مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

  جعفر صادق

صفحہ 7 از 7

✳️اہل سنت دلیل کا کمزور رد ✳️
1️⃣ تاویل ⬅️ سترہ ہزار آیات کا مطلب سترہ ہزار نشانیوں کا نزول
رد: اگر روایت میں لفظ آیت کا مطلب نشانی ہے تو علامہ مجلسی نے نقص اور تغیر کے الفاظ کیوں بیان کئے؟
علامہ مازندرانی نے یہ کیوں بیان کیا کہ بعض قرآن کا ساقط ہونا اور قرآن میں تحریف ہونا تواتر سے ثابت ہے؟
2️⃣ تاویل ⬅️ قرآن کریم کے تین حصوں میں سے دو حصے منسوخ ہوگئے!! بعد میں خود ہی اس تاویل کا انکار ⬅️ ناسخ و منسوخ کا تصور اہل تشیع کے ہاں موجود ہی نہیں ہے۔

♦️نتیجہ : متن کی تاویل ⬅️ ابھی تک نہیں کی جاسکے۔
سند پر اعتراض:
راوی احمد بن محمد اصل میں السیاری ہے، جو کہ ضعیف ہے۔
♦️پہلے کہا گیا کہ شیعہ علماء سے ثابت کیا جائے گا کہ راوی السیاری ہے، اب کہا جا رہا ہے کہ اصل راوی کون ہے ، کوئی نہیں جانتا، کوئی قرینہ موجود نہیں ہے!!
♦️اگر راوی اتنا مشکوک تھا تو چار جیّد علماء کرام نے اس روایت کی توثیق و تائید کیسے بیان کردی؟؟
دلیل: احمد بن محمد السیاری نے اس روایت کو اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔
رد: السیاری کا اپنی کتاب میں اس روایت کا بیان کرنا ضعیف ہونے کا ثبوت نہیں ہوسکتا۔
اشکال: اصول کافی کی روایت کی توثیق کئی شیعہ علماء کرام کرچکے ہیں۔ اگر راوی السیاری ہوتا تو اس کی توثیق کرنا ممکن نہیں تھا، اس سے واضح ہوتا ہے راوی السیاری نہیں ہوسکتا۔
⬅️ شیعہ جیّد علماء کرام کی توثیق کا انکار ذاتی رائے سے کرنے کے بجائے اقوال علماء کرام پیش کرنا ضروری ہے۔
⁉️ علامہ مجلسی اور دوسرے علماء کرام کی توثیق دراصل اجتہادی خطا ہے اور ان کی تصحیح شیعہ علماء کرام سے دکھائی جائے۔


آڈیو


ڈاؤن لوڈ

ڈاؤن لوڈ

صفحہ 7 از 7