عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم - دورِ حاضر کے فتنے |…

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم

  حنیف معاویہ

صفحہ 2 از 4
اس لیے اہلِ السنّۃ و الجماعۃ کا بجا طور پر موقف یہی ہے کہ حضرات صحابہ کرامؓ نہ صرف روایتِ حدیث میں عادل و پاکباز ہیں، بلکہ تمام معاملاتِ زندگی اور اعمالِ حیات میں بھی عادل و متقی اور پرہیزگار ہیں، تاہم معصوم نہیں ہیں کہ ان سے کوئی خطا اور گناہ سرزد ہی نہ ہو۔ معصوم عن الخطا صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی ذاتِ قدسیہ ہیں، صحابہ کرامؓ محفوظ عن الخطا ہیں، یعنی یا تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے خطا و معصیت کا صدور ہونے نہیں دیتے اور اگر کسی ایزدی حکمت و ربانی مصلحت کی بنا پر کسی معصیت و گناہ کا صدور ہو تو خداوند قدوس صحابیؓ کی زندگی میں ہی اس کا ازالہ و تدارک کروا دیتے ہیں کہ صحابیؓ جب دنیا سے جاتا ہے تو بموجبِ وعدۂ خداوندی وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰه الْحُسْنٰی ترجمہ: جنتی بن کر دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس لیے  الصّحابۃؓ کُلُّهم عدول‘کا یہ مطلب لینا کہ صحابہ کرامؓ  انبیاء ِ کرام علیہم السلام کی مانند معصوم ہیں، نادرست اور غلط ہے، عصمت خاصۂ انبیاء ہے، تاہم دوسری طرف یہ کہنا کہ صحابیؓ عام زندگی میں اس مفہوم میں بھی عادل نہیں ہوتا جو اہلِ السنت کے ہاں متفق علیہ و مسلَّم ہے، تصریحاتِ اہل السنۃ و تشریحاتِ اکابر علماءِ دیوبند کے مطابق و موافق نہیں ہے۔ اس کا واضح مطلب تو یہ ہوا کہ صحابیؓ فاسق ہوسکتا ہے، کیونکہ عدالت اور فسق میں تباین و تضاد ہے، عادل ہے تو فاسق نہیں، فاسق ہے تو عادل نہیں اور عادل نہیں تو فاسق ہے۔
مگر بہت سے گم راہ نظریات رکھنے والے لوگوں کا نظریہ اور اعتقاد یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ روایتِ حدیث میں تو عادل ہیں، مگر دیگر احوالِ زندگی میں عادل اور متقی نہیں ہیں۔ درحقیقت اس اعتراض اور نقطۂ نظر کا مبدأ اور منشأ سیدنا امیر معاویہؓ کو غیر عادل اور فاسق و فاجر اور باغی و طاغی تک قرار دینا ہے، اسی ضرورت سے یہ نظریہ ایجاد کرنا پڑا۔ 

چنانچہ مودودی صاحب اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’میں’’الصَّحَابۃؓ کلُّهم عدول‘‘ (صحابہؓ سب راست باز ہیں) کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ تمام صحابہؓ بے خطا تھے، اور ان میں سے ہر ایک ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے بالا تر تھا اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے، بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہﷺ سے روایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابیؓ نے کبھی راستے سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے۔‘‘ 
 (خلافت و ملوکیت، صحفہ303، ط:ادراہ ترجمان القرآن، لاہور، 2019ء)

موجودہ دور میں بھی بعض ایسے نظریاتِ فاسدہ و خیالاتِ کاسدہ کے حامل لوگ پیدا ہوچکے ہیں ۔اس نظریہ کا علماءِ امت نے ابطال اور رد فرمایا ہے،

چنانچہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب‘ مودودی صاحب کے اس موقف کا ردِ بلیغ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر اس کتاب (خلافت و ملوکیت) کے ان مندرجات کو درست مان لیا جائے جو خاص سیدنا معاویہؓ سے متعلق ہیں تو اس سے عدالتِ صحابہؓ  کا وہ بنیادی عقیدہ مجروح ہوتا ہے جو اہلِ سنت کا اجماعی عقیدہ ہے اور جسے مولانا مودودی صاحب بھی اصولی طور پر درست مانتے ہیں۔ مولانا نے ’الصحابۃؓ کلھم عدول‘‘ ترجمہ: تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں کو اصولی طور پر اپنا عقیدہ قرار دے کر یہ لکھا ہے کہ اس عقیدے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ صحابہؓ  سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ روایتِ حدیث میں انہوں نے پوری دیانت اور ذمہ داری سے کام لیا ہے لیکن اس گفتگو میں مولانا نے اس بحث کو صاف نہیں فرمایا، عقلی طور پر عدالتِ صحابہؓ کے تین مفہوم ہوسکتے ہیں:

صحابہ کرامؓ معصوم اور غلطیوں سے بالکل پاک ہیں۔
2۔صحابہ کرامؓ  اپنی عملی زندگی میں (معاذ اللہ) فاسق ہوسکتے ہیں، لیکن روایتِ حدیث کے معاملے میں بالکل عادل ہیں۔
3.صحابہ کرامؓ نہ تو معصوم تھے اور نہ فاسق۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بعض مرتبہ بتقاضائے بشریت "دو ایک یا چند‘‘ غلطیاں سرزد ہوگئی ہوں، لیکن تنبُّہ کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور اللہ نے انہیں معاف فرما دیا، اس لیے وہ ان غلطیوں کی بنا پر فاسق نہیں ہوئے۔

چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی صحابیؓ نے گناہوں کو اپنی پالیسی بنا لیا ہو، جس کی وجہ سے اسے فاسق قرار دیا جاسکے۔ پہلے مفہوم کو تو انہوں نے صراحتاً غلط کہا ہے اور جمہور اہلِ سنت بھی اسے غلط کہتے ہیں۔ اب آخری دو مفہوم رہ جاتے ہیں، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم درست ہے؟ اگر ان کی مراد دوسرا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ صحابہ کرامؓ  صرف روایتِ حدیث کی حد تک عادل ہیں، ورنہ اپنی عملی زندگی میں وہ معاذ اللہ! فاسق و فاجر بھی ہوسکتے ہیں تو یہ بات ناقابلِ بیان حد تک غلط اور خطرناک ہے۔ اس لیے کہ اگر کسی صحابیؓ کو فاسق و فاجر مان لیا جائے تو آخر روایتِ حدیث کے معاملہ میں اسے فرشتہ تسلیم کرنے کی کیا وجہ ہے؟ جو شخص اپنے ذاتی مفاد کے لیے جھوٹ، فریب، رشوت، خیانت اور غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے وہ اپنے مفاد کے لیے جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا؟ اسی لیے تمام محدثین اس اُصول کو مانتے ہیں کہ جو شخص فاسق و فاجر ہو اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی۔ ورنہ اگر روایات کو مسترد کرنے کے لیے یہ شرط لگا دی جائے کہ راوی کا ہر ہر روایت میں جھوٹ بولنا ثابت ہو تو شاید کوئی بھی روایت موضوع ثابت نہیں ہوسکے گی اور حدیث کے تمام راوی معتبر اور مستند ہو جائیں گے، خواہ وہ عملی زندگی میں کتنے ہی فاسق و فاجر ہوں اور اگر مولانا مودودی صاحب عدالتِ صحابہؓ کو تیسرے مفہوم میں درست سمجھتے ہیں، جیساکہ اوپر نقل کی ہوئی ایک عبارت سے معلوم ہوتا ہے، سو یہ مفہوم جمہور اہلِ سنت کے نزدیک درست ہے، لیکن سیدنا امیر معاویہؓ پر انہوں نے جو اعتراضات اپنی کتاب میں کیے ہیں، اگر اُن کو درست مان لیا جائے تو عدالت کا یہ مفہوم ان پر صادق نہیں آ سکتا۔

 سیدنا امیر معاویہؓ  اور تاریخی حقائق، صحفہ:139 تا 146، ط: معارف القرآن، کراچی، 2016ء)

یہی بحث حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے دوسرے باب ، صفحہ254 پر بھی کی ہے

مولانا محمد ثاقب رسالپوری اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

صفحہ 2 از 4