اہل کوفہ اور آل بیت - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اہل کوفہ اور آل بیت

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 4

جب کوفہ شرور و فتن کا مرکز تھا، وہاں کے لوگ عزت دار گھرانوں کے لوگ نہ تھے اور وہ جملہ اخلاقی برائیوں سے متصف بھی تھے، تو یہ کیونکر ممکن تھا کہ آل بیت کے ساتھ ان کا رویہ صدق و دیانت اور وفا و صفا پر مبنی ہوتا۔ اس لیے مناسب ہے کہ اس موضوع پر بھی قدرے روشنی ضرور ڈالی جائے کہ اہل کوفہ نے آل بیت رسول کے ساتھ کس شرم ناک غدر و خیانت کا ارتکاب کیا تھا۔

 اہل بیت کے ساتھ اہل کوفہ کی غداری

امیر المومنین سیّدنا علی رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کے رویوں کا شکوہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قوموں کو اپنے حکمرانوں کے ظلم کا ڈر رہا کرتا ہے جبکہ مجھے اپنی رعایا کے ظلم کا ڈر ہے۔ میں نے تم لوگوں کو جہاد پر نکلنے کو کہا، مگر تم لوگ نہ نکلے، میں نے تم لوگوں کو سنایا مگر تم لوگوں نے نہ سنا، میں نے خفیہ اور علانیہ تم لوگوں کو دعوت دی مگر تم لوگوں نے قبول نہ کی، تم لوگوں نے میری نصیحت کوٹھکرا دیا، تمہارا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور تم لوگوں میں آقا اور غلام کا کوئی فرق نہیں۔ میں نے تم لوگوں کو حکمت کی باتیں پڑھ کر سنائیں، مگر تم لوگ ان سے بدک بھاگے، میں نے تم لوگوں کو بڑی بلیغ نصیحتیں کیں مگر تم متفرق ہو گئے۔ میں نے تم لوگوں کو باغیوں کے خلاف جہاد کی دعوت دی، لیکن ابھی میری بات پوری نہیں ہوتی تھی کہ تم لوگ بھاگ کر اپنی مجلسوں میں جا پہنچے ہوتے تھے۔ تم لوگ دھوکہ دیتے تھے۔ میں صبح کو تم لوگوں کو سیدھا کرتا تھا مگر شام پڑے تک تم پھر ٹیڑھے ہو چکے ہوتے تھے، جیسے سانپ پلٹ کر الٹا ہو جاتا ہے۔ اب سمجھانے والا بھی تھک گیا اور سمجھنے والے بھی تنگ ہو گئے۔

اے لوگو! جو خود تو موجود ہیں، لیکن ان کی عقلیں غیر موجود ہیں اور ان کی خواہشیں مختلف ہیں۔ حکمران تم لوگوں کی وجہ سے آزمائش میں ہیں۔ تمہارا امیر تو رب کا فرمانبردار ہے اور تم اس کے نافرمان ہو۔ اللہ کی قسم! میں چاہتا ہوں کہ معاویہ میرے ساتھ زرگروں والا معاملہ کر لیں، جو ایک دوسرے سے درہم و دینار لیتے دیتے ہیں، پس وہ مجھ سے تمہارے دس آدمی لے کر مجھے اپنا ایک آدمی بھی اس کے بدلے میں دے دیں، تو میں سمجھوں گا کہ یہ سودا مہنگا نہیں۔

اے اہل کوفہ! تم لوگ کانوں والے بہرے، زبانوں والے گونگے اور آنکھوں والے اندھے ہو۔ دشمنوں سے سامنا کرتے وقت تم لوگ سچے نہیں اور نہ مصیبت کی گھڑیوں میں سچے دوست ہو، تم لوگوں کے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ تم ان اونٹوں کی طرح ہو جن کے مالک موجود نہیں کہ ایک طرف اکٹھے ہوتے ہیں تو دوسری طرف سے متفرق ہو جاتے ہیں۔ (نہج البلاغۃ: جلد، 1 صفحہ 187-189)

رافضی فلاسفر دکتور احمد راسم نفیس، روافض کے سیّدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو چھوڑنے اور انہیں ستانے کے بارے میں ایک اور موقف بیان کرتے ہیں:

’’نصر بن مزاحم روایت کرتا ہے کہ لیلۃ الہریر کی صبح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے معسکر پر نگاہ ڈالی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قاصد نے جا کر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چلیے۔ انہوں نے جواب دیا: اس وقت مجھے اپنے موقف سے ہٹنا مناسب نہیں۔ مجھے امید ہے کہ فتح مجھے ملے گی اس لیے جلدی نہ کیجیے۔ یزید بن ہانی نے لوٹ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی بات بتلائی کہ وہ ہم پر ضرور حملہ آور ہوں گے۔

اتنے میں زبردست غبار اٹھا، اشتر کی طرف سے شور بلند ہوا اور اہل عراق کی فتح کے واضح آثار نظر آنے لگے اور اہل شام کی شکست و خذلان کی نشانیاں ظاہر ہونے لگیں۔ لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی قسم! ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ آپ نے قاصد کو قتال کا حکم دیا ہے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’’کیا تم لوگ سمجھتے ہو کہ میں نے اپنے قاصد کو ان کی طرف کوئی خفیہ پیغام دے کر بھیجا تھا۔ اس نے جو کہا تھا علی الاعلان کہا تھا کیا تم لوگوں نے نہیں سنا تھا؟‘‘

قوم بولی: اشتر کو بلوا بھیجئے وگرنہ ہم آپ کو چھوڑ دیں گے۔

آپ نے فرمایا: اے یزید! تیرا ناس ہو، اسے واپس بلا لو کہ فتنہ نے سر اٹھا لیا ہے۔ یزید نے جا کر اشتر کو سارا قصہ سنایا۔ اشتر بولا: کیا انہوں نے مصاحف اٹھا لیے ہیں؟ قاصد بولا: ہاں۔ اشتر بولا: اللہ کی قسم! کیا تم فتح کی طرف نہیں دیکھتے؟ کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ انہوں نے کیا اٹھا لیا ہے اور اللہ ہمارے لیے کیا کر رہا ہے؟ کیا یہ مناسب ہے کہ ہم اس کو چھوڑ کر لوٹ جائیں؟

یزید نے اشتر سے کہا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں تو اس جگہ فتح ملے اور امیر المومنین جس جگہ ہیں وہاں انہیں دشمنوں کے حوالے کر دیا جائے؟ اشتر بولا: نہیں، اللہ کی قسم! میں یہ نہیں چاہتا۔ یزید نے کہا: تو پھر سنو! قوم نے امیر المومنین سے یہ کہا ہے اور اس پر حلف لیا ہے کہ یا تو آپ اشتر کو بلوائیے تاکہ وہ آپ کے پاس آ جائے یا پھر ہم آپ کو اپنی تلواروں سے اسی طرح قتل کر دیں گے جس طرح ہم نے عثمان(رضی اللہ عنہ) کو قتل کیا تھا، (قاتلانِ عثمان وہی لوگ ہیں، جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی قتل کی دھمکی دی) یا پھر ہم آپ کو دشمنوں کے حوالے کر دیں گے۔‘‘ اس پر اشتر چلا آیا اور کہنے لگا: اے امیر المومنین! آپ صف کو صف میں ملا لیجیے۔ اس سے آپ قوم کو شکست دے دیں گے۔‘‘

لوگوں میں شور مچ گیا کہ امیر المومنین نے ثالثی قبول کر لی ہے اور وہ قرآن کے حکم پر راضی ہو گئے ہیں۔ اشتر بولا: اگر تو امیر المومنین نے ثالثی قبول کر لی ہے اور حکم قرآن پر راضی ہیں، تو میں بھی راضی ہوں۔ لوگ کہنے لگے کہ امیر المومنین راضی ہو گئے اور انہوں نے قبول کر لیا۔ جبکہ امیر المونین خاموش اور سر جھکائے ہوئے تھے۔ پھر آپ کھڑے ہوئے۔ لوگ ایک دم خاموش ہو گئے۔ آپ نے فرمایا:

’’میرا معاملہ تم لوگوں کے ساتھ میرے حسب منشا رہا یہاں تک کہ میں نے تم لوگوں کی طرف سے جنگ دیکھی۔ اللہ کی قسم! تم لوگوں سے جنگ میں مجھے زیادہ نقصان ہوا بہ نسبت تمہارے دشمنوں سے جنگ میں کہ تم لوگوں کی طرف سے جنگ زیادہ مغلوب کرنے والی اور زیادہ عبرت ناک ہے۔ (دیکھ لیجیے کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان کوفیوں سے کتنی تکلیف اٹھائی)کیونکہ کل تک میں امیر المومنین تھا مگر آج مامور ہوں ، کل تک روکنے والا

صفحہ 1 از 4