سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 8

آپؓ صحابہؓ کے درمیان شیریں آواز اور بہترین قرأت والے مشہور تھے۔ جب لوگ آپ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنتے تو آپ کے پاس جمع ہو جاتے اور جب حضرت عمرؓ کے پاس حضرت ابو موسیٰؓ ہوتے تو سیدنا عمرؓ ان سے کہتے کہ قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر سناؤ۔ 

(أبوموسیٰ اشعری الصحابی العالم: صفحہ 125، 126)

اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی کہ مسلمانوں کو تعلیم دیں اور انہوں نے کسی بھی شہر میں، جہاں بھی تشریف لے گئے قرآن کی تعلیم دینے اور اس کی نشر و اشاعت میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے مشن کی کامیابی کے لیے اپنی شیریں اور دل لبھانے والی آواز کا سہارا لیا، لوگ آپؓ کے گرد اکٹھے ہو گئے، اور بصرہ کی مسجد میں آپؓ کے پاس طلبہ کا ہجوم ہو گیا آپؓ نے ان کو ٹولیوں اور حلقوں میں تقسیم کر دیا یعنی درجہ بندی کر دی، گھوم گھوم کر ان سے قرآن سنتے اور سناتے، اور انہیں قرأت کا صحیح اسلوب و قاعدہ بتاتے۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 127)

قرآن سیکھنا سکھانا ہی آپ کی ساری مشغولیت تھی، سفر و حضر میں اسی کے لیے آپ اپنا بیشتر وقت لگاتے تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس ایک ضرورت سے بھیجا، تو حضرت عمرؓ نے پوچھا: جب تم آئے تو اشعری کیا کر رہے تھے؟ میں نے بتایا کہ اس حال میں آیا جب کہ وہ لوگوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے حضرت عمرؓ نے فرمایا: وہ بہت عقل مند اور زیرک ہیں، لیکن تم انہیں یہ مت بتانا۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 128)

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ جہاد کے لیے نکلتے ہوئے بھی قرآن کی تعلیم اور تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ خطاب بن عبداللہ رقاشی سے روایت ہے کہ میں دریائے دجلہ کے ساحل پر ایک لشکر کے ساتھ ابو موسیٰ اشعریؓ کے ساتھ تھا، نماز کا وقت ہوا تو مؤذن نے ظہر کی نماز کے لیے اذان کہی لوگ وضو کے لیے اٹھے، آپؓ نے بھی وضو کیا اور ان کو نماز پڑھائی، پھر سب لوگ کئی حلقوں میں بیٹھ گئے۔ جب عصر کا وقت ہوا تو مؤذن نے عصر کی اذان کہی، اس مرتبہ بھی لوگ وضو کے لیے بڑھے، تو آپؓ نے مؤذن سے کہلوایا کہ وضو صرف اسی آدمی کے لیے ضروری ہے جس کا وضو ٹوٹ گیا ہو۔ آپؓ کی علمی کاوشوں نے بہترین نتیجہ پیش کیا، اپنے اردگرد حفاظ قرآن اور علماء کی بڑی تعداد دیکھ کر آپؓ کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچتی تھی، صرف بصرہ میں حفاظ قرآن کی تعداد 30 سے متجاوز تھی۔ ایک موقع پر جب حضرت عمرؓ نے اپنے عمال سے کہا کہ حفاظ قرآن کے نام لکھ کر ہمارے پاس بھیجو تاکہ آپؓ ان کی تکریم کریں، اور ان کے عطیات کو بڑھا دیں، تو حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے آپؓ کے پاس لکھا کہ میرے پاس قرآن کے حفاظ کی تعداد تین سو 300 اور کچھ ہو گئی ہے۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 129)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حدیث کی روایت و تعلیم کا بھی خاص اہتمام کیا نبی کریمﷺ سے بہت ساری احادیث روایت کیں اور کبار صحابہؓ سے بھی روایات بیان کیں، نیز آپ سے دیگر صحابہؓ اور کبار تابعین نے روایت کیا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے بریدہ بن حصیب، ابو امامہ باہلی، ابو سعید خدری، انس بن مالک، طارق بن شہاب، سعید بن مسیب، اسود بن یزید، ابو وائل شقیق بن سلمہ، اور ابو عثمان نہدی وغیرہ بہت سارے لوگوں نے روایت کیا ہے۔ 

(أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 381)

آپ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سختی سے عمل کرنے والے تھے، اس کی سب سے بڑی دلیل آپﷺ کی وہ وصیت ہے جو آپ نے اپنی موت کے وقت اپنی اولاد سے کی تھی، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ سنت نبویﷺ سے شدید لگاؤ کے باوجود آپؓ نے زیادہ احادیث بیان نہیں کیں، جیسا کہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم کا طریقہ تھا۔ وہ لوگ لغزش اور غلطی کے خوف سے نبیﷺ سے روایت کرنے میں کافی احتیاط برتتے تھے۔ اسی احتیاط کے پیشِ نظر سیدنا عمرؓ اپنے عمال کو نصیحت کرتے تھے کہ وہ قرآن سیکھنے سکھانے کا اہتمام کریں اور احادیث زیادہ روایت کرنے سے پرہیز کریں۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سیدنا عمرؓ کی اطاعت پر سختی سے کاربند تھے۔ 

(ابوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم المجاہد: صفحہ 132)

اور جہاں تک انس بن مالک النجاری الخزرجیؓ کی بصرہ کی زندگی کے تعارف کی بات ہے تو معلوم ہو کہ وہ رسول اللہﷺ کے خادم تھے، خادمِ رسول کہے جاتے تھے اور اس پر فخر محسوس کرتے تھے اور انہیں اس کا حق بھی تھا۔ 

(تہذیب الاسماء واللغات: جلد 1 صفحہ 127)

وہ خود کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کی دس سال تک خدمت کی اس وقت میں ایک بچہ تھا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 423)

نیز کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو میں دس سال کا لڑکا تھا اور جب آپﷺ کی وفات ہوئی اس وقت میں بیس سال کا نوجوان تھا۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 2029) 

حضرت انس بن مالکؓ کے لیے رسول اللہﷺ نے کثرتِ مال و اولاد اور درازیِ عمر کی دعا کی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا تھا:

اَللّٰہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہٗ وَوَلَدَہٗ وَبَارِکْ لَہٗ فِیْہِ۔ 

(صحیح مسلم: حدیث 2481)

ترجمہ: ’’اے اللہ! اس کے مال و اولاد میں اضافہ کر دے اور اس میں برکت عطا فرما۔‘‘

حافظ ذہبیؒ لکھتے ہیں کہ التہذیب کے مؤلف نے حضرت انسؓ سے روایت کرنے والوں کی تعداد تقریباً دو سو 200 بتائی ہے۔ 

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم: صفحہ 129)

حضرت انس بن مالکؓ نے دو ہزار دو سو چھیاسی 2286 احادیث روایت کی ہیں۔ ایک سو اسی 180 احادیث متفق علیہ ہیں اور اَسّی 80 احادیث روایت کرنے میں امام بخاریؒ اور 90 نوے احادیث میں امام مسلمؒ منفرد ہیں۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 406، تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 423)

حضرت انس بن مالکؓ تابعین علماء مثلاً حسن بصریؒ، سلیمان تیمیؒ، ثابت البنانیؒ، زہریؒ، ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰنؒ، ابراہیم بن میسرہؒ، یحییٰ بن سعید الانصاریؒ، محمد بن سیرینؓ، سعید بن جبیرؓ اور قتادہؓ وغیرہ کے استاذ مانے جاتے ہیں۔

(أنس بن مالک الخادم الأمین: عبد الحمید طہماز: صفحہ 135)

صفحہ 6 از 8