اہل کوفہ اور آل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہل کوفہ اور آل بیت

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 4

جب آپ ساباط سے گزر رہے تھے، تو بنی اسد کے ایک آدمی نے آگے بڑھ کر رات کے اس اندھیرے میں آپ کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور اور کہا: اللہ اکبر! اے حسن! پہلے تیرے باپ نے شرک کیا اور اب تو شرک کرتا ہے۔ یہ کہہ کر آپ پر کدال کا ایک وار کر دیا، جو آپ کی ران پر پڑا۔ اس وار نے گوشت پھاڑ کر زخم کر دیا اور ران کی جڑ پر سے کھال ادھیڑ دی۔ آپ زخمی ہو کر گر پڑے۔ بعد میں آپ کو ایک تخت پر بٹھا کر اسی زخمی حالت میں مدائن منتقل کر دیا گیا۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 39-40)

ایک اور مصنف ادریس حسینی اہل کوفہ کی غداری کی یہ تصویر پیش کرتا ہے:

’’حسن (رضی اللہ عنہ) کو اپنے ہی لشکر کی طرف سے قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ ایک مرتبہ بنی اسد کا ایک شخص جراح بن سنان آیا۔ اس نے آپ کے خچر کی لگام پکڑی اور آپ کی ران میں گہرا زخم لگایا۔ حسن (رضی اللہ عنہ) نے اسے پکڑ کر دبوچ لیا جس سے دونوں زمین پر گر گئے۔ حتیٰ کہ عبداللہ بن حنظلہ طائی سامنے آیا، اس نے جراح سے کدال چھینی اور اسے ایک ضرب لگائی۔ جبکہ حسن ( رضی اللہ عنہ) کو دوسری مرتبہ نماز کے دوران میں وار کر زخم لگایا گیا۔‘‘ (لقد شیعنی الحسین: صفحہ 279)

اہل تشیع کا مرجع کبیر ’’محسن الامین العاملی‘‘ لکھتا ہے:

’’پھر علی (رضی اللہ عنہ) کے بیٹے حسن (رضی اللہ عنہ) کی بیعت کر لی گئی، لیکن ان کے ساتھ عہد و پیمان کرنے کے باوجود ان کے ساتھ غداری کا ارتکاب کیا گیا، انہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا۔ اہل عراق نے ان پر حملہ کر کے ان کے پہلو میں خنجر کا ایک وار کیا۔‘‘

(اعیان الشیعۃ: جلد، 1 صفحہ 26)

محمد تیجانی سماوی لکھتا ہے:

’’جیسا کہ بعض جاہل حسن (رضی اللہ عنہ) پر یہ تہمت لگاتے ہیں کہ انہوں نے معاویہ (رضی اللہ عنہ) سے صلح کر کے اور مخلص مسلمانوں کو قتل ہونے سے بچا کر مومنوں کو ذلیل کیا ہے۔‘‘ (محل الحلول عند آل الرسول: صفحہ 122-123 دیکھ لیجیے کہ یہ تہمت لگانے والے تو خود حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے شیعہ ہیں، لیکن تیجانی قارئین کو دھوکہ دینے کے لیے اور صورتِ واقعہ کو مسخ کرنے کے لیے ان کو ’’بعض جاہل‘‘ کہہ کر پکارتا ہے)

آیت اللہ اعظمی حسین فضل اللہ لکھتا ہے:

’’حسن( رضی اللہ عنہ) کے لشکر میں خوارج کی بھی ایک ٹولی تھی۔ یہ حسن(رضی اللہ عنہ) کی محبت میں ان کے ساتھ نہ نکلے تھے بلکہ صرف اس لیے نکلے تھے کہ وہ ہر صورت میں معاویہ (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ جنگ کرنا چاہتے تھے، چاہے اس کے لیے کسی بھی شخص کا ساتھ دے کر لڑنا پڑے۔ پھر کچھ لوگ صرف مالِ غنیمت کے لالچ میں لشکر میں آ نکلے تھے۔ کچھ لوگ قبائلی عصبیت کے جذبوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر نکلے تھے اور ان میں اس قبائلی عصبیت کو ان کے سرداروں نے پھونکا تھا جو جاہ و مال کی محبت کے اسیر بے زنجیر تھے۔ یہ لوگ لشکر حسن (رضی اللہ عنہ) میں بگاڑ اور انتشار پیدا کرنے آئے تھے۔ لشکر میں بعض حسن(رضی اللہ عنہ) کے قرابتی رشتہ دار بھی تھے جن کی طرف معاویہ(رضی اللہ عنہ) نے مال بھیجا تو انہوں نے اپنی قیادت کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔ لشکر سے اس مضمون پر مشتمل بے شمار خطوط معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجے گئے کہ ’’اگر آپ چاہیں تو ہم حسن( رضی اللہ عنہ) کو زندہ یا مردہ کسی بھی حال میں آپ کے حوالے کرتے ہیں۔‘‘ چنانچہ معاویہ( رضی اللہ عنہ) نے بھی اس پر اپنی موافقت لکھ بھیجی کہ ایسا کر گزرو، حسن(رضی اللہ عنہ) کو زندہ یا مردہ میرے حوالے کرو۔ پھر خود لشکر حسن کی پوری خبر گیری کی اور دیکھتے رہے کہ یہ لوگ حسن(رضی اللہ عنہ) کو قتل کرنے کی سازش کیونکر کرتے ہیں۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 3 صفحہ 207 فی رحاب اہل البیت: صفحہ 270)

شیخ ابو منصور طبرسی انہی حالات کے تناظر میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کرتا ہے:

’’اللہ کی قسم! میں معاویہ(رضی اللہ عنہ) کو ان سے بہتر دیکھ رہا ہوں جو خود کو میرا شیعہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے مال اسباب بھی لوٹ لیا ہے۔ اللہ کی قسم! اگر معاویہ(رضی اللہ عنہ ) میری اور میرے اہل کی جان کی حفاظت کا مجھ سے عہد کر لیں، تو یہ میرے لیے اس سے بہتر ہے کہ یہ مجھے قتل کر ڈالیں، جس سے میرے اہل بیت ضائع ہو جائیں اور اگر میں معاویہ(رضی اللہ عنہ) سے قتال کرتا ہوں، تو یہ لوگ مجھے میری گردن سے پکڑ کر ان کے حوالے کر دیں گے۔‘‘ (الاحتجاج: جلد،2 صفحہ 10 آداب المنابر لحسن مغنیۃ: صفحہ 20)

امیر محمد کاظم قزوینی لکھتا ہے:

’’صحیح تاریخ ہمارے لیے یہ بات ثابت کرتی ہے کہ جو لوگ حسن( رضی اللہ عنہ ) کے ساتھ تھے اگرچہ ان کی تعداد بہت زیادہ تھی، لیکن وہ پرلے درجے کے خائن اور غدار تھے۔ اسی لیے دشمنوں سے قتال کے وقت ان کی اتنی زیادہ تعداد بھی امام حسن علیہ السلام کے کام نہ آئی۔ ان کی خیانت اور غداری اس حد تک جا پہنچی کہ انہوں نے معاویہ( رضی اللہ عنہ ) کو یہ لکھ بھیجا: ’’اگر آپ کہیں تو ہم حسن علیہ السلام کو آپ کے حوالے کر دیتے ہیں۔‘‘ اور ان میں سے ایک نے کدال مار کر آپ کی ران میں ایسا گہرا زخم ڈالا، جو ہڈی تک جا پہنچا اور اس حملہ آور نے ایسی گری ہوئی زبان جناب حسن علیہ السلام کے ساتھ استعمال کی تھی کہ جس کے ذکر کی ہمت بھی نہیں ہوتی۔ اگر خود ان ائمہ نے یہ نہ کہا ہوتا کہ ہمارے شیعہ ہمارے بارے میں جو بھی کہیں، وہ بیان کر دیا کرو، تو ہم کبھی ان الفاظ کو ذکر نہ کرتے۔ سنیے! اس حملہ آور نے یہ کہا تھا: ’’اے حسن! تم نے بھی اسی شرک کا ارتکاب کیا جس کا ارتکاب تم سے پہلے تیرے باپ نے کیا تھا۔‘‘

صفحہ 3 از 4