سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 8

حضرت عمرؓ کی ایک علمی مجلس ہوتی تھی جس میں نوجوانوں کی علمی باتیں سنتے اور انہیں علم سکھاتے تھے۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ان نوجوانوں میں آگے آگے رہتے تھے۔ عبدالرحمٰن بن زیدؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ جب اشراق کی نماز سے فارغ ہوتے تو کھجوریں خشک کرنے والے اپنے کھلیان میں جاتے اور قرآن پڑھنے والے نوجوانوں کو بلواتے، ان میں ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بھی ہوتے۔ راوی کا بیان ہے کہ وہ سب آتے اور دوپہر تک قرآن پڑھتے پڑھاتے اور دوپہر کے وقت آپ گھر واپس لوٹ جاتے۔ ایک مرتبہ وہ سب قرآن پڑھتے ہوئے جب اس آیت سے گزرے:

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتۡهُ الۡعِزَّةُ بِالۡاِثۡمِ‌ فَحَسۡبُهٗ جَهَنَّمُ‌ وَلَبِئۡسَ الۡمِهَادُ ۞(سورۃ البقرة آیت 206)

ترجمہ:’’جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اسے تعصب اور گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے اس کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ انتہائی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘ 

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّشۡرِىۡ نَفۡسَهُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰهِ‌ وَ اللّٰهُ رَءُوۡفٌ بِالۡعِبَادِ ۞(سورۃ البقرة: آیت 207)

ترجمہ:’’حالانکہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ کی رضا مندی کی طلب میں اپنی جان تک گنوا دیتے ہیں اللہ بندوں کے ساتھ بڑا شفیق ہے۔‘‘

تو ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے قریب بیٹھے ہوئے بعض ساتھیوں سے کہا: دونوں آپس میں لڑ پڑے، حضرت عمرؓ نے ان کی بات سن لی، پوچھا: ابنِ عباس! تم نے کیا کہا؟ انہوں نے کہا: کچھ نہیں امیر المؤمنین! آپؓ نے کہا: نہیں بتاؤ تم نے کیا کہا؟ کہ دونوں آپس میں لڑ پڑے؟ جب ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمرؓ کا یہ اصرار دیکھا تو کہا: میں اس آیت میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک شخص کو جب اللہ سے تقویٰ کا حکم دیا جاتا ہے تو وہ تکبر کی وجہ سے تعصب اور گناہ کرنے لگتا ہے، اور ایسے آدمی کو بھی دیکھ رہا ہوں کہ اللہ کی رضا مندی چاہنے کے لیے اپنی جان تک گنوانے کے لیے تیار ہے، اور یہ شخص جو رضا کا طالب ہے وہ متکبر کو اللہ سے تقویٰ کا پابند بنانا چاہتا ہے، لیکن وہ متکبر اس کی نصیحت کو نہیں مانتا، بلکہ غرور و تکبر کی وجہ سے مزید گناہ کے کام کرنے لگتا ہے اور جب وہ ناصح کی بات نہیں مانتا تو ناصح سوچتا ہے کہ چلو، میں ہی اللہ کے راستہ میں اپنی جان کی تجارت کرتا ہوں، اور پھر وہ لڑ جاتا ہے۔ اس طرح دو لوگ آپس میں جدال و قتال کرنے لگتے ہیں حضرت عمرؓ نے یہ سن کر فرمایا: آفرین آپؓ کے علم پر، اے ابنِ عباس! 

(تفسیر الطبری: جلد 4 صفحہ 245، الدر المنثور: جلد 1 صفحہ 578)

سیدنا عمرؓ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے جب قرآن کے بارے میں کچھ پوچھتے تو کہتے: غوطہ لگانے والے نے غوطہ لگا دیا، (فضائل الصحابۃ: أحمد بن حنبل: جلد 2 صفحہ 981 (1940) 

بلکہ اگر حضرت عمرؓ کے پاس پیچیدہ مسائل آ جاتے تو ابنِ عباسؓ سے کہتے: اے ابن عباس! ہمارے پاس کچھ پیچیدہ مسائل آ گئے ہیں، تم ہی ان جیسے مسائل کو حل کر سکتے ہو، پھر ان کی رائے پر عمل کرتے جب بھی کوئی پیچیدہ مسئلہ آتا تو آپ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے علاوہ کسی کو نہیں بلاتے تھے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 379 )

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: میں نے ابنِ عباس سے زیادہ حاضر جواب، دانا و بینا، ذی علم، اور بردبار کسی کو نہیں دیکھا اور میں نے سیدنا عمر بن خطابؓ کو دیکھا کہ مشکل اوقات میں ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ہی کو بلاتے اور کہتے: ایک پیچیدہ مسئلہ آ گیا ہے، پھر ان کے قول سے تجاوز نہ کرتے حالانکہ آپ کے اردگرد بدری انصار و مہاجرین صحابہؓ ہوتے تھے۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 369)

حضرت عمرؓ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں کہتے تھے: یہ تم بوڑھوں کا نوجوان ہے اس کے پاس خوب سوال کرنے والی زبان اور خوب سمجھنے والی عقل ہے۔

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 379، فضائل الصحابۃ: أحمد بن حنبل: اثر 1555)

حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت عمرؓ کو دیکھا کہ وہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی رائے پر کسی کو مقدم نہیں کرتے تھے۔ 

(طبقات ابن سعد: جلد 2 صفحہ 370)

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما بھی زیادہ تر وقت حضرت عمرؓ کے ساتھ ہی گزارتے تھے اور ان سے مسائل پوچھنے اور علم حاصل کرنے کے حریص تھے، اسی لیے حضرت عمرؓ کی تفسیر کو صحابہ کرامؓ میں سب سے زیادہ آپ نے نقل اور روایت کیا ہے، بعض علماء نے یہ اشارہ کیا ہے کہ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے اپنا بیشتر علم حضرت عمرؓ سے سیکھا تھا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 381)

حضرت عمرؓ کی توجہ اور ان کی قربت کی وجہ سے مکی مدرسہ کے امام یعنی ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کو مذکورہ خصوصیات اور فضائل نصیب ہوئے۔ میرا خیال ہے کہ حضرت عمرؓ کی مذکورہ خصوصی توجہ ہی نے آپؓ کو علم کے میدان میں بالخصوص فن تفسیر میں پیش قدمی کرنے میں بڑھ چڑھ کر تعاون کیا۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 506)

2۔ مدنی درس گاہ:

مدینہ کو خصوصی حیثیت دینے اسے فقہ و فتاویٰ اور علوم شرعیہ کا مرکز بنانے میں فاروقی اقدام اور خالص علمی زندگی کے لیے جن لوگوں نے خود کو وقف کیا تھا، ان تمام چیزوں کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ہمیں تفصیلی معلومات فراہم کی ہیں

حضرت زید بن ثابتؓ کو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں روک لیا تھا، اس لیے ان کے شاگردوں کی تعداد بھی زیادہ رہی ابنِ عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ نے صحابہ کرامؓ کو مختلف شہروں میں بھیج دیا، البتہ زید بن ثابتؓ کو مدینہ میں روک لیا، وہ مدینہ والوں کو فتویٰ دیتے تھے۔

حمید بن اسود کہتے ہیں: اہلِ مدینہ نے زید بن ثابتؓ کے بعد جس طرح امام مالک کے قول پر عمل کیا اس طرح کسی اور بات پر عمل نہ کیا۔ 

(العلل: إمام أحمد: جلد 3 صفحہ 259، 5145 تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 506)

حضرت زید بن ثابتؓ ان صحابہ میں سے تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے بہت سارے شاگرد عطا کیے اور انہوں نے اپنے اساتذہ کی باتوں کو یاد کیا، اور ان کے نقوش و علوم کی نشر و اشاعت کی۔

( تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 507)

صفحہ 4 از 8