مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنا اور ان کا قتل - دفاعِ اہلِ سنت…

مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنا اور ان کا قتل

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 4

ابو الاسود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے مشیرانِ خاص میں سے تھے۔ چونکہ ابن زیاد کے والد سیدنا امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ کے اعوان و انصار میں سے تھے اس لیے ابو الاسود نے ابن زیاد کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ ابوالاسود اخیر وقت تک سیّدنا علی رضی اللہ عنہ کے وفادار رہے۔ البتہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم و کرم نے انہیں راضی کر دیا اور وہ امت کی وحدت و شیرازہ بندی کے لیے سرگرم عمل ہو گئے اور اس کا لازمی نتیجہ ان عناصر سے شدید عداوت کی صورت میں نکلا، جو امت مسلمہ کی صفوں کو منتشر کرنا چاہتے تھے۔ جن میں سرفہرست رافضی سبائیوں کا نام آتا ہے۔ چنانچہ ابو الاسود سبائیوں کے ازحد دشمن تھے۔ ہمارا یہ مختصر رسالہ ان تفاصیل کا نہ تو متحمل ہے اور نہ ان تفاصیل کا یہ موقعہ ہی ہے۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ جن لوگوں نے سیدنا عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے پاکیزہ خونوں سے اپنے ہاتھوں کو رنگتے ہوئے مطلق دریغ نہ کیا، ان کے بعد ان کے لیے کسی کے بھی خون سے ہاتھ رنگنا کوئی مشکل کام نہ تھا اور ایسا ہی ہوا۔ چنانچہ ان کوفی رافضیوں نے بلاتردد آل بیت رسول کے متعدد چراغ ایک ہی دن میں گل کر دئیے۔ اس لیے امت مسلمہ کو تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے کہ شاید اس سے ہم اپنا حال درست کر سکیں ۔ لیکن آج ہے کوئی جو صحیح تاریخ سے سب سیکھے۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ترویہ کے دن مکہ سے روانہ ہوئے۔ بے شمار صحابہ رضی اللہ عنہم نے آپ کو روکنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ جن میں سیّدنا ابن عمر، سیّدنا ابن عباس، سیدنا ابن زبیر، سیدنا ابن عمرو رضی اللہ عنہم جیسے رفیع الشان اور جلیل القدر صحابہ کرام کے اسمائے گرامی آتے ہیں۔ جبکہ خود آپ کے بھائی محمد بن حنفیہ نے بھی روکنے اور سمجھانے کی بے حد کوشش کی۔ لیکن سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما خروج کا عزمِ مصمم کر چکے تھے، اسی لیے آپ نے کسی کی بھی بات کو نہ مانا۔

گزشتہ صفحات میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ مسلم بن عقیلؒ نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر مطلع کیا کہ کوفہ میں آپ کے بے شمار مؤیدین ہیں اور ساتھ ہی اس بات کی ترغیب بھی دی کہ بس اب جلدی سے چلے آئیے۔ چنانچہ خط ملتے ہی سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما نے چلنے کی تیاریاں شروع کر دی تھیں۔ لیکن ابھی آپ کوفہ نہ پہنچے تھے کہ اثنائے طریق میں آپ کو مسلم بن عقیلؒ کا دوسرا خط ملا، جس میں صاف لکھا تھا کہ کوفہ مت آئیے اور جدھر سے آئے ہیں، ادھر ہی کو لوٹ جائیے۔ اس خط کا مضمون یہ تھا:

’’اپنے اہل بیت کو لے کر لوٹ جائیے تاکہ یہ کوفی آپ کو دھوکہ نہ دے سکیں۔ یہ آپ کے والد ماجد کے وہی ساتھی ہیں، جن کے بارے میں ان کی شدید تمنا تھی کہ موت یا شہادت آ کر انہیں ان لوگوں سے جدا کر دے۔ اہل کوفہ نے میرے اور آپ دونوں کے ساتھ دروغ بیانی سے کام لیا ہے اور دروغ گو کی کوئی رائے نہیں ہوا کرتی۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 171 تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 290)

جب مسلم بن عقیلؒ گرفتار کر لیے گئے اور ان کے قتل کر دئیے جانے کا فیصلہ کر لیا گیا، تو انہوں نے عمر بن سعد سے اس بات کی درخواست کی کہ وہ ایک وفد بھیج کر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو اپنے ساتھ بیتنے والے جملہ واقعات کی خبر دے دیں۔ چنانچہ مسلم بن عقیلؒ نے ابن زیاد سے یہ کہا: ’’مجھے وصیت کرنے دیجیے۔‘‘

ابن زیاد نے کہا ٹھیک ہے، مسلمؒ نے عمر بن سعد بن ابی وقاص کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا اور یہ کہا:

’’مجھے تم سے ایک کام ہے، تیرے اور میرے درمیان قرابت داری ہے۔‘‘

پھر عمر بن سعد کے پاس جا کر کہا: ’’اے صاحب! یہاں تمہارے اور میرے سوا تیسرا کوئی قریشی نہیں اور حسین (رضی اللہ عنہ) تم لوگوں کے پاس پہنچنے والے ہیں۔ ان کی طرف پیغام بھیج دو کہ وہ لوٹ جائیں کہ کوفیوں نے ان کے ساتھ دروغ بیانی اور مکر و فریب سے کام لیا ہے اور ہاں مجھ پر قرض بھی ہے۔ میری طرف سے اسے تم ادا کر دینا اور میری لاش کو ابن زیاد سے لے کر دفن کر دینا (تاکہ وہ اسے سولی پر نہ لٹکائے رکھے)۔‘‘

جب ابن زیاد نے عمر بن سعد سے پوچھا کہ مسلمؒ نے کیا کہا ہے اور عمر نے سب بتلا دیا، تو ابن زیاد کہنے لگا:

’’مسلمؒ کا مال تیرا ہے، ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں۔ رہے حسین، تو اگر انہیں اب چھوڑ دیا، تو دوبارہ کبھی ان پر قابو نہ پا سکیں گے۔ اور رہی مسلمؒ کی لاش، تو جب انہیں قتل کر دیا جائے گا، تو ہمیں ان کی لاش سے کوئی واسطہ نہیں (جو چاہے کر لینا۔ یعنی تمہیں مسلم کی لاش دفن کر دینے کی اجازت ہے)۔‘‘

رب تعالیٰ مسلمؒ پر رحم فرمائے، پھر انہیں قتل کر دیا گیا۔ عمر بن سعد نے انہیں کفنایا بھی اور دفنایا بھی اور ان کا قرض بھی چکا دیا اور ایک اونٹنی سوار کو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرف مسلمؒ کے قتل کی خبر دے کر بھیجا۔ وہ کوفہ سے چار مراحل کے فاصلہ پر سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما سے جا ملا۔

(تاریخ الاسلام: جلد، 1 صفحہ 524)

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ان متضاد و مخالف خبروں کے پہنچنے پر بے حد متذبذب اور پریشان ہو گئے۔ یہ آپ کی زندگی کا سب سے زیادہ مشکل مرحلہ تھا۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہ تھی، ان کوفیوں کی یہ قدیم روش تھی، اس سے قبل انہی لوگوں نے سیدنا عثمان اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں افواہوں کا طومار باندھا تھا۔ انہی لوگوں نے سیدنا علی، سیدنا طلحہ و سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان متضاد خبریں پھیلا کر غلط فہمیاں پیدا کی تھیں۔

صفحہ 3 از 4