سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 8

مدینہ والوں کے علاوہ جس نے جتنا مدینہ والوں سے علم حاصل کیا اسی تناسب سے وہ ایک دوسرے پر فضیلت رکھتے ہیں، وہ لوگ مدینہ والوں ہی کے علم کو برتری کا معیار شمار کرتے ہیں۔ چنانچہ مکہ والوں میں سے مجاہد اور عمرو بن دینار وغیرہ علماء کا کہنا ہے کہ ہمارا علمی و فقہی مقام تقریباً ایک دوسرے کے برابر تھا، یہاں تک کہ عطاء بن رباحؒ مدینہ گئے اور جب وہاں سے لوٹے، تب ان کی فضیلت ہم پر واضح ہوئی۔

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 48)

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں مدینہ جن فقہی ذخائر سے مالا مال ہوا، بہرحال اس کا سبب حضرت عمرؓ کی الہام یافتہ شخصیت ہی تھی، ان کے حق میں اس کامیابی کی گواہی نبی کریمﷺ نے اس وقت دے دی تھی جب دیکھا کہ وہ بیشتر باتوں میں رب کی مرضی کے مطابق رائے و مشورہ دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ سیدنا عمرؓ نے اسلامی ملک کے دارالخلافہ میں ایسا مدرسہ تعمیر کیا تھا جس سے علماء، مبلغین، دعوتی کارکن، حکمران اور قاضی و جج فارغ ہوئے اور عالمِ اسلام میں پائے جانے والے اولین علمی مدارس میں ہمیں اس فاروقی مدرسہ کا کافی اثر نظر آ رہا ہے، اس لیے کہ تمام موسسین مدارس و مراکز علمیہ تقریباً فاروقی فقہ و بصیرت سے متاثر ہوئے ہیں۔ لہٰذا اب ان علمی مدارس کے بارے میں مختصراً معلومات قارئین کی پیش خدمت ہیں:

1۔ مکی درس گاہ:

مسلمانوں کے دلوں میں مکی مدرسہ کا بڑا احترام تھا، خواہ وہ مکہ کے باشندے ہوں یا بلد حرام کی زیارت کرنے والے اور حج و عمرہ کرنے والے، ہر مومن جس نے مکہ کو دیکھا یا اسے دیکھنے کی کوشش کی، اس کے دل کو اپنی طرف موڑ لیا۔ صحابہ کرامؓ کے زمانے میں مکہ میں علم کا زور کم تھا، لیکن ان کے آخری اور تابعین کے ابتدائی دور میں نیز تبع تابعین جیسے ابن ابی نجیحؒ، اور ابن جریجؒ (الإعلان والتوبیخ لمن ذم التاریخ: صفحہ 292 )کے زمانے میں مکہ میں علم کا زور ہوا۔ البتہ مکہ کو یہ خصوصیت ملی کہ اسے ترجمان القرآن اور حبر الامت ابن عباس رضی اللہ عنہما جن کی تمام تر توجہات اور کوششیں علم تفسیر پر مرکوز تھیں اور اپنے شاگردوں کو اسی کی تربیت دیتے تھے۔ پھر تابعین میں ایسے آئمہ و علماء پیدا ہوئے جو دیگر تفسیری مدارس کے طلبہ پر سبقت لے گئے۔ علمائے محققین نے اس مکی مدرسہ کی برتری اور نمایاں کارکردگی کے اسباب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی امامت و استاذی کو کلیدی مقام دیا ہے۔ (تفسیر التابعین: دیکھئے محمد الخضری: جلد 1 صفحہ 371 ) اور جن اسباب نے قرآنِ مجید کی تفہیم و تفسیر کے باب میں ان کو دوسرے صحابہؓ سے ممتاز کیا ان اسباب کو بھی ذکر کیا۔ مختصراً وہ اسباب یہ ہیں: 

ان کے حق میں دین کی سمجھ اور علم تفسیر قرآن کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعا فرمانا۔

کبار صحابہؓ سے علم سیکھنا۔

 اجتہاد کی صلاحیت اور استنباط پر قدرت نیز تفسیر سے خصوصی شغف۔

منفرد و مخصوص انداز میں اپنے شاگردوں کی تعلیم و تربیت۔

 علم کی نشر و اشاعت کی دُھن اور اس کے لیے دور دراز کا سفر کرنا۔

 تاخیر سے وفات ہونا۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے گھر کی قربت۔ 

(تفسیر التابعین: دیکھئے محمد الخضری: جلد 1 صفحہ 374، 395)

اور جب حضرت عمرؓ نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے اندر شرافت اور ذہانت و فطانت کی علامات دیکھیں تو ان پر خصوصی توجہ دی، انہیں اپنی مجلس میں بلاتے اور اپنے قریب بٹھاتے، ان سے مشورہ کرتے، جہاں قرآنی آیات میں اشکال ہوتا ان کے بارے میں استفسار کرتے اور ابنِ عباس رضی اللہ عنہما چونکہ ابھی نوجوان لڑکے تھے اس لیے اس اعزاز و تکریم سے ان کو آگے بڑھنے اور علم حاصل کرنے کا حوصلہ ملتا، بلکہ دیگر علوم کے ساتھ تفسیر قرآن کے علم میں خوب محنت کرتے۔ عامر شعبی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میرے باپ نے مجھ سے کہا: اے میرے بیٹے! میں دیکھ رہا ہوں کہ امیر المؤمنین تم کو قریب رکھتے ہیں، تمہارے ساتھ تنہا بھی ہوتے ہیں، اور دیگر اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ تم سے بھی مشورہ لیتے ہیں، اس لیے تم میری چار باتیں یاد رکھنا: اللہ سے ڈرنا، ان کا کوئی راز فاش نہ کرنا، وہ کبھی تم کو جھوٹا نہ پائیں، ان کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرنا۔ 

(الحلیۃ: جلد 1 صفحہ جلد 1 صفحہ 318، تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 376 )

سیدنا عمر فاروقؓ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کو اکابر صحابہؓ کی مجلس میں بھی لے جاتے تھے اور اس کی وجہ یہی تھی کہ سیدنا عمرؓ نے ان میں قوت فہم، سلامتی فکر اور استنباط کی باریکیوں کو پہچاننے کی صلاحیت کو بخوبی جان لیا تھا۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ دیگر اصحابِ رسولﷺ کے ساتھ میری بھی رائے معلوم کرتے تھے اور مجھ سے کہتے تھے: تم اس وقت تک کچھ نہ کہو جب تک کہ وہ لوگ اپنی کوئی رائے نہ دے دیں اور جب میں کوئی رائے دیتا تو آپؓ کہتے: تم سب مل کر مجھے وہ مشورہ نہ دے سکے جو اس نوعمر و ناتجربہ کار بچے نے دیا ہے۔ 

(المستدرک: جلد 3 صفحہ 539، حاکم نے اس کی سند کی تصحیح کی ہے اور ذہبیؒ نے اس کی موافقت کی ہے۔)

ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے احترام مجلس و آدابِ بزرگان کا یہ عالم تھا کہ اگر کسی ایسی مجلس میں ہوتے جس میں ان سے بزرگ لوگ موجود ہوتے تو ان کی اجازت کے بغیر ایک لفظ نہ بولتے۔ حضرت عمر فاروقؓ اس خاموشی کو محسوس کرتے تھے چنانچہ ان کے علم کی ہمت افزائی کرتے، اور انہیں بولنے پر ابھارتے۔ 

(تفسیر التابعین: جلد 1 صفحہ 377 )

 جیسے کہ اس کی مثالیں آیت کریمہ: 

اَيَوَدُّ اَحَدُكُمۡ اَنۡ تَكُوۡنَ لَهٗ جَنَّةٌ۞ (سورۃ البقرة: آیت 266) اور  اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰهِ وَالۡفَتۡحُ ۞(سورۃ النصر: آیت 1)کی تفسیر میں گزر چکی ہیں۔ 

صفحہ 3 از 8