سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور آپ کا شاعرانہ ذوق - دفاعِ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور آپ کا شاعرانہ ذوق

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

خلفائے راشدینؓ میں سب سے زیادہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اشعار سننے اور ان کی اصلاح کرنے کا ذوق رکھتے تھے، اسی طرح ان سب سے زیادہ شعر کے ذریعہ سے مثال دینے والے بھی آپؓ ہی تھے۔ آپؓ کے بارے میں بعض لوگوں نے یہاں تک لکھا ہے کہ آپؓ کے سامنے شاید ہی کوئی معاملہ آتا رہا ہو اور آپؓ اس پر شعر نہ سناتے رہے ہوں۔ 

(البیان: جاحظ: جلد 1 صفحہ 241، الأدب فی الاسلام: نایف معروف: صفحہ 169 ) بیان کیا جاتا ہے کہ ایک دن آپؓ نیا جوڑا زیب تن کر کے نکلے، لوگ آپؓ کو بہت دھیان سے دیکھنے لگے، اس پر آپؓ نے انہیں مثال دیتے ہوئے یہ اشعار سنائے: 

لم تغن عن ہرمز یومًا خزائنہ

والخلد قد حاولت عاد فما خلدوا

’’موت کے وقت ہرمز کو اس کے خزانوں نے کوئی فائدہ نہ دیا اور قوم عاد نے ہمیشہ آباد رہنے کی کوشش کی لیکن ہمیشہ نہ رہی۔‘‘

أین الملوک التی کانت نوافلہا

من کل أوب إلیہا راکب یفد

’’کہاں گئے وہ بادشاہ جن کے چشموں (گھاٹوں) سے ہر طرف سے آنے والا قافلہ سیراب ہوتا تھا۔‘‘

حوض ہنالک مورود بلا کذب

لا بد من وردہ یومًا کما وردوا

(الادب فی الاسلام: دیکھئے نایف معروف: صفحہ 170)

’’(موت) ایسا حوض ہے جس پر ہر کسی کو یقیناً ایک نہ ایک دن آنا ہے جس طرح کہ لوگ اس پر اس سے پہلے پہنچ چکے ہیں۔‘‘

امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ وادی محسر (منی و مزدلفہ کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جہاں ابرہہ کی فوج تباہ ہوئی تھی۔ مترجم) میں اونٹنی کو تیزی سے ہانک رہے تھے اور یہ شعر پڑھ رہے تھے: 

إلیک تغدو قلقًا و ضیفہا

مخالفاً دین النصاری دینہا 

(مسند الشافعی: صفحہ 122 بحوالہ: عمر بن الخطاب: دیکھئے أبوالنصر: صفحہ 209 )

’’اونٹنی تیری ہی جانب دوڑ رہی ہے، اس حالت میں کہ اس کا زیر تنگ حرکت کر رہا ہے، اور اس کے پیٹ میں بچہ اس کے آڑے آ رہا ہے، اور اس حالت میں کہ اس اونٹنی یعنی اونٹنی والے کا دین نصاریٰ کے دین کے خلاف ہے۔‘‘

مذکورہ شعر کا قائل ایک نجرانی نصرانی ہے جو اسلام لانے کے بعد حج کرنے گیا تھا۔

حضرت عمرؓ کے سامنے عرب کی ایک حکیم اوسی عورت سے پوچھا گیا کہ کون سا منظر سب سے حسین ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ہرے بھرے باغات میں سفید محلات کا منظر۔ یہ سن کر حضرت عمرؓ نے عدی بن زید کا یہ شعر پڑھا:

کدمی العاج فی المحاریب

أو کالبیض فی الروض زہرہ مستنیر

(مسند الشافعی: صفحہ 209، أدب الاملاء: السمعانی: صفحہ 71)

’’جیسے کہ ہاتھی کے دانت کی بنی ہوئی گڑیا جو صدر مجلس میں رکھی ہو، یا جیسے کوئی حسین و جمیل عورت جو کسی ایسے سبزہ زار میں کھڑی ہو جس کے پھول کھلے ہوئے ہوں۔‘‘

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں کسی ایک سفر میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ تھا، رات میں ہم چل رہے تھے، میں آپؓ کے قریب ہوا، آپؓ نے اپنے پاؤں کے آگے اپنا کوڑا زور سے مارا اور کہا:

کذبتم وبیت اللّٰه یقتل أحمد

ونسلمہ حتی نصرع حولہ

’’ربّ کعبہ کی قسم تم جھوٹے ہو، تم اپنی اس بات میں جھوٹے ہو کہ احمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل کر دیے گئے، اور ہم آپؓ کو بچاتے تھے، یہاں تک کہ آپؓ کے اردگرد جامِ شہادت نوش کر رہے تھے۔‘‘

ولما نطأ عن دونہ و نناضل

و نذہل عن أبناء نا و الحلائل

’’جب کہ ہم آپ کی حفاظت میں آپ کے آگے نیزہ بازی اور تیر اندازی کر رہے تھے اور اپنی اولادوں سے ہم اور ہماری عورتیں غافل تھیں۔‘‘نیز کہا:

وما حملت من ناقۃ فوق رحلہا

أبرو أوفٰی ذمۃ من محمد

’’کسی اونٹنی نے اپنے کجاوے پر محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے زیادہ نیکوکار اور وعدہ وفا کرنے والا نہیں بٹھایا۔‘‘

وأکسٰی لبرد الخال قبل ابتذالہ

واعطی لرأس السابق المتجرد

(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 217 )

’’اور نہ آپ سے زیادہ خیر کا لباس اس کے بوسیدہ ہونے سے قبل پہننے والا اور نہ سبقت کرنے والے کے ننگے سر کو زیادہ ڈھانکنے والا۔‘‘

ایک باحث و محقق مذکورہ مثالوں سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ آپؓ سے پہلے اور آپؓ کے دور کے اشعار آپؓ کے حافظہ اور خزینۂ معلومات میں منظم انداز میں ہمہ وقت حاضر رہتے تھے، کیونکہ روزمرہ کی زندگی میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات کے مناسب اشعار برجستہ آپؓ کی زبان پر ہوا کرتے تھے۔ صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ آپ نے اسلام دشمنی میں کہنے جانے والے اشعار کو بھی حفظ کر لیا تھا، چنانچہ ہند بنت عتبہ نے حمزہ رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں کے خلاف جو اشعار کہے تھے، آپؓ نے وہ اشعارحسان بن ثابت کو سنائے، 

(عمر بن الخطاب: محمد أبوالنصر: صفحہ 209)

 اور انہی اشعار نے الزامی جواب دینے کے لیے حضرت حسانؓ کو برانگیختہ کیا۔ بہرحال ہمیں یہ کہنے میں کوئی تردد نہیں کہ حضرت عمرؓ کافی حساس، اور بیدار مغز واقع ہوئے تھے، شعر سے لطف اٹھاتے، اسے روایت کرتے اور اس میں اپنی صحیح رائے قائم کرتے تھے۔ تاہم واضح رہے کہ آپؓ شاعر نہ تھے، جیسا کہ بعض محققین کا خیال ہے۔ جس نے بھی آپؓ کو شاعر کہا ہے بہرحال انصاف پسند ناقدین اور ادباء اسے تسلیم نہیں کرتے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اپنی قوم میں آپؓ کی زندگی کھلی کتاب تھی، ان سے کبھی کوئی چیز آپؓ نے پوشیدہ نہ رکھی، آپؓ کی مجلسیں عام ہوتی تھیں اور اس میں خاص و عام سب شرکت کرتے تھے، پس اگر سیدنا عمرؓ کی کوئی شعری تخلیق ہوتی تو شرکائے مجلس ضرور اسے آپؓ سے روایت کرتے، اسے بار بار پڑھتے، آپس میں ایک دوسرے کو بتاتے، اور وہ اشعار راویوں کے ذریعہ سے ہم تک اسی طرح پہنچتے جس طرح آپ کی سیرت و سوانح ہم تک پہنچی۔ اسی طرح متقدمین ناقدین شعر و ادب نے یہ کہیں نہیں لکھا کہ حضرت عمرؓ شاعر تھے نہ تو ابن سلام نے اپنی کتاب ’’طبقات الشعراء‘‘ میں، نہ ابنِ قتیبہ نے اپنی کتاب ’’الشعر والشعراء‘‘ میں، اور نہ جاحظ نے اپنی کتاب میں اسے ذکر کیا ہے۔ حالانکہ جاحظ نے حضرت عمرؓ کے ادب و بلاغت پر بہت زیادہ بحث کی ہے۔ 

(عمر بن الخطاب: محمد أبوالنصر: صفحہ 210 )

صفحہ 1 از 2