اہل کوفہ اور آل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہل کوفہ اور آل بیت

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 4

چنانچہ جب امام حسن علیہ السلام نے اہل کوفہ میں غدر و خیانت دیکھی، تو معاویہ( رضی اللہ عنہ ) سے صلح کر لی اور مسلمانوں کی خوں ریزی روکنے اور اپنے اور اپنے اہل بیت کے دھوکے سے قتل کر دئیے جانے سے حفاظت کی خاطر جنگ بندی کر لی، تاکہ ایک تو آپ کو کوئی دھوکے سے قتل نہ کر سکے اور دوسرے آپ کے اہل بیت بے جا ضائع نہ ہوں، جس کا نہ انہیں کوئی فائدہ ہو اور نہ اسلام اور مسلمانوں ہی کو کوئی فائدہ ہو۔‘‘ (محاورۃ عقائدیۃ: صفحہ 122-123 اور مزید یہ کہ امر خلافت سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں دینے سے اسلام اور مسلمانوں کا کوئی حرج بھی نہ تھا)

ادریس حسینی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اپنے شیعہ کو کیے گئے خطاب کو نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’اے اہل عراق! مجھے تین باتوں نے تم لوگوں سے علیحدہ ہونے پر مجبور کیا ہے: (1) میرے باپ کو تم لوگوں کا قتل کرنا، (2) مجھ پر کدال کا وار کر کے شدید زخمی کرنا (3) اور میرا مال و اسباب لوٹ لینا۔‘‘ (لقد شیعنی الحسین: صفحہ 283 (بہامش))

اس خطاب کو نقل کر کے وہ لکھتا ہے:

’’غرض انہوں نے اپنے ائمہ (سیدنا علی، سیدنا حسن، سیدنا حسین رضی اللہ عنہم) کو بے پناہ آمائشوں میں ڈالا۔ ان حضرات کی آزمائشوں کا یہ سلسلہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ تک جا پہنچا اور انہیں بھی انہی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا جس سے ان کے اجداد کا سامنا ہوا تھا۔ چنانچہ ہم ان میں زرارہ بن اعین نامی کو دیکھتے ہیں (عبدالحسین موسوی نے ’’المراجعات‘‘ میں زرارہ کا ناحق دفاع کرنے میں بڑا زور لگایا ہے) کہ وہ اپنی خست و خباثت اور کمینگی و دناءت کا اظہار کرتے ہوئے، جناب جعفر صادق رحمۃ اللہ پر زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ ’’اللہ ابو جعفر پر رحم کرے اور رہے ان کے والد جعفر تو میرے دل میں ان کے بارے میں ایک بات ہے۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 131)

امام جعفر صادق رحمۃ اللہ نے جب زرارہ کی بدعت پر انکار کیا تو اس نے یہ کہہ کر اس بدعت کو ان کی طرف منسوب کر دیا: ’’اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے استطاعت دی اور انہیں اس کی خبر بھی نہیں۔" (رجال الکشی: صفحہ 134)

جب زرارہ نے امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کے پاس حاضر ہونے کی اجازت مانگی تو انہوں نے اجازت نہ دی اور تین بار یہ کہا: ’’اسے اندر آنے کی اجازت مت دینا، یہ اس بڑھاپے میں مجھے قدریہ بنانا چاہتا ہے جو نہ میرا دین ہے اور نہ میرے آباء و اجداد کا دین ہے۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 142)

ایسی ہی بدعقیدگی ان ائمہ کے دوسرے ان اصحاب سے بعید نہیں، جیسے ابو بصیر، جابر جعفی اور ہشام بن حکم وغیرہ جن کا دفاع کرنے میں صاحب ’’المراجعات‘‘ نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے۔ (اس کی تفصیل کے لیے شیعی کتب رجال کا مطالعہ کیجیے اور دیکھیے کہ عبدالحسین موسوی نے ان کے دفاع میں کس دھڑلے سے جھوٹ بولے ہیں)

حضرات اہل بیت نے ان کے اس کردار کو دیکھتے ہوئے ان پر نفاق کا حکم لگایا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق رحمۃ اللہ کہتے ہیں:

’’رب تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں جو بھی آیت نازل کی ہے وہ انہی پر صادق آتی ہے۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 254)

امام جعفر صادق رحمۃ اللہ سے مروی ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے:

’’کاش ہم اہل بیت میں سے کوئی اٹھتا اور ان کذابوں کو قتل کر دیتا۔‘‘ (رجال الکشی: صفحہ 253)

امام موسیٰ کاظم رحمۃ اللہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’اگر میں اپنے شیعوں کو تولوں، تو یہ منافق نکلیں، اگر انہیں پرکھوں تو یہ مرتد نکلیں اور ان کی جانچ کروں تو ہزاروں میں ایک بھی مخلص نہ نکلے۔‘‘ (الکافی: جلد، 8 صفحہ 228 مجموعۃ ورام: جلد، 2 صفحہ 152)

امام رضا رحمۃ اللہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’ہم اہل بیت کی محبت و مودت کو منسوب کرنے والے بعض لوگ ہمارے شیعیان کے حق میں دجال سے زیادہ فتنہ پرور ہیں۔‘‘ (وسائل الشیعۃ: جلد، 11 صفحہ 441)

بے شک اہل کوفہ اور عراقیوں نے غدر و خیانت کی ایک طویل مگر بے حد شرم ناک داستان رقم کی ہے، جو نواسۂ رسول سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن اس سے یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اہل عراق اور کوفی خونِ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے اپنے ہاتھ رنگنے کے بعد غدر و خیانت کی خوئے بد سے باز آ گئے تھے، بلکہ مراد یہ ہے کہ شہادت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد انہیں اس قدر اونچے پیمانے پر بدعہدی کرنے کا تاریخ نے پھر کوئی موقعہ نہ دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ معمولی معمولی خیانتیں کر کے اہل کوفہ اپنے نفس کی تسلی کا سامان ضرور کرتے رہے۔

ان کا آخری کاری وار سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر تھا۔ مطلب بن عبداللہ بن حنطب روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:

’’جب کوفی لشکروں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا، تو آپ نے دریافت فرمایا: ’’یہ کون سی سرزمین ہے؟ لوگوں نے بتلایا کہ کربلا، تو فرمایا: ’’نبی کریمﷺ نے سچ فرمایا ہے کہ یہ زمین کرب اور بلا والی ہے۔‘‘ (المعجم الکبیر: 2812 کربلا کوفہ سے صرف دس کلومیٹر کے قریب دُور ہے)

شہر بن حوشب کہتا ہے:

’’ام المومنین ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) کو جب حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کی شہادت کی خبر دی گئی تو میں نے سنا کہ پہلے انہوں نے اہل عراق پر لعنت کی پھر یہ فرمایا: ’’ان لوگوں نے حسین کو قتل کیا، اللہ انہیں ہلاک کرے، ان لوگوں نے انہیں دھوکہ دیا اور انہیں رسوا کیا، اللہ ان پر لعنت کرے۔‘‘ (المعجم الکبیر: ۲۸۱۸۔ البتہ یہ بات اس روایت کے معارض جاتی ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا 59 ہجری میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت سے قبل رحلت فرما چکی تھیں۔ دیکھیں: سیرۃ ابن حبان: جلد، 1 صفحہ 397 سیرۃ ابن کثیر: جلد، 3 صفحہ 311 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 4 صفحہ 62)


صفحہ 4 از 4