عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم - دورِ حاضر کے فتنے |…

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم

  حنیف معاویہ

صفحہ 4 از 4
 (شرح النووی علی الصحیح لمسلم، کتاب الفضائل، کتاب فضائل الصحابة رضی اللہ عنهم۔149/15 دار إحیاء التراث العربی،بیروت)

ترجمہ: ’’بہرحال سیدنا امیر معاویہؓ  تو وہ عادل، صاحبِ فضیلت اور معزز صحابی ہیں، جہاں تک ان محاربات و مشاجرات کا تعلق ہے جو اُن حضرات کے مابین پیش آئے تو وہاں ہر ایک کو کوئی اشتباہ و التباس تھا، جس کی وجہ سے ہر ایک نے خود کو درست سمجھا، جبکہ وہ سب کے سب عادل ہیں اور ان کے مخاصمات و باہمی منازعات میں ان کے پاس تاویل موجود ہے، ایسے کسی معاملہ نے انہیں عدالت سے نہیں نکالا، کیونکہ وہ مجتہد تھے، (جس کا نتیجہ یہ ہے کہ) محلِ اجتہاد میں کچھ مسائل میں ان کا اختلاف ہوگیا، جیسا کہ ان کے بعد بھی مختلف مسائل میں مجتہدین کا اختلاف ہوتا رہتا ہے، اس سے ان میں سے کسی کی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا یہ تمام صحابہ کرامؓ  معذور ہیں اور اسی وجہ سے اہلِ حق اور ان لوگوں کا کہ اجماع کے باب میں جو لائقِ اعتبار و قابلِ شمار ہے کا حضرات صحابہ کرامؓ  کی گواہیوں اور روایات کے قبول ہونے نیز کمالِ عدالت و تقویٰ پر اتفاق اور اجماع ہے ۔‘‘

لہٰذا  سیدنا امیر معاویہؓ  سمیت تمام صحابہ کرامؓ  نہ صرف روایتِ حدیث میں بلکہ تمام امورِ حیات و معاملاتِ زندگی، احوال و آثار اور اوصاف و خصائل میں عادل اور متقی و پرہیزگار ہیں۔ یہ نظریہ کہ ’’صحابہ کرامؓ  اجمعین صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں‘‘ خلاف ِ اہل السنۃ و الجماعۃ باطل اور غلط ہے۔


عدالت صحابہ اور صحابہ کرام کے متعلق دیگر اہل سنت عقائد کے لئے اس کیٹیگری میں موجود تحاریر کا مطالعہ کریں۔

صحابہ کرامؓ کے متعلق عقائد اہلسنت 

 


صفحہ 4 از 4