عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم - دورِ حاضر کے فتنے |…

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم

  حنیف معاویہ

صفحہ 1 از 4

     عدالتِ صحابہؓ کا مفہوم

    اہلِ السنۃ و الجماعۃ کا یہ اجتماعی عقیدہ ہے کہ صحابہ کرامؓ  اگرچہ انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں ہیں، مگر وہ عادل، مُتْقِن، متقی اور انتہا درجہ پرہیزگار ہیں۔ آسمانِ دیانت و تقویٰ کے درخشندہ ستارے ہیں۔ فسق و فجور جن کے قریب بھی نہیں پھٹکا، چنانچہ خداوندِ قدوس نے قرآن کریم میں صحابہ کرامؓ کو مخاطَب کرکے فرمایا:

’’وَلٰکِنَّ اللّٰه حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَه فِيْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ أُولٰئِکَ همُ الرَّاشِدُوْنَ۔‘‘ (الحجرات:7)

’’لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اُسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں کی اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے، ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آ چکے ہیں۔‘‘
    نیز ارشادِ باری ہے:

’’أُولٰئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰه قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَأَجْرٌ عَظِیْمٌ۔‘‘
(الحجرات:۷)

ترجمہ: ’’یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔‘‘
’علم العقائد‘‘ کی معروف کتاب  ’’المسامرۃ شرح المسایرۃ‘‘ میں ہے: 

’’واعتقاد أھل السنة و الجماعة تزکیة جمیع الصحابة رضي اللّٰہ عنهم وجوبًا بإثبات العدالة لکل منهم و الکف عن الطعن فیهم و الثناء علیهم ۔۔۔۔۔۔ و ماجریٰ بین علي و معاویة رضي اللّٰہ عنهما ۔ کان مبنیاً علی الاجتهاد من کل منهما لامنازعة من معاویة رضي اللّٰہ عنه في الإمامة۔‘‘(المسامرۃ شرح المسایرۃ، صحفہ: 269، 270)

ترجمہ: ’’اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ تمام صحابہ کرامؓ کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے، اس طرح کہ ا ن سب کے لیے عدالت ثابت کرنا اور ان کے بارے طعن سے رُکنا اور ان کی مدح و ثنا کرنا ہے اور حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین جو کچھ معاملہ پیش آیا، یہ دونوں حضرات کے اجتہاد کی بنا پر تھا۔ حضرت معاویہؓ  کی طرف سے حکومت و امامت کا جھگڑا نہیں تھا۔‘‘

امام جلال الدین سیوطیؒ  فرماتے ہیں

’’ الصّحابۃؓ کلُّهم عدول من لابس الفتن وغیرهم بإجماع من یعتد به، قال تعالٰی: (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) (البقرۃ:۱۴۳) الآیة، أي عدولًا۔ وقال تعالٰی: (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران:۱۱۰)، والخطاب فیها للموجودین حینئذ۔ وقال صلی اللّٰه علیہ وسلم: خیر النّاس قرني ، رواہ الشیخان۔ قال إمام الحرمین: والسبب في عدم الفحص عن عدالتهم: أنهم حملة الشریعة۔‘‘ 
(تدریب الراوی، صحفہ:492، 493، قدیمی کتب خانہ، کراچی)

’’باجماعِ معتبر علماء تمام صحابہ کرامؓ عادل ہیں، مبتلائے فتن ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں،

(دلیل ) ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:’’وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا‘‘

 ترجمہ: کہ ہم نے تمہیں اُمت وسط یعنی عادل بنایا۔

نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ

 ترجمہ: کہ تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو۔

ان آیات میں خطاب اُس وقت موجود حضرات صحابہ کرامؓ کو ہے اور نبی کریمﷺ  نے ارشاد فرمایا: لوگوں میں بہترین میرا زمانہ ہے۔ امام الحرمین نے فرمایا کہ: صحابہ کرامؓ  کی عدالت سے بحث و جستجو نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حاملینِ شریعت و ناقلینِ شریعت ہیں۔‘‘

 مشہور حنفی محقق ملا قاریؒ  اِرقام فرماتے ہیں

’’ذهب جمهور العلماء إلٰی أن الصحابة رضي اللّٰه عنهم کلُّهم عدول قبل فتنة عثمانؓ و عليؓ وکذا بعدها ولقوله علیه الصلاۃ والسلام : ’’ أصحابي کالنجوم بأیّهم اقتدیتم اهتدیتم۔‘‘
(شرح الفقه الأکبر لملاعلی القاریؒ، صحفہ:63)

ترجمہ: ’’جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ  عادل پاکباز، متقی ہیں، حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں وقوع پذیر فتنوں سے پہلے بھی اور اُس کے بعد بھی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ستاروں کی مانند ہیں، ان میں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پا جاؤ گے۔‘‘

علّامہ ابن حجر مکیؒ فرماتے ہیں

’’قال ابن الصلاح والنووي الصحابۃؓ کلهم عدول وکان للنبي صلی اللّٰه علیه وسلم مائة ألف وأربعة عشر ألف صحابي عند موته صلی اللّٰه علیه وسلم، والقرآن والأخبار مصرّحان بعدالتهم وجلالتهم ولما جری بینهم محامل۔‘‘  (الصواعق المحرقة علی أہل الرفض والضلال والزندقة،
ج:۲، ص: ۶۴۰، مؤسسة الرسالة، بیروت)

ابن صلاحؒ اور امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ: تمام صحابہ کرامؓ عادل و متقی تھے، نبی کریمﷺ  کے وصال کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہؓ تھے۔ قرآن کریم اور احادیثِ طیبہ صحابہ کرامؓ کی عدالت و تقویٰ اور جلالتِ شان کی صراحت و وضاحت کر رہے ہیں اور ان کے باہمی مشاجرات و معاملات کے محمل اور تاویلات موجود ہیں۔

صفحہ 1 از 4