سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور آپ کا شاعرانہ ذوق - دفاعِ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور آپ کا شاعرانہ ذوق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

مبرد نے حضرت عمرؓ کی تاریخ میں متمم بن نویرہ کی اپنے بھائی مالک بن نویرہ کے حق میں مرثیہ گوئی کا ذکر کرتے ہوئے حضرت عمرؓ کا وہ قول لکھا ہے جو آپؓ نے متمم سے کہا تھا کہ ’’اگر میں شعر کہتا، جیسے کہ تم کہتے ہو، تو جس طرح تم نے اپنے بھائی کا مرثیہ لکھا ہے، اسی طرح میں بھی اپنے بھائی کا مرثیہ لکھتا۔‘‘ 

(الکامل فی الأدب: جلد 2 صفحہ 300)

سیدنا عمرؓ انہی اشعار کو پسند کرتے تھے جن میں اسلامی زندگی کا جوہر چمکتا ہو، وہ اسلامی خصوصیات کی عکاسی کرتے ہوں اور ان کے معانی و مطالب اسلام کی تعلیمات کے خلاف اور اس کی اقدار سے متعارض نہ ہوں۔ آپؓ مسلمانوں کو بہترین اشعار یاد کرنے پر ابھارتے، اور فرماتے تھے: ’’شعر سیکھو، اس میں وہ خوبیاں ہوتی ہیں جن کی تلاش ہوتی ہے، نیز حکماء کی حکمت ہوتی ہے، اور وہ مکارمِ اخلاق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔‘‘ 

(أدب الإملاء: السمعانی: صفحہ 71 )

 اور ابو موسیٰ اشعریؓ کو خط لکھا جو آپؓ کی طرف سے عراق کے حاکم تھے: 

’’تم لوگوں کو شعر سیکھنے کا حکم دو، کیونکہ وہ بلند اخلاق، درست رائے، اور نسبوں کی معرفت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔‘‘ 

(العمدۃ: أبورشیق: جلد 1 صفحہ 15)

آپؓ شعر کے فوائد کے سلسلے میں صرف اتنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اسے دلوں کی چابی اور انسان کے جسم میں خیر کے جذبات کا محرک تصور کرتے ہیں، آپؓ شعر کی فضیلت و فائدہ کو اس طرح بتاتے ہیں: ’’انسان کا سب سے بہترین فن شعر کے چند ابیات کی تخلیق ہے، جنہیں وہ اپنی ضرورتوں میں پیش کرتا ہے۔ ان سے کریم و سخی آدمی کے دل کو نرم کر لیتا ہے، اور کمینے شخص کے دل کو اپنی طرف مائل کر لیتا ہے۔‘‘ 

(الأدب فی الاسلام: دیکھئے نایف معروف: صفحہ 171)

بچوں کی کامل تربیت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے ان کے آباء سے کہتے ہیں کہ انہیں اپنی اولاد کو شعر کی خوبیوں سے واقف کرانا چاہیے۔ آپؓ فرماتے ہیں: ’’اپنے بچوں کو تیراکی اور تیر اندازی سکھاؤ، نیز گھوڑے پر اچھل کر بیٹھنے دو اور انہیں بہترین اشعار سناؤ۔‘‘ 

(الکامل فی الأدب: جلد 1 صفحہ 227)

جاہلی شعراء کے کلام کو بھی کافی لگن سے یاد کرتے تھے، اس لیے کہ کتابِ الہٰی کے افہام و تفہیم سے اس کا گہرا تعلق ہے۔ آپؓ نے کہا: تم اپنے دیوان کو حفظ کر لو اور گمراہ نہ رہو۔ سامعین نے آپؓ سے پوچھا: ہمارا دیوان کون سا ہے؟ آپؓ نے فرمایا: دورِ جاہلیت کے اشعار ان میں تمہاری کتاب قرآنِ مجید کی تفسیر ہے اور تمہارے کلام کے معانی ہیں۔

(المعجم الکبیر: طبرانی: جلد 7 صفحہ 129، الأدب الإسلامی: صفحہ 171) 

آپؓ کا یہ فرمان آپ کے شاگرد اور ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس مؤقف سے متفق ہے، جس میں آپؓ نے کہا ہے کہ جب تم قرآن پڑھو اور اس کو نہ سمجھ سکو تو اس کا مفہوم و معنی عرب کے اشعار میں تلاش کرو، کیونکہ شاعری عربوں کا دیوان ہے۔ ۔

(الأدب الإسلام: صفحہ 171، العمدۃ: أبورشیق: جلد 1 صفحہ 18)

حضرت عمرؓ کے خیال میں جاہلی دور کا سب سے صحیح علم شعر ہی تھا، روایات میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’شعر ہی عرب قوم کا اصل علم تھا، ان کے پاس اس سے زیادہ صحیح کوئی دوسرا علم نہ تھا، جب اسلام آیا تو اہل عرب جہاد اور رومیوں سے معرکہ آرائی میں پھنس کر اس سے غافل ہو گئے، شعر اور اس کی روایت کو چھوڑ دیا، لیکن جب اسلام خوب پھیل گیا، فتوحات کا دائرہ وسیع ہو گیا، اور عربوں نے چین و سکون کی زندگی پائی تو پھر شعر گوئی اور اس کی روایت کی طرف پلٹے، کسی مدون دیوان کا سہارا نہیں لیا، اور نہ کسی شعری تالیف و مجموعے پر اعتماد کیا، وہ لوگ اسی طرح کی شعری و ادبی زندگی سے مانوس رہے، بہت سارے شعرائے عرب موت اور قتل کے ذریعہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے، اس لیے تھوڑے ہی شعری مجموعے کو وہ یاد کر سکے، اور اس کا بیشتر حصہ ضائع ہو گیا۔‘‘ 

(طبقات الشعراء: ابن سلام: جلد 1 صفحہ 25، أدب صدر الإسلام: صفحہ 87)

آپؓ کی نگاہ میں وہی شاعر قابلِ قدر اور محبوب ہوتا تھا جس کا دل ایمان سے لبریز ہو،اور جذبات و احساسات بلند اسلامی کردار و اقدار کے آئینہ دار ہوں، نیز اس نے ان احساسات کو ایسا شعری جامہ پہنایا ہو جس سے حقیقی دین داری کی خوشبو پھوٹ رہی ہو، اور جن اخلاق فاضلہ کو اپنانے اور گلے لگانے کا اسلام نے حکم دیا ہے، اس کے اشعار نے ان اخلاق کی تصویر کشی کی ہو اس کے برخلاف جو اشعار اسلام کے اصولوں اور اس کے اقدار و تعلیمات کے خلاف ہوتے آپؓ ان کا انکار کر دیتے، اور اس قسم کے اسلام مخالف اشعار کہنے والوں سے آپؓ سختی کا رویہ اپناتے، نیز اس سلسلے میں آپؓ کی حساس طبیعت، اور بلند ذوق ہی آپؓ کا معاون بنتا تھا، کہ آپ ادبی نص کی گہرائیوں میں اتر کر اسلامی اصول و تعلیمات سے ہم آہنگ بلند پایۂ اخلاق و اقدار کو سامنے لاتے تھے۔

(عمر بن الخطاب: دیکھئے محمد أبونصر: صفحہ 217)


صفحہ 2 از 2