مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنا اور ان کا قتل - دفاعِ اہلِ سنت…

مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجنا اور ان کا قتل

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 4

عصر حاضر میں ان کوفیوں کے جدید ایڈیشن کے طرزِ عمل سے اس بات کا مشاہدہ آفتابِ نیم روز کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے کہ جھنڈے تو اٹھائے جاتے ہیں آل بیت کی نصرت کے جبکہ یہی لوگ ہر اس شخص کے درپے رہتے ہیں، جنہوں نے رب تعالیٰ کی کتاب اور سیّد آل بیت حضرت رسالت مآبﷺ کی سنت کو داڑھوں کے ساتھ مضبوطی سے تھام رکھا ہوتا ہے۔

اگر بات صرف اسی حد تک موقوف تھی کہ کوفہ کی فضا کو فتنہ و بغاوت کی شورا شوری سے پاک کیا جائے تو اس مقصد کے حصول کے لیے ابن عقیلؒ کی گرفتاری اور انہیں قید و بند میں ڈال دینا ہی کافی تھا۔ لیکن ابن زیاد کے فعل نے جس فکر کی غمازی کی، وہ کوفیوں کی اس کج فطرت کو کچلنے کے لیے فوجی طاقت کا استعمال تھا، جس کو امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ بھی اپنے دَورِ خلافت میں تلوار کے زور پر کچل نہ سکے تھے۔ لیکن افسوس کہ ابن زیاد اس موقع پر طاقت کے استعمال میں حد سے تجاوز کر گیا اور اس فعل کا ارتکاب کر گیا، جس کا کوفیوں کی کج فطرت کو کچلنے کے ہدف سے ادنیٰ سا بھی تعلق نہ تھا اور وہ مسلم بن عقیل کا قتل تھا۔

لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بعد جب سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم کے ساتھ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا جود و کرم مل گیا تو اس بیماری کو کاٹ کر رکھ دیا گیا، فتنہ کی تلوار نیاموں میں ڈال دی گئی اور امت کی وحدت و یگانگت اور الفت و مودت دوبارہ لوٹ آئی۔ رافضی سبائیت کا سخت گھیراؤ کیا گیا اور اب وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم و بردباری کے حصار میں بری طرح ذلیل و رسوا کی گئی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بے پناہ ذہانت و ذکاوت اور حزم و احتیاط کے آگے سبائیت دم سادھ کر رہ گئی۔ لیکن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس دنیا سے پردہ کرتے ہی سبائیت نے امت مسلمہ کی پیٹھ میں ایک بار پھر اپنے زہریلے دانت گاڑنے شروع کر دئیے اور حقد و کینہ، کھوٹ اور مکر کے وہی فتنے کھڑے کرنے لگے، جو سیدنا عثمان شہید اور سیدنا علی شہید رضی اللہ عنہما کی زندگیوں میں کھڑے کیے تھے۔ فتنوں کی اس آگ نے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی حیات طیبہ کو گھیرے میں لے لیا اور بالآخر انہیں شہید کر کے چھوڑا۔ یاد رہے کہ بعد میں اسی آگ میں ابن زیاد اور اس کے اعوان و انصار بھی جل کر خاکستر ہو گئے تھے۔

ابن زیاد کوفہ کے معاشرتی، سیاسی اور فکری مکاتب فکر کا ایک طالب علم اور فارغ التحصیل تھا، جہاں کی بنیادی تعلیم فتنہ پروری، جعل سازی اور انارکی پھیلانا تھی۔ افسوس کہ ابن زیاد نے کوفہ کے ’’نصاب تعلیم‘‘ سے تو خوب فائدہ اٹھایا لیکن ان جلیل القدر علماء و فضلاء کے علم و عمل سے استفادہ کرنے سے محروم رہا جنہوں نے اس کی تعلیم و تربیت میں بڑی جانکاہ کاوشیں کی تھیں، جن میں ایک عظیم نام ابو الاسود الدؤلی ( ان کو الدیلی بھی کہا جاتا ہے۔ بصرہ کے قاضی تھے۔ نام ظالم بن عمرو تھا۔ یہی مشہور روایت ہے۔ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابی بن کعب، حضرت ابن مسعود، حضرت ابو ذر اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم سے حدیث کی روایت کی۔ سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے قرآن پڑھا۔ جبکہ خود ان کے بیٹے ابو حرب اور نصر بن عاصم، حمران بن اعین اور یحییٰ بن یعمر نے ان سے قرآن پڑھا۔ ان سے روایت کرنے والوں میں یحییٰ بن یعمر، عبداللہ بن بریدہ، عمر مولیٰ غفرہ اور ان کے اپنے بیٹے ابو حرب کا نام آتا ہے۔ احمد عجلی کہتے ہیں: ابو الاسود ثقہ ہیں۔ علم نحو میں سب سے پہلے کلام انہوں نے ہی کیا تھا۔ واقدی کہتے ہیں نبی کریمﷺ کی حیات مبارکہ میں مشرف بہ اسلام ہو گئے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ جنگ جمل کے دن جناب علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کر رہے تھے۔ ابو الاسود کا شمار سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ان خواص میں ہوتا تھا، جو عقل و رائے میں کمال کی انتہا کو پہنچے ہوئے تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں علم نحو کے بنیادی قواعد کو وضع کرنے کا حکم دیا۔ جب ابو الاسود نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھے قواعد دکھائے، تو انہوں نے فرمایا: اے ابو الاسود! تم نے کس قدر عمدہ قواعد وضع کیے ہیں اور ان قواعد کو ’’نحو‘‘ کا نام دیا۔ ایک قول یہ ہے کہ ’’ابو الاسود نے عبداللہ کو تعلیم دی۔‘‘ بیان کیا جاتا ہے کہ ابو الاسود جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس وفد بن کر حاضر ہوئے، تو انہوں نے ابو الاسود کو اپنے قریب کیا اور انہیں عظیم تحائف سے نوازا۔ ان کا مشہور شعر یہ ہے: و ما طلب المعیشۃ بالتمنی و لکن الق دلوک فی الدلاء تجیء بمثلہا طورا و طورا و تجیء بحمأۃ و قلیل ماء ’’روزی تمنا سے نہیں ملتی۔ البتہ تو بھی دوسرے ڈولوں کے ساتھ اپنا ڈول ڈال دے۔ اکثر تو وہ ایک جیسا نکلے گا (کہ دوسروں کی طرح پانی بھر کر ہی لائے گا) اور کبھی گارے اور تھوڑے پانی کے ساتھ آئے گا۔‘‘ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 2 صفحہ 122)) کا بھی آتا ہے، جو کبار تابعین میں سے تھے۔ 

صفحہ 2 از 4