اہل کوفہ اور آل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہل کوفہ اور آل بیت

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 4

میں تھا مگر آج میں خود روکا جانے والا ہوں۔ تم لوگوں نے بقا کو پسند کیا اور میں تم لوگوں کو تمہاری مرضی کے خلاف پر مجبور نہیں کر سکتا۔‘‘ یہ فرمایا اور بیٹھ گئے۔ (علی خطہ الحسین: صفحہ 34-35)

میں کہتا ہوں کہ بات اسی حد تک نہ رہی تھی بلکہ معاذ اللہ ان کوفیوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر کذب بیانی کی تہمت بھی لگائی تھی۔ چنانچہ شریف رضی امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتا ہے:

’’امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’اے اہل عراق! تم اس حاملہ عورت کی طرح ہو کہ جب اس کے حمل کی مدت پوری ہو گئی اور اس نے بچہ جن دیا، تو اس کا دودھ سوکھ گیا اور خاوند مر گیا اور اس کی بیوگی طویل ہو گئی اور اس کا دور کا رشتہ دار اس کا وارث بنا۔ اللہ کی قسم! میں اپنی مرضی سے تم لوگوں کے پاس نہیں آیا، بلکہ مجھے تم لوگوں کے پاس ہانک کر لایا گیا ہے۔ مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم لوگ یہ کہتے ہو کہ علی(رضی اللہ عنہ) جھوٹ بولتا ہے، اللہ تم لوگوں کو غارت کرے! بھلا میں نے کس کے بارے میں جھوٹ بولا ہے '‘ (نہج البلاغۃ: جلد، 1 صفحہ 118-119)

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے شیعیان سے فرمایا:

’’اللہ تمہیں غارت کرے! تم لوگوں نے میرا دل اور میرا سینہ غم و غصہ سے بھر دیا ہے، تم لوگوں نے مجھے تہمتوں کے گھونٹ پلائے اور نافرمانی اور بے وفائی کے ذریعے سے میری رائے کو برباد کیا۔‘‘ (ہج البلاغۃ: جلد، 1 صفحہ 70)

یہ ہے اُس وقت کے شیعیان کا حال اپنے پہلے امام کے ساتھ ، اور حیرت کی بات ہے کہ پھر بھی یہ لوگ اس موضوع روایت کو دہراتے رہتے ہیں: ’’اے علی! تم اور تمہارے شیعہ اس حال میں آئیں گے کہ تم ان سے راضی اور وہ تم سے راضی جبکہ تیرے دشمن غضب کی اور اس حالت میں آئیں گے کہ ذلت سے ان کے سر جھکے ہوئے ہوں گے۔‘‘

کیا یہی وہ اہل تشیع ہیں، جو اس حال میں آئیں گے کہ خود بھی راضی اور جناب علی رضی اللہ عنہ بھی ان سے راضی؟

اس کے بعد ان شیعوں کے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ کا دَور آتا ہے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان اہل تشیع کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے، ایک خطبہ دیتے ہیں۔

دکتور احمد نفیس اس تقریر کو نقل کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’حسن (رضی اللہ عنہ) اپنے شیعہ کو جہاد کے لیے تیار کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اللہ نے اپنے بندوں پر جہاد کو فرض کیا اور اسے ’’ناگوار‘‘ امر کا نام دیا۔ پھر مومن مجاہدین سے یہ ارشاد فرمایا:

اِصْبِرُوْا اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ

’’صبر کرو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘ اے لوگو! تم جو مقام و مرتبہ چاہتے ہو، اسے ناگواریوں پر صبر کیے بغیر حاصل نہیں کر سکتے۔ اللہ تم لوگوں پر رحم کرے ’’نخیلہ‘‘ میں اپنے معسکر کی طرف نکلو تاکہ ہم ایک دوسرے کو دیکھ لیں۔"

احمد نفیس کہتا ہے:

’’ حسن(رضی اللہ عنہ) نے گویا ان الفاظ میں اس خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ کہیں یہ شیعہ ہمیں چھوڑ نہ دیں۔ پس وہ شیعہ یہ بات سن کر خاموش ہو گئے، ان میں سے کسی نے کوئی بات نہ کی اور نہ کسی نے ایک حرف بھی جواب میں کہا۔ لوگوں میں حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب انہوں نے ان شیعہ کی یہ بے حسی دیکھی، تو اٹھ کر یوں گویا ہوئے: ’’سبحان اللہ! میں ابنِ حاتم ہوں، یہ کس قدر شرم اور ذلت کا مقام ہے کہ تم لوگ اپنے امام کو جواب تک نہیں دیتے، حالانکہ وہ تمہارے پیغمبرﷺ کی لخت جگر کے بیٹے ہیں؟

مضر کے خطباء کہاں ہیں؟ جن کی زبانیں حالت امن میں تلواروں کی طرح تیز ہوتی ہیں؟ اور جب گمبھیر حالات پیش آتے ہیں تو لومڑیوں کی طرح ڈرپوک ثابت ہوتے ہیں؟ کیا تم لوگ اللہ کی ناراضی اور اس کے انتقام سے نہیں ڈرتے؟ (علی خطی الحسین: صفحہ 38)

یہی قصہ ادریس حسینی نے بھی نقل کیا ہے۔ ( لقد شیعنی الحسین: صفحہ 274-275)

دکتور احمد راسم نفیس سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے اس خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’یہ لوگ ذہنی اور نفسیاتی شکست سے دوچار تھے، انہیں جہاد میں کوئی رغبت نہ تھی اور نہ ان میں جان و مال خرچ اور قربانی دینے کا کوئی جذبہ تھا۔ یہ دنیا اور اس کی حلاوت کو آزما چکے تھے اور اب یہ دنیا کے ہی طلب گار تھے۔ یہ لوگ عدل کے سائے تلے رہ کر نفس کی خواہشوں کو پورا نہ کر سکتے تھے۔ ان کے نفس بنی امیہ کی طرف مائل تھے، جو اگلے مرحلہ کے قائدین تھے۔‘‘ (علی خطی الحسین: صفحہ 39)

اہل کوفہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو غداری کی اور ان پر کدال کا وار کیا، اس کو نقل کرتے ہوئے دکتور احمد راسم شیعی لکھتا ہے:

’’اس کے بعد حسن (رضی اللہ عنہ) نے اعلان کر دیا کہ وہ میدانِ قتال کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں، اس پر قیس بن سعد بن عبادہ (رضی اللہ عنہما) اور معقل بن یسار ( رضی اللہ عنہ ) نے بھی کھڑے ہو کر وہی کہا، جو عدی بن حاتم( رضی اللہ عنہ ) نے کہا تھا اور اپنے معسکر کی طرف چل پڑے، جس پر لوگ بھی ان کے پیچھے تھے۔

حسن (رضی اللہ عنہ) نے لشکر کی مورچہ بندی کی، انہیں قتال کے لیے تیار کیا، پھر ان میں خطبہ دیا۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے جا رہے تھے، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: یہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ بولے: شاید یہ معاویہ( رضی اللہ عنہ) سے صلح کرنا اور امر خلافت ان کے ہاتھوں میں دینا چاہتے ہیں۔ اللہ کی قسم! اس آدمی نے اس بات کا ارادہ کر کے کفر کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں نے جناب حسن رضی اللہ عنہ کے خیمہ پر ہلہ بول دیا اور اندر گھس کر خیمہ لوٹ لیا۔ حتیٰ کہ ان کے نیچے سے ان کا مصلیٰ بھی کھینچ لیا۔ پھر عبدالرحمن بن عبداللہ بن جعال ازدی نے آگے بڑھ کر سختی کے ساتھ آپ کے کندھے پر سے آپ کی دھاری دار ریشمی چادر کھینچ کر اتار لی۔ اب آپ بغیر چادر کے تلوار حمائل کیے ہوئے باقی رہ گئے۔ پس آپ نے اپنا گھوڑا منگوایا اور اس پر سوار ہو کر چل دئیے۔

صفحہ 2 از 4