سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 8

 حضرت عامر شعبیؒ کا قول ہے کہ زید بن ثابتؓ کو دیگر لوگوں پر دو چیزوں میں فوقیت تھی؛ علم فرائض اور علم قرآن میں۔

(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 5 صفحہ 449)

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی علم فرائض میں حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مہارت کی گواہی دیتے ہوئے فرمایا:

 أَفْرَضُہُمْ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ۔

(سنن الترمذی: حدیث 3791، امام ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے )

’’ان یعنی صحابہ میں سے فرائض کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں۔‘‘

مدینہ کے دیگر متعدد فقہاء نے حضرت زید بن ثابتؓ کی صحبت پائی، آپؓ کے شاگردوں میں سے چھ تابعین نے زیادہ شہرت پائی۔ علی بن مدینیؒ کہتے ہیں: جن لوگوں نے حضرت زیدؓ سے ملاقات کی اور ہمارے نزدیک ان کی ملاقات ثابت ہے وہ لوگ یہ ہیں: سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر، قبیصہ بن ذؤیب، خارجہ بن زید، ابان بن عثمان اور سلمان بن یسار۔ 

( تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 510)

اس مدنی درس گاہ کا دیگر علمی مدارس میں بڑا اثر تھا، جیسا کہ اس سے پہلے ہم واضح کر چکے ہیں۔

3۔ بصری درس گاہ:

فاروقی حکم کی تعمیل میں بصرہ شہر کو سب سے پہلے عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے بسایا، 14ھ میں انہوں نے اس کا نقشہ تیار کیا تھا، اس کے علاوہ بھی باتیں کہی گئی ہیں اس موضوع پر ان شاء اللہ ہم تفصیلی گفتگو اس وقت کریں گے جب فاروقی دورِ خلافت میں نو آبادیاتی اور عمرانی ترقیوں کا ذکر کیا جائے گا بہرحال بصرہ، کوفہ سے تین سال پرانا شہر ہے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 422) 

اور تمام تر فنون میں کوفہ کی درس گاہ سے آگے بڑھا ہوا ہے، یہاں بہت سارے صحابہؓ تشریف لائے اور مقیم ہوئے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 422، ابنِ حبان نے پچاس سے زیادہ مشہور صحابہؓ کا ذکر کیا ہے جو بصرہ آئے تھے)

 انہی میں سے ابو موسیٰ اشعری، عمران بن حصین رضی اللہ عنہما اور دیگر صحابہ کرامؓ ہیں، سب سے آخر میں یہاں حضرت انس بن مالکؓ تشریف لائے۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 8 صفحہ 26، صحیح مسلم: جلد 1 صفحہ 65)

جو صحابہ کرامؓ بصرہ آئے ان میں زیادہ مشہور ابوموسیٰ اشعری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما ہیں۔ ابو موسیٰ اشعریؓ مکہ آ کر اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے، انہوں نے مہاجرین کے ساتھ حبشہ ہجرت کی، صحابہؓ میں سب سے زیادہ ذی علم کہے جاتے تھے، وہ بصرہ آئے اور وہاں لوگوں کو دین کی تعلیم دی۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 423)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ، سیدنا عمر بن خطابؓ سے بہت متاثر تھے، دونوں کے درمیان خط و کتابت ہوتی تھی، بہرحال ان شاء اللہ آئندہ صفحات میں عمال و قضاۃ کے ادارہ کی جب بحث ہو گی تو وہاں ان خطوط پر تفصیلی بحث ہو گی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے علم، عبادت، ورع و تقویٰ، حیا، عزت نفس و خود داری، دنیا سے بے زاری اور اسلام پر ثابت قدمی میں شہرت پائی۔ ابو موسیٰؓ کا شمار صحابہ کرامؓ کے بڑے بزرگ علماء، فقہاء اور مفتیان میں ہوتا ہے۔ علامہ ذہبیؒ نے صحابہ کے طبقہ اولیٰ کے حفاظ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ عالم باعمل، نیک و پارسا، اور قرآنِ مجید کی تلاوت کرنے والے تھے۔ بہترین آواز میں قرآن کی تلاوت آپؓ پر بس تھی، آپؓ نے بابرکت اور بہترین علم کے جوہر بکھیرے، بصرہ والوں میں سب سے زیادہ قرآن کے پڑھنے اور سمجھنے والے تھے۔ 

(تذکرۃ الحفاظ: الذہبی: جلد 1 صفحہ 23)

اکثر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، آپؓ نے بزرگ صحابہ مثلاً عمر، علی، ابی بن کعب، اور عبداللہ بن مسعود وغیرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی علم حاصل کیا۔ آپ حضرت عمرؓ سے خاص طور سے بہت متاثر تھے۔ بصرہ میں آپ کی طویل مدتی امارت کے درمیان حضرت عمرؓ آپ کو نصیحتیں کرتے اور خطوط ارسال کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بھی اپنے تمام پیش آمدہ مسائل میں حضرت عمرؓ کی طرف رجوع کرتے تھے یہاں تک کہ شعبی نے آپ کو امت کے چار مشہور قاضیوں میں سے ایک قاضی شمار کیا ہے۔ امت کے چار مشہور قاضیوں میں یہ ہیں: عمر، علی، زید بن ثابت، اور ابو موسیٰ اشعری رضوان اللہ علیھم اجمعین ۔ 

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 389 )

حضرت ابو موسیٰؓ جب مدینہ تشریف لاتے تو پوری کوشش کرتے کہ سیدنا عمرؓ کی مجلسوں میں ضرور شریک ہوں، کبھی کبھار اپنا کافی وقت انہی کے ساتھ گزار دیتے چنانچہ ابوبکر بن ابو موسیٰؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ عشاء کی نماز کے بعد حضرت عمر بن خطابؓ کے پاس آئے، حضرت عمرؓ نے پوچھا: کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے کہا: آپؓ سے بات کرنے آیا ہوں۔ آپؓ نے فرمایا: اس وقت؟ انہوں نے جواب دیا: دین سمجھنے سمجھانے کی بات ہے۔ حضرت عمرؓ بیٹھ گئے اور دونوں دیر رات تک باتیں کرتے رہے۔ پھر ابو موسیٰؓ نے کہا: امیر المؤمنین! نماز پڑھ لیں، سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ہم اب تک نماز ہی میں تھے۔

(أبوموسیٰ الاشعری الصحابی العالم المجاہد: محمد طہماز: صفحہ 121 )

جس طرح ابو موسیٰ اشعریؓ حصولِ علم اور تعلیم کے شوقین تھے اسی طرح علم کی نشر و اشاعت اور لوگوں کی تعلیم و تبلیغ کے بھی حریص تھے۔ اپنے خطبہ میں لوگوں کو تعلیم و تعلّم پر ابھارتے تھے۔ چنانچہ ابو مہلب کہتے ہیں کہ میں نے ابو موسیٰؓ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: جسے اللہ نے علم سے نوازا ہو اسے چاہیے کہ دوسروں کو تعلیم دے، اور جس چیز کے بارے میں علم نہ ہو اس کے بارے میں ہرگز زبان نہ کھولے، کیونکہ اس سے وہ تکلف کرنے والوں اور دین سے نکل جانے والوں میں سے ہو جائے گا۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 4 صفحہ 107 )

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے بصرہ کی مسجد کو اپنے علمی نشاط کا مرکز بنایا تھا اور اپنے وقت کا ایک بڑا حصہ علمی مجالس کے لیے خاص کر دیا تھا۔ صرف اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کوئی لمحہ ایسا نہ گزرتا تھا جسے آپ تعلیم، تدریس اور لوگوں کی تبلیغ میں استعمال نہ کرتے رہے ہوں۔ جب سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوتے تو لوگوں کی طرف رخ کر کے بیٹھ جاتے، انہیں تعلیم سکھاتے اور قرآن پڑھنے کا طریقہ بتاتے۔ ابنِ شوذب کا قول ہے کہ ابو موسیٰ اشعریؓ جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو صفوں میں گھوم گھوم کر ایک ایک آدمی کو قرآن پڑھاتے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 289)

صفحہ 5 از 8