مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنا اور ان کا قتل - دفاعِ اہلِ سنت…

مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنا اور ان کا قتل

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 4

ان ہی لوگوں نے اہل مصر کی طرف وہ سوار روانہ کیا تھا، جو کبھی چھپتا تو کبھی سامنے آتا تھا۔ کبھی قریب ہو کر ان کی باتیں سنتا تو کبھی انہیں دل آزار باتیں کرتا۔ بالآخر جب اسے پکڑ کر اس کی تلاشی لی گئی، تو اس کے پاس سے وہ رسوائے زمانہ خط نکلا، جس میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عفیف دامن پر زمین و آسمان کو ڈھا دینے والی تہمت کا ذکر تھا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اہل مصر کے قتل کر دینے کا حکم دیا ہے۔ اہل مصر نے یہیں سے ایک نئے فتنہ کی بنیاد رکھ دی اور اس بات کی تصدیق تک نہ کی کہ یہ خط سچا ہے یا جھوٹا اور مدینہ پر چڑھ دوڑے۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ ایک تو اس میں خود ان کی فتنہ کی خوگر فطرت کی تسلی کا سامان تھا، دوسرے ان اہل مصر میں سے بے شمار لوگ ابن سبا کی باطنی دعوت کے علم بردار بھی تھے۔ ان کی حماقت و سفاہت پر اور کیا کہیے کہ انہوں نے خلیفہ راشد عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو تو جھٹلایا اور اسلام کے دعوے دار ایک سابقہ یہودی کی بات کو من و عن تسلیم کر لیا اور ان لفنگوں کی ہاں میں ہاں ملائی جو عقل اور دین و دیانت سب سے بے بہرہ تھے۔

جن لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دامن عفت پر تہمت کے چھینٹے اڑانے سے گریز نہ کیا تھا، ان کےلیے مسلم بن عقیلؒ پر کسی تہمت کا لگا دینا کوئی بڑا کام نہ تھا، تاکہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر کے ان مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے جن کے حصول کی پہلی کوشش سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر نے کی تھی۔ چنانچہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح آج وہ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو بھی دھوکہ سے شہید کرنا چاہتے تھے تاکہ خلافت کا صحیح حق دار اپنے حق تک نہ پہنچ سکے۔ اسی ایک مذموم مقصد نے اعدائے صحابہ بالخصوص کوفی سبائیوں کی نظروں میں اس قدر قیمتی خون کو ارزاں کر دیا جو اپنی باطنیت کو مکر و فریب کے ساتھ امت کی جڑوں میں جاگزیں کرنا چاہتے تھے۔ پھر بات صرف سیّدنا حسین اور آل بیت اطہار رضی اللہ عنہم کے خون ناحق تک محدود نہ رہی، بلکہ امت مسلمہ کی صفوں میں صراع و نزاع اور قتل و جدال تک جا پہنچی اور امت جملہ بلند ترین مقاصد میں لگنے کے بجائے باہم دیگر دست و گریبان ہو گئی۔ اس کے بعد ان سبائیوں نے اسلامی معاشرے کی فضا کو شک و ارتیاب، سب و شتم، ابرار اخیار پر لعن طعن، مسلمات کے انکار اور حقد و کینہ کے زہریلے اثرات سے مسموم کر کے رکھ دیا۔ کوفی سبائیوں نے جس فتنہ کی پہلی اینٹ رکھی، امت مسلمہ آج تک اس کی لپٹوں سے جھلستی اور جلتی آ رہی ہے اور دن بدن ان کا سنت سے تمسک کمزور سے کمزور تر ہوتا چلا جا رہا ہے اور بجائے اس کے کہ امت کو قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ سے بغض و عداوت ہو اور وہ ان سے دُور و نفور ہو، الٹا ان سے محبت و مودت کے پرچار میں لگ گئی ہے۔ جبکہ دوسری طرف یہ سبائی کوفی اخوت مواسات کی آڑ میں فاسد وسائل اور دجالانہ ذرائع کے ذریعے مسلمانوں پر کتاب و سنت کو اور زیادہ ملتبس و مشتبہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ و العیاذ باللّٰہ۔


صفحہ 4 از 4