سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 8 از 8

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے فکر کی بنیاد یہ تھی کہ قرآن کریم لوگوں کے دلوں میں راسخ ہو جائے، وہ اس سے اعراض نہ کریں، قرآنی تعلیمات مسلم معاشرہ کی جڑوں میں پیوست رہیں، اور قرآنی علوم کو دوام و استقرار نصیب ہو، لوگ قرآنِ مجید اور دیگر اسلامی علوم بشمول حدیث نبوی، دونوں کے درمیان فرق کر سکیں۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 268)

قرآنِ کریم پر خصوصی توجہ اور اسے چھوڑ کر دیگر علوم میں انہماک سے ممانعت کی تاکید نبیﷺ کے زمانے ہی سے تھی اور سیدنا عمرؓ کی فکر اور مذکورہ اقدام، تعلیماتِ نبویﷺ کی اتباع و پاس داری ہی کا نتیجہ تھا۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 260)

سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ نے ایسی نسل تیار کرنے کی کوشش کی جو علم و فہم کی روشنی میں دعوت الی اللہ کا کام کرے، آپؓ کے شاگرد یا جو لوگ ان کے شاگرد ہوئے سب کے دلوں میں آپؓ کا ایک اعلیٰ مقام تھا۔ حضرت عمرؓ نے بھی آپؓ کے علم و فضل کی برتری کی شہادت دی ہے۔ زید بن وہب کا بیان ہے کہ میں کچھ لوگوں کے ساتھ ، حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس بیٹھا تھا، اتنے میں ایک دبلا پتلا آدمی نظر آیا، حضرت عمرؓ اس کی طرف دیکھنے لگے، اور آپؓ کے چہرے پر خوشیاں نمودار ہو گئیں، پھر آپؓ نے کہا: یہ شخصیت علم کا سمندر ہے،یہ شخصیت علم کا سمندر ہے، یہ شخصیت علم کا سمندر ہے۔ ہم نے دیکھا تو وہ ابنِ مسعودؓ تھے۔

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 156، الحلیۃ: جلد 1 صفحہ 129)

کوفہ کی درس گاہ سیدنا ابنِ مسعودؓ سے کافی متاثر تھی اور اپنے استاذ کی اقتدا و پیروی کرنے میں دیگر تمام درس گاہوں سے منفرد تھی، یہاں تک کہ آپؓ کی وفات کے بعد بھی آپؓ کے شاگرد آپؓ کی اقتدا پر جمے رہے، اور ایک لمبے زمانہ تک کوفہ آپؓ کے علم و عمل پر قائم رہا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 462)

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فقہ فاروقی سے بہت متاثر تھے، ان کی بات کے سامنے اپنی بات کو چھوڑ دیتے، اور کہتے تھے: اگر حضرت عمر بن خطابؓ کا علم ایک پلڑے میں اور پوری دنیا والوں کا علم دوسرے پلڑے میں ہو تو حضرت عمر بن خطابؓ کا علم بھاری پڑ جائے گا۔ 

(العلم لابی حنیفۃ: صفحہ 123، تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 463)

سیدنا ابن مسعودؓ نے صحابہؓ کے درمیان ایک نمایاں مقام حاصل کیا اور علم قرأت میں سب پر سبقت لے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان مبارک سے ستر 70 سے زیادہ سورتیں یاد کیں۔ شقیق بن سلمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہﷺ کی زبان مبارک سے 80 سے زیادہ سورتیں سیکھیں، واللہ! اصحابِ محمدﷺ بخوبی جانتے تھے کہ میں ان میں سب سے زیادہ قرآن کا عالم تھا، حالانکہ میں ان میں سب سے اچھا نہیں۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 5000)

مسروق رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے سامنے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا، تو انہوں نے کہا: وہ ایسے آدمی ہیں کہ جب سے ان کے بارے میں میں نے رسول اللہﷺ کا فرمان سنا، برابر ان سے محبت کرتا ہوں۔ آپﷺ کا ارشاد تھا: چار آدمیوں سے قرآن پڑھنا سیکھو، عبداللہ بن مسعودؓ، سب سے پہلے ان کا نام ذکر کیا ابو حذیفہ کے غلام سالم، ابی بن کعبؓ اور معاذ بن جبلؓ سے۔ 

(صحیح البخاری: حدیث 3758 مسلم: 2464) 

سیدنا عمرؓ فن تجوید اور تدریس پر ابنِ مسعودؓ کے علمی عبور کو اچھی طرح پہچانتے تھے۔ حضرت علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک جانا پہچانا آدمی آیا، اس نے کہا: امیر المؤمنین! میں کوفہ سے آ رہا ہوں، میں نے وہاں ایک ایسے آدمی کو دیکھا ہے جو اپنے حفظ سے قرآن لکھوا رہا تھا۔ راوی کا کہنا ہے کہ حضرت عمرؓ یہ سن کر بہت ناراض ہو گئے، ایسا لگتا تھا کہ ابھی آپ بے قابو ہو جائیں گے۔ پھر آپ نے فرمایا: تیرا برا ہو، وہ کون ہے؟ اس نے کہا: وہ عبداللہ بن مسعودؓ ہیں۔ آپ ناراض ہوتے اور پھر ٹھنڈے ہو جاتے۔ یہاں تک کہ آپ کی پہلے جیسی حالت ہو گئی۔ پھر آپؓ نے فرمایا: میرے علم کے مطابق مسلمانوں میں اب کوئی ایسا نہیں بچا ہے جو ان سے زیادہ اس کا حق دار ہو۔ 

(المستدرک علی الصحیحین: حاکم نیسابوری: جلد 2 صفحہ 227۔ امام حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، اور امام ذہبیؒ نے اس کی موافقت کی ہے۔)

ابنِ مسعودؓ کے بہت سارے شاگرد تیار ہوئے جنہوں نے فقہ، علم اور زہد و تقویٰ میں شہرت پائی۔ انہی شاگردوں میں سے علقمہ بن قیسؓ، مسروق بن الاجدع، عبیدہ سلمانی، ابو میسرہ بن شرحبیل، اسود بن یزید، حارث جعفی اور مرہ ہمدانی رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ ہیں۔

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 472، 484)


صفحہ 8 از 8