تعزیری قید
علی محمد الصلابیضابی بن حارث برجمی نے سیدنا ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں انصار کے لوگوں سے ایک کتا مستعار لیا جس کا نام قرحان تھا اور ہرن کا شکار کرتا تھا، پھر اس نے اس کتے کو اپنے پاس رکھ لیا اور واپس کرنے سے انکار کر دیا انصاریوں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اس کے خاندان کے لوگوں سے مدد چاہی، وہ جمع ہوئے اور اس کتے کو اس سے چھین کر انصار کو واپس کر دیا اس پر ضابی نے ان اشعار کے ذریعہ سے ان پر حملہ کیا:
تجشم دونی وفد قرحان خطۃ
تضل لہا الوجناء و ہی حسیر
ترجمہ: قرحان کے وفد نے میرے خلاف عظیم سازش رچی جس سے مضبوط اونٹنی بھی تھک کر پھسل کر گر پڑے۔
قباتوا شباعاناعمین کانما
حباہم ببیت المرزبان امیر
ترجمہ: انہوں نے خوب شکم سیر ہو کر لذیذ کھانے کھا کر رات گزاری گویا کہ شاہی محل میں کسی امیر نے انہیں خوش آمدید کہا ہو۔
فکلبکم لا تتر کوا فہو امکم
فان عقوق الامہات کبیر
ترجمہ: تم اپنے کتے کو مت چھوڑو کیوں کہ وہ تمہاری ماں ہے اور ماں کی نافرمانی بڑا گناہ ہے اس پر ان لوگوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف شکایت کی۔ آپؓ نے اسے بلا بھیجا پھر آپؓ نے اسے تعزیری سزا دیتے ہوئے قید کر دیا جیسا کہ آپؓ مسلمانوں کے ساتھ کرتے تھے اس پر یہ بہت گراں گزرا وہ برابر جیل ہی میں رہا یہاں تک کہ وفات پا گیا۔
تاریخ الطبری: جلد، 5 صفحہ، 420)