سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 7 از 8

حضرت انس بن مالکؓ نے روایت و تعلیم دونوں اعتبار سے سنتِ مطہرہ کی خدمت کا اہتمام کیا اور علمی اوصاف کے مالک رہے، خلافتِ راشدہ کی خدمت میں چند ایک بہت ہی اہم کارنامے انجام دئیے اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اسلامی دور حکومت میں آپ کو بعض اہم مناصب پر فائز کیا۔ خاص طور پر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دورِ خلافت میں جب عہد فاروقی میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بصرہ کی حکومت سنبھالی تو حضرت انسؓ کو اپنا قریبی بنایا اور انہیں اپنا خاص فرد سمجھا۔ چنانچہ ثابت، انس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک مرتبہ سفر میں ابو موسیٰ اشعریؓ کے ساتھ تھے، لوگ باتیں کر رہے تھے اور دنیا کا ذکر چھیڑے ہوئے تھے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے کہا: اے انس! آؤ، ہم لوگ کچھ دیر اپنے ربّ کا ذکر کر لیں۔ پھر کہا: لوگوں کو کس چیز نے پیچھے دھکیل دیا ہے؟ یعنی ان کی پسماندگی کا سبب کیا ہے؟ میں نے کہا: دنیا، شیطان اور بری خواہشات۔ حضرت ابو موسیٰؓ نے کہا: نہیں، بلکہ دنیا مقدم کر دی گئی اور آخرت کو نگاہوں سے غائب کر دیا گیا۔ اللہ کی قسم! اگر یہ لوگ اپنی آنکھوں سے آخرت کا مشاہدہ کر لیں تو ذرہ برابر اِدھر اُدھر نہ بھٹکیں۔ 

(أنس بن مالک الخادم الأمین: عبدالحمید طہماز: صفحہ 149)

سیدنا انس بن مالکؓ پر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کا اعتماد ہی تھا جس کی وجہ سے آپ انہیں امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا قاصد بنا کر بھیجتے تھے۔

حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ مجھے ابو موسیٰ اشعریؓ نے بصرہ سے سیدنا عمرؓ کے پاس بھیجا، تو سیدنا عمرؓ نے مجھ سے لوگوں کے حالات دریافت کیے۔ 

(انس بن مالک الخادم الأمین: عبدالحمید طہماز: صفحہ 149)

اور ’’ تُسْتَر‘‘ فتح ہونے کے بعد ابو موسیٰؓ نے آپ کو حضرت عمرؓ کے پاس اموالِ غنیمت اور قیدیوں کو دے کر بھیجا، وہ ’’تُسْتَر‘‘ کے حاکم ’’ہرمزان‘‘ کو لے کر حضرت عمرؓ کے پاس آئے۔ 

(انس بن مالک الخادم الامین: عبدالحمید طہماز: صفحہ 149)

سیدنا انسؓ سے بہت سارے صحابہ و تابعین نے خاص طور سے بصرہ میں رہنے والے علماء نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔

 زہد و عبادت کے میدان میں اپنے اردگرد رہنے والے لوگوں پر آپؓ نے بہت اچھا اثر چھوڑا، حضرت انسؓ اپنے شاگردوں کو تعلیم دینے کے حریص تھے، ان سے بہت محبت کرتے ، انہیں اپنے قریب رکھتے اور عزت سے نوازتے ہوئے عرض کرتے: آپ لوگ اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کتنے مشابہ ہو؟ اللہ کی قسم! تم میرے نزدیک میری اولاد سے زیادہ محبوب ہو، مگر یہ کہ فضل و تقویٰ میں وہ تمہاری طرح ہو جائیں۔ میں تمہارے لیے سحر گاہی میں دعائیں کرتا ہوں۔ 

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 395)

حضرت انسؓ کی علم سے یہ محبت اور علماء سے دلچسپی تھی کہ جس کی وجہ سے آپؓ نے علماء کی ایسی نسل تیار کر دی جس نے آپؓ سے حدیث کا علم سیکھا، دوسروں تک پہنچایا، اور بعد کی نسلوں کے لیے محفوظ کیا۔ حضرت انسؓ کے ثقہ شاگرد 150ھ کے بعد تک زندہ رہے۔ 

(الانصار فی العصر الراشدی: صفحہ 271)

4۔ کوفی درس گاہ:

کوفہ میں بیعت رضوان کے شرکاء میں سے تین سو 300 اور بدری صحابہؓ میں سے ستر 70 لوگوں نے سکونت اختیار کی۔ کوفہ والوں کو مخاطب کرتے ہوئے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لکھا کہ اے باشندگانِ کوفہ! تم لوگ عرب کی جان اور اس کا دماغ ہو، میرا تیر ہو جس کے ذریعہ سے اپنے اوپر آنے والے حملوں کا دفاع کرتا ہوں، میں تمہارے پاس حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو بھیج رہا ہوں۔ میں نے تمہارے لیے یہی پسند کیا ہے، اور تم لوگوں کو خود پر ترجیح دی ہے۔ 

(مجمع الزوائد: جلد 9 صفحہ 291، اس کی سند میں حارثہ کے علاوہ بقیہ تمام راوی صحیح بخاری کے راوی ہیں، اور حارثہ بھی ثقہ ہیں)

اور ان کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ آپؓ نے کہا: اما بعد! میں نے تمہارے پاس عمارؓ کو امیر اور عبد اللہ بن مسعودؓ کو معلم و وزیر بنا کر بھیجا ہے، وہ دونوں اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں سے شریف ترین لوگوں میں سے ہیں، ان دونوں کی بات سنو اور ان کی بات مانو، میں نے عبداللہ بن مسعودؓ کو اپنی ذات پر تمہارے لیے ترجیح دی ہے۔ 

(السلطۃ التنفیذیۃ: جلد 1 صفحہ 252)

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کوفہ پر بہت توجہ دی، وہاں ابنِ مسعودؓ کو بھیجا، اور ان کو خط لکھا کہ قرآن قریش کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لیے لوگوں کو قریش کی لغت میں قرآن پڑھانا، ہذیل کی لغت میں نہیں۔ 

(فتح الباری: جلد 8 صفحہ 625۔ الخلافۃ الراشدۃ: دیکھئے یحییٰ: صفحہ 309)

اور صحابہ کرامؓ کی ایک جماعت جو کوفہ کو روانہ ہو رہی تھی سیدنا عمر فاروقؓ نے ان کو رخصت کرتے ہوئے کہا: آپ لوگ ایسی بستی یعنی کوفہ والوں کے پاس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو لوگ قرآن کی تلاوت کو اس طرح گنگناتے ہیں جس طرح شہد کی مکھی بھنبھناتی رہتی ہے۔ انہیں حدیثوں کے ذریعہ سے اس سے نہ روکو کہ وہ اسی میں مشغول ہو جائیں، اور قرآن کو وہ نظر انداز کر دیں، انہیں قرآن پڑھنے دو، اور نبی کریمﷺ سے روایات کم بیان کرو، اور جاؤ میں بھی تم لوگوں کے ساتھ ہوں۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 3 صفحہ 156، الحلیۃ جلد 1 صفحہ 129)

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابلے میں قرآن کے ساتھ اشتغال کو زیادہ بہتر سمجھتے تھے، چنانچہ جب آپؓ نے سنت کو یک جا کرنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مشورہ لیا، جب انہوں نے اس کام کو مکمل کرنے کا آپؓ کو مشورہ دے دیا تب بھی آپؓ ایک مہینہ تک اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرتے رہے، ایک دن صبح کے وقت اللہ کی توفیق سے آپؓ نے اپنا فیصلہ پختہ کر لیا، اور کہا: میں چاہتا تھا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صفحہ تحریر پر لے آؤں یک جا کر دوں، لیکن مجھے وہ لوگ یاد آ گئے جو تم سے پہلے تھے، انہوں نے خود نوشتہ کتابیں تیار کیں، پھر اس پر آنکھیں موند کر ٹوٹ پڑے، اور اللہ کی کتاب کو پسِ پشت ڈال دیا، اللہ کی قسم! میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کسی دوسری چیز کو مخلوط نہ ہونے دوں گا۔ 

(تاریخ المدینۃ النبویۃ: جلد 2 صفحہ 770 موسوعۃ فقہ عمر: قلعجی: صفحہ 659)

صفحہ 7 از 8