میں چاہتا ہوں کہ برابر برابر چھوٹ جاؤں نہ مجھے کچھ ملے اور نہ میرا مواخذہ ہو
علی محمد الصلابیسیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ زرّیں کلام گھلا دینے والے احساس اور ادائیگی ذمہ داری کے پورے پورے تصور کی عکاسی کرتا ہے ولایت و حکومت کا بوجھ اٹھانا بلند ترین اعمال صالحہ میں سے ایک عظیم عمل کی طرف پیش قدمی ہے، لیکن اس میں خطرناک بھول اور لغزشوں کا اندیشہ بھی ہوتا ہے جو حاکم وقت کو کبھی کبھار بدترین عمل کی طرف مائل کر دیتے ہیں کتنے ایسے حاکم و ذمہ دار گزرے ہیں جو اپنے ہر چھوٹے بڑے معاملہ میں محاسبۂ نفس کے ذریعہ سے انسانوں میں اور اللہ کے نزدیک ذکر خیر کے مستحق بنے اور کتنے ایسے ذمہ دار و احکام گزرے ہیں کہ جن کا کام اس کے بالکل برخلاف تھا، اس لیے کہ انہوں نے اپنے نفس کی پیروی کی اور انسانوں کی رضامندی کو اللہ کی رضامندی پر مقدم کیا۔ حضرت عمرؓ تاریخ کی ان عظیم ہستیوں میں سے تھے جنہوں نے عدل و انصاف کی کامل اور سچی تصویر پیش کی، لیکن اس کے باوجود آپؓ مذکورہ بات فرما رہے ہیں۔ یہ خوفِ الہٰی کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت سنبھالنے کے اجر و صلہ کو بھلا بیٹھے تاکہ اگر کوئی کار گناہ ہو گیا ہو تو وہ صاف ہو جائے۔
(التاریخ الإسلامی: جلد 20 صفحہ 267)