرتﷺ کے بعد ہر نبوت کا مدعی کافر اور دائرہ اسلام سے قطعاً خارج ہے۔ اور جو شخص اس مدعی نبوت کی تصدیق کرے، اور اُسے مقتدا و پیشوا مانے وہ بھی کافر و مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

اس کفر اور ارتداد کے ساتھ اگر اس میں وجوہ مذکورہ سوال میں سے ایک وجہ بھی موجود ہو تو قرآن کریم اور احادیثِ نبویہﷺ اور فقہ اسلامی کے مطابق وہ اسلامی اخوت اور اسلامی ہمدردی کا ہرگز مستحق نہیں۔ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کے ساتھ سلام و کلام، نشت برخاست اور لین دین وغیرہ تمام تعلقات ختم کر دیں۔ کوئی ایسا تعلق یا رابطہ اُس سے قائم کرنا جس سے اُس کی عزت و احترام کا پہلو نکلتا ہو یا اُس کو قوت و آسائش حاصل ہوتی ہو جائز نہیں۔ کفار محاربین اور اَدائے اسلام سے ترکِ موالات کے بارے میں قرآن کریم کی بے شمار آیات موجود ہیں اسی طرح احادیثِ نبویہﷺ اور فقہ میں اس کی تفصیلات موجود ہیں۔

یہ واضح رہے کہ کفار محاربین جو مسلمانوں سے برسرِ پیکار ہوں انہیں ایذاء پہنچانے ہوں، اسلامی اصطلاحات کو مسخ کر کے اسلام کا مذاق اُڑاتے ہوں، اور مارِ آستین بن کر مسلمانوں کی اجتماعی قوّت کو منتشر کرنے کے در پے ہوں، اسلام ان کے ساتھ سخت سے سخت معاملہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ رواداری کی اُن کافروں سے اجازت دی گئی ہے جو محارب اور موذی نہ ہوں، ورنہ کفار محاربین سے سخت معاملہ کرنے کا حکم ہے۔

علاؤہ ازیں بسا اوقات اگر مسلمانوں سے کوئی قابل نفرت گناہ سرزد ہو جائے تو بطورِ تعزیر و تادیب ان کے ساتھ ترکِ تعلق اور سلام و کلام و نشت و برخاست ترک کرنے کا حکم شریعتِ مطہرہ اور سنتِ نبویﷺ میں موجود ہے چہ جائیکہ کفار محاربین کے ساتھ۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے تو اسلامی حکومت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان فتنہ پرداز مرتدین پر من بذل دینه فاقتلوہ کی شرعی تعزیر نافذ کر کے اس فتنے کا قلع قمع کرے اور اسلام اور ملت اسلامیہ کو اس فتنے کی یورش سے بچائے۔

چنانچہ رسول اکرمﷺ اور خلفائے راشدینؓ میں فتنہ پرداز موزیوں اور مرتدوں سے جو سلوک کیا، وہ کسی سے مخفی نہیں، اور بعد کے خلفاء اور سلاطینِ اسلام نے بھی کبھی اس فریضے سے غفلت اور تساہل پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لیکن اگر مسلمان حکومت اس قسم کے لوگوں کو سزا دینے میں کوتاہی کرے یا اس سے توقع نہ ہو تو خود مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے، تا کہ وہ بحیثیت جماعت اس قسم کی سزا کا فیصلہ کریں جو اُس کے دائرہ اختیار میں ہوں،

الغرض ارتداد، محاربت، بغاوت، شرارت، نفاق، ایذاء، مسلمانوں کے ساتھ سازش، یہود و نصارٰی و ہنود کے ساتھ ساز باز ان سے وجوہ کے جمع ہو جانے سے بلاشبہ مزکور فی السوال فرد یا جماعت کے ساتھ مقاطعہ یا باںٔیکاٹ صرف جائز بلکہ واجب ہے۔ اگر مسلمانوں کی جماعت بہ ہیںٔتِ اجتماعی اس فتنے کی سرکوبی کے لئے مقاطعہ یا بائیکاٹ جیسے ہلکے سے اقدام سے بھی کوتاہی کرے گی تو وہ عند اللہ مسںٔول ہو گی۔

صفحہ 1 از 6