جلاوطنی کی تعزیری سزا
علی محمد الصلابیحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ خبر پہنچی کہ ابنِ ابی حبکہ نہدی نیرنگ (شعبدہ بازی) کو رواج دے رہا ہے تو آپؓ نے سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اس سے اس سلسلہ میں دریافت کرو اگر وہ اس کا اعتراف کر لے تو اس کو سخت سزا دو۔ حضرت ولید رضی اللہ عنہ نے اس کو طلب کر کے اس سلسلہ میں تحقیق کی، اس نے اعتراف کیا اور کہا کہ یہ تو مفید اور پسندیدہ چیز ہے۔ سیدنا ولید رضی اللہ عنہ نے حکم جاری کیا اور اس کو سزا دی گئی۔ پھر لوگوں کو اس کے سلسلہ میں مطلع کیا اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا فرمان نامہ پڑھ کر سنایا، فرمان نامہ سن کر لوگ اس کے مخالف ہو گئے اور لوگ اس بات پر حیران ہوئے کہ سیدنا عثمان بن عفانؓ کو اس کی اطلاع کیسے ہو گئی؟ ابنِ ابی حبکہ سرکشی پر اتر آیا اس کی اطلاع امیر المؤمنینؓ کو دی گئی تو آپؓ نے اس کو اور اس کے ساتھی مالک بن عبداللہ کو شام میں دیناوند کی طرف جلاوطن کر دیا۔
(تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 419)