Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

تاجر کا قتل اور جادو گر کی سزا

  علی محمد الصلابی

تاجر کا قتل

خلافتِ عثمانی میں ایک شخص نے ایک تاجر کو قتل کر دیا تو اس کی سزا قصاص مقرر کی گئی۔

(عصر الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ، 153)

جادو گر کی سزا

سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں اُم المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے ان پر جادو کر دیا۔ اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبدالرحمٰن بن زیدؓ کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس پر نکیر کی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: آپؓ اُم المؤمنینؓ پر اس خاتون کے قتل پر کیوں نکیر کرتے ہیں جس نے ان پر جادو کیا اور اس نے اس کا اعتراف بھی کیا؟ اس پر سیدنا عثمانِ غنیؓ نے خاموشی اختیار کی۔ سیدنا عثمان بن عفانؓ کو اس کے قتل پر اعتراض نہ تھا چوں کہ حدود کا قائم کرنا امامِ وقت کا حق ہے، اس کا کام ہے کہ اقامتِ حدود کا حکم جاری کرے چوں کہ خلیفہ کے حق کو ضائع کیا گیا تھا اس لیے حضرت عثمان بن عفانؓ نے نکیر فرمائی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا مذکورہ قول الساحر یقتل ولا یستتاب اسی پر دلالت کرتا ہے یعنی اس سلسلہ میں فیصلہ واضح ہے اور اس کے مستحق کے قتل ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

(موسوعۃ فقہ عثمان بن عفان: صفحہ، 169، 170)