عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم - دورِ حاضر کے فتنے |…

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم

  حنیف معاویہ

صفحہ 3 از 4
’’دراصل مولانا مودودی صاحب نے عدالتِ صحابہؓ  کا جو مفہوم بیان کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ روایتِ حدیث کی حد تک تو عادل ہوسکتے ہیں، لیکن زندگی کے تمام معاملات میں ان سے بعض کام عدالت کے منافی صادر ہوسکتے ہیں۔ ‘‘

(سیدنا امیر معاویہؓ  اور تاریخی روایات، صحفہ163، مکتبہ معارف القرآن، کراچی، 2011ء)

حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع عثمانی دیوبندیؒ اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:

’’اور بعض علماء نے جو عدمِ عصمت اور عمومِ عدالت کے تضاد سے بچنے کے لیے ’’عدالت‘‘ کے مفہوم میں یہ ترمیم فرمائی کہ یہاں ’’عدالت‘‘ سے مراد تمام اوصاف و اعمال کی عدالت نہیں بلکہ روایت میں کذب نہ ہونے کی عدالت مراد ہے، یہ لغت و شرع پر ایک زیادتی ہے جس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ (مقامِ صحابہؓ، صحفہ:60)

محققِ اہل السنۃ مولانا مہر محمدؒ (میانوالی) لکھتے ہیں:

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام صحابہ کرامؓ بلا استثناء، دروغ گوئی خصوصاً کذب فی الروایۃ سے پاک و صاف تھے اور کسی سے بھی کذب کا صدور نہیں ہوا اور بایں معنی عادل ہونا بھی ان کی منقبت کی واضح دلیل ہے، لیکن عدالتِ صحابہؓ  کو صرف اس معنی میں منحصر کرنا اور اسے محدثین کی مراد بتانا ناقابلِ تسلیم اور لائقِ مناقشہ ہے، کیونکہ بعض محدثین نے عدالت کی تفسیر میں جھوٹ سے بچنا لکھا ہے تو اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ ان محدثین کے نزدیک صحابہؓ روایت میں عمداً کذب بیانی کے سوا باقی سب اُمور اور شعبہ ہائے حیات میں غیر عادل حتیٰ کہ ہر قسم کے کبیرہ گناہوں تک کا ارتکاب کرتے تھے، جیسے صاحبِ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ اور ان کے حواریوں کا خیال ہے، بلکہ جھوٹ سے بچنے کی تصریح کا مطلب یہ ہے کہ بایں معنی صحابہؓ رضی اللہ عنہم کی عدالت اتنی قطعی اور اٹل ہے جیسے انبیاء علیہم السلام کی گناہوں سے عصمت کہ اس میں استثناء یا شذوذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ کسی عالم نے آج تک یہ لکھا ہے کہ صحابہ کرامؓ جھوٹ بولتے تھے، بخلاف چند اور گناہوں کے کہ چند حضرات کی ان سے عصمت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ حضرات صحابہ کرامؓ  کا ہر فرد انبیاء علیہم السلام کی طرح قطعی معصوم نہیں کہ صدور معصیت محال ہی ہو، ہم نے اپنی کتاب میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔ 

 عدالت ِصحابہؓ صرف روایت عن الرسول میں منحصر نہیں، بلکہ ان کی سیرت کے ہر پہلو میں عام ہے۔  محدثین جو عام رُواۃ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ عادل ہیں تو یہ اس کی پوری سیرت کی پاکیزگی پر شہادت ہوتی ہے کہ وہ کبائر سے مجتنب اور صغائر پر غیر مصر ہیں، پھر اسی بحث میں وہ صحابہ کرامؓ رضی اللہ عنہم کے متعلق کہتے ہیں: 

’’الصّحابۃؓ کُلُّهم عدول‘‘
 ترجمہ: کہ صحابہ کرامؓ  سب کے سب عادل ہیں تو اب اس عدالت کو تجنُّب عن الکذب میں مخصوص نہیں کیا جائے گا، ورنہ لازم آئے گا کہ غیر صحابیؓ کی عدالتِ صحابیؓ سے افضل ہو، وھو باطل 

علماء اصولِ حدیث اور محدثین

 ’’کُلُّهم عدول کی دلیل ذکر کرتے ہوئے یہ جملہ فرماتے ہیں: ’زَکّیاھم و عدّلاھم‘‘ 

کیونکہ خدا اور رسولﷺ  نے ان کا تزکیہ کیا ہے اور ان کو عادل قرار دیا ہے۔ خدا اور رسول کا یہ تزکیہ اور تعدیل صرف کذب سے اجتناب میں نہیں کہ صحابہؓ  دیگر گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے تھے، بلکہ یہ مجموعی طور پر ان کے اعمال و اخلاق کی عیوب سے طہارت اور آلودگیوں سے اجتناب پر شہادت ہے، تو معلوم ہوا محدثین کے نزدیک بھی عدالت میں تعمیم ہے۔ بہرحال! تزکیہ، نزاہت، قصدِ معصیت سے تبریہ ان کی شان کی گناہوں سے بلندی جیسے واضح الفاظ ہمارے مؤید ہیں کہ صحابہ کرامؓ  کی عدالت عام ہے اور وہ بالعموم سب گناہوں اور معاصی سے محفوظ ہیں، ایسی صراحتوں کے باوجود کیا اب بھی محدثین پر یہ اتہام لگایا جائے گا کہ ان کے نزدیک صحابہؓ  تعمدِ کذب فی الروایۃ تک عادل تھے، باقی ہر قسم کے کبائر اور معاصی کرتے تھے اور ذنوب ان سے معدوم نہیں ہوئے تھے؟‘‘

(عدالت ِ صحابہ کرامؓ  ، صحفہ:70 تا 75، طبع ہفتم)

یہ ایک بالکل بدیہی اور سادہ سی سے بات ہے، اگر یہ موقف تسلیم کر لیا جائے کہ صحابہ کرامؓ  عام زندگی میں عادل نہیں، صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں اور ان کی قبولِ روایت کے لیے عام زندگی میں عدالت ضروری نہیں تو اس سے نہ صرف یہ اصولِ حدیث میں برائے قبولِ روایت عدالت کی شرط ایک مذاق اور مضحکہ خیز قاعدہ بن کر رہ جائے گا، بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ صحابہ کرامؓ کے علاوہ دیگر رواۃ تو عام معاملاتِ حیات میں بھی عادل ہوں اور صحابیِ رسولؓ  نعوذ باللہ! عادل نہ ہو، جیسا کہ حضرت مولانا مہر محمدؒ  میانوالوی  نے بھی ذکر فرمایا ہے۔

بعض حضرات نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ  کی طرف بھی ایسی باتوں کی نسبت کی ہے، جس کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع عثمانی دیوبندیؒ  نے (مقامِ صحابہؓ، صحفہ:60، 61 میں) یہ تصریح فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاً:شاہ صاحب کی طرف ان عبارات کی نسبت مشکوک ہے۔

ثانیاً: اگر تسلیم کرلیا جائے کہ یہ حضرت شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی عبارات ہیں تو خلافِ جمہور ہونے کی وجہ سے متروک و مردود ہیں۔ دوسری طرف سیدنا امیر معاویہؓ کی عدالت و تقویٰ پر علماء امت کی تصریحات موجود ہیں، ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیں۔

شارح صحیح مسلم امام نوویؒ سیّدنا امیر معاویہؓ  کی عدالت پر مہرِ اثبات ثبت کرتے ہوئے ان کے بارے میں فرماتے ہیں

’’وأما معاویة رضي اللّٰه عنه فهو من العَدُول الفضلاء والصَّحابة النُّجباء رضي اللّٰه عنه وأما الحروب التي جرت فکانت لکل طائفة شبهة اعتقدت تصویب أنفسها بسببها وکلهم عدول رضي اللّٰه عنهم ومتأولون في حروبهم وغیرها ولم یخرج شيء من ذلک أحدا منهم عن العدالة لأنهم مجتهدون اختلفوا في مسائل من محل الاجتهاد کما یختلف المجتهدون بعدهم في مسائل من الدماء وغیرها ولا یلزم من ذلک نقص أحد منهم۔۔ فکلهم معذورون رضي اللّٰه عنهم ولهذا اتفق أهل الحق ومن یعتد به في الإجماع علی قبول شهاداتهم وروایاتهم وکمال عدالتهم رضي اللّٰه عنهم أجمعین۔‘‘
صفحہ 3 از 4