سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ…

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مدینۃ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فقہ و فتاویٰ کا مرکز بنانا

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 8

بہرحال معاشرتی ترقی اور فتوحات کی وسعت کے ساتھ ساتھ جن علمی مراکز و مدارس کا وجود ہوا ان کی نشوونما اور تعمیر و ترقی میں اس فاروقی دور کا زبردست اثر رہا، حضرت عمرؓ کے مدارس کے شاگرد مدینہ میں رہے اور مدینہ میں اپنے علم کی نشر و اشاعت کی، پھر ان شاگردوں کے شاگرد تیار ہوئے جو سرچشمۂ علمِ نبوت سے قریب ہونے اور مدنی ماحول میں زندگی گزارنے کی وجہ سے عظیم ترین شخصیتوں کے مالک ہوئے۔ عمر رضی اللہ عنہ کے بعض شاگردوں کو نو مسلموں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے دور دراز کے مفتوحہ علاقوں میں بھیج دیا گیا اس طرح مدینۃ الرسولﷺ نے علم و فقہ میں ایک اونچا مقام پایا اور اس کے مدارس نے مفتوحہ علاقوں اور نو تشکیل شدہ مدارس مثلاً بصرہ اور کوفہ کے مدارس کی تعمیر و ترقی میں کافی اثر دکھایا۔ مدینہ کی فقہی و علمی مرکزیت کو ان مراحل میں سمجھا جاسکتا ہے:

مدینہ مہبط وحی و تشریع تھا، خلفائے راشدینؓ کے دورِ خلافت تک کوئی شہر اس کا مقابل نہ تھا۔ خلفائے راشدینؓ کے دور میں مدینہ فقہاء صحابہؓ کا مرکز تھا، ان میں سب سے آگے حضرت عمرؓ تھے۔

35ھ میں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کوفہ منتقل ہو گئے، لیکن مدینہ علماء و مفتیان صحابہ کا علمی مرکز بنا رہا، اس لیے کہ وہاں جو فقہاء صحابہؓ مقیم تھے وہ لمبی عمر تک زندہ رہے، پچاس سالوں سے زیادہ اور سو سال سے کچھ ہی کم اکثر کی زندگی رہی۔ وہ صحابہ یہ تھے: عائشہ، ابو ہریرہ، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن عمر، اور سعد بن ابی وقاص وغیرہم رضی اللہ عنہم ۔

مدینہ ہی میں کبار تابعین کا مدرسہ بھی وجود میں آیا، ان میں سات ایسے فقہاء تھے کہ تمام اسلامی شہروں میں کہیں ان کی کوئی نظیر و مثیل نہ تھی۔ شاعر نے ان ساتوں کو ایک ساتھ ذکر کر دیا ہے:

ألا کل من لا یقتدی بأئمۃ

فقسمتہ ضیزی عن الحق خارجۃ

ترجمہ: ’’سن لو! جو شخص اپنے پیشواؤں کی پیروی نہیں کرتا، اس کی تقسیم بڑی ناانصافی پر مبنی ہے اور حق سے خارج ہے۔‘‘

فخذہم عبید اللّٰه عروۃ قاسم سعید أبوبکر سلیمان خارجۃ

ترجمہ:’’جان لو وہ پیشوا حضرات عبید اللہ، عروہ، قاسم، سعید، ابوبکر، سلیمان اور خارجہ ہیں۔‘‘

ان کے بعد تابعینؒ کا دوسرا طبقہ یعنی صغار تابعینؒ کا دور آیا، یہ لوگ دوسری صدی کے نصف اول کے آواخر تک زندہ رہے، ان لوگوں میں ابنِ شہاب زہری، نافع بن اسلم، اور یحییٰ بن سعید انصاری ہیں۔

پھر امام مالک رحمہ اللہ کا دور آیا، آپ تبع تابعین میں سے ہیں آپ چھوٹے اور بڑے تمام گزرے ہوئے تابعینؒ کے علم کے سب سے زیادہ جاننے والے تھے۔

مدینہ والوں کے علم کی فوقیت کا اعتراف اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ حجاز والوں کے علم کے محتاج تھے۔ حصول علم کے لیے انہوں نے مدینہ کا سفر کیا، جب کہ یہ تمام چیزیں کسی دوسرے شہر کے لیے نہیں کی گئیں، اسلامی شہروں کے علماء نے حصول علم کے لیے مدینہ کا سفر کیا اور اپنے علم و صلاحیت کو اپنے اساتذہ و علماء کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح وہی اساتذہ ہی اس سلسلہ میں مرجع ہوا کرتے تھے۔ مدینہ کے علماء دیگر شہروں میں قاضی اور معلم بن کر گئے۔ 

( المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 47)

 اور آغاز ان لوگوں سے ہوا جنہیں شام اور عراق کی فتح کے بعد سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہاں اس لیے بھیج دیا تھا تاکہ لوگوں کو اللہ کی کتاب اور رسول اللہﷺ کی سنتیں سکھائیں، چنانچہ عبداللہ بن مسعود، حذیفہ بن یمان، عمار بن یاسر، عمران بن حصین، اور سلمان فارسی وغیرہم رضی اللہ عنہم عراق گئے، اور معاذ بن جبل، عبادہ بن صامت، ابو درداء، اور بلال بن رباح رضی اللہ عنہم جیسے لوگ شام گئے۔ اور آپ کے پاس عثمان، علی، عبدالرحمٰن بن عوف، ابی بن کعب، محمد بن مسلمہ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم جیسے لوگ ہی رہ گئے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جو اس وقت عراق میں رہنے والے صحابہؓ میں سب سے زیادہ علم والے تھے وہاں فتویٰ دیتے تھے، پھر مدینہ آتے اور مدینہ کے علماء سے اپنے فتویٰ کے بارے میں استفسار کرتے، وہ انہیں ان کے فتویٰ سے رجوع کرنے کو کہتے، حضرت عبداللہ بن مسعودؓ واپس عراق جاتے اور انہیں صحیح بات بتاتے۔ 

(الفتاویٰ: جلد 20 صفحہ 172)

مدنی مدارس نے دیگر مدارس پر بھی اپنا اثر چھوڑا، جس کے نتیجہ میں کوفہ کے علاوہ بقیہ تمام مسلم علاقے علمائے مدینہ کے تابع تھے، علم کے میدان میں خود کو ان کے برابر نہیں سمجھتے تھے، مثلاً شام و مصر کے علماء جیسے امام اوزاعی اور ان سے پہلے بعد کے دیگر علماء، جیسے لیث بن سعد اور ان سے پہلے و بعد کے دیگر مصری علماء، ان لوگوں کے نزدیک اہلِ مدینہ کے عمل کی تعظیم اور ان کے قدیم مسلک کی اتباع ظاہر اور واضح ہے۔ اسی طرح بصرہ کے علماء جیسے ایوب، حماد بن زید، عبدالرحمٰن بن مہدی اور ان جیسے دوسرے علماء۔ اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ شہروں میں اہلِ مدینہ کے مسلک کو کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ 

(الفتاویٰ: جلد 20 صفحہ 174 )

مدنی مدارس کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ دیگر شہروں کے لوگ مدینہ والوں کے علم پر بھروسا کرتے تھے اور ہر علم و فتویٰ پر اسے مقدم رکھتے تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے روایت کیا ہے کہ محمد بن حسن شیبانی جب لوگوں کو امام مالکؒ کی روایت سے حدیث سناتے تو آپ کا گھر کھچا کھچ بھر جاتا اور جب امام مالکؒ کے علاوہ دوسرے کی روایت سے حدیث سناتے تو بہت کم لوگ حاضر ہوتے۔ آپؓ نے یہ صورت حال دیکھ کر فرمایا: اپنے ساتھیوں کو برے ناموں سے یاد کرنے والا تم سے بڑھ کر میں کسی کو نہیں جانتا۔ جب میں تم کو مالک کی سند سے حدیث سناتا ہوں تو جگہ مجھ پر تنگ کر دیتے ہو اور جب تمہارے ساتھیوں کی سند سے تم کو کچھ سناتا ہوں تو کراہت محسوس کرتے ہوئے تم حاضر ہوتے ہو۔ 

(المدینۃ النبویۃ فجر الإسلام والعصر الراشدی: جلد 2 صفحہ 48)

صفحہ 2 از 8