مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5 - سنی شیعہ…

مسئلہ تحریف قرآن (ممتاز قریشی/ابوھشام) قسط 5

  جعفر صادق

صفحہ 6 از 7

اگر سند صحیح ہو لیکن متن اجماع کے خلاف ہو، اس متن کے خلاف قرآن و صحیح احادیث یا دوسرے مضبوط قرینے موجود ہوں تو متن قبول نہیں کیا جاتا ، حضرت ابن عباس کا قول فرد واحد کا قول بالمقابل اجماع ہے ، اس لئے اس کی تاویل کی جائے گی، دفاع قرآن کیا جائے گا۔

جبکہ دوسری طرف قول امام صادق سے سترہ ہزار آیات کے نزول کو شیعہ جید علماء نے قبول بھی کیا ہے اور اس سے قرآن کریم میں معاذاللہ نقص، تغییر اوراسقاط بعض القرآن کو بھی بیان کیا ہے!!

♦️ بیشک اہل تشیع تحریف قرآن کے قائل ہیں۔

دلیل: اصول کافی کی صحیح السند روایت

متن: قرآن کریم میں سترہ ہزار آیات۔

چار جید شیعہ علماء کرام کی توثیق بمعہ تحریف القرآن کا اثبات!!  

ابو ہشام کی دلیل اور اسکین میں خیانت: 

حضرت ابن عباس کا قول لفظ تستانو کی جگہ لفظ تستاذنو

ابوھشام کی طرف سے یہ اسکین پیش کیا گیا تھا۔

غور سے دیکھیں۔۔ اس اسکین کے حاشیہ کو کمال فنکاری سے چھپاتے ہوئے تفسیر طبری کے سرورق کو لگادیا گیا ہے تاکہ حاشیہ میں بیان کیا گیا مؤقف سامنے نہ آسکے!!

حاشیہ میں کیا بیان کیا گیا ہے؟؟؟ ملاحظہ فرمائیں۔

 

⬅️ بار بار کہا گیا کہ دلیل اور استدلال علمائے اہل سنت سے ثابت کیا جائے لیکن عالم فاضل ابو ھشام اختتام تک اپنی رائے کو حرف آخر سمجھتے رہے!

✳️ ابوھشام کی طرف سے لرزہ خیز اعترافات

1- موجودہ قرآن کریم تحریف شدہ ہے!!

36000 آیات موجودہ قرآن کریم سے ضایع کردی گئیں!! خلفاء نے انہیں لکھا ہی نہیں!! (ابوھشام)

عام قارئین کے لئے ان کے جملے کی وضاحت کی جاتی ہے۔

ابوھشام کے مطابق سات حروف/سات قرآت قرآن کا نزول ہوا تھا، ہر ایک قرآت والا قرآن چھ ہزار کے آس پاس آیات پر مشتمل تھا۔

موجودہ قرآن کریم ایک قرآت قریشی پر مشتمل ہے۔ دوسری تمام قرآت کو صحابہ کرام نے ختم کردیا تھا۔ 

ابوھشام کے مطابق سات قرآت میں سے ایک قرآت کو باقی رکھا گیا ، باقی چھ قرآت (فی حصہ 6000 آیات) یعنی

36000 ہزار آیات معاذاللہ ضایع کردی گئیں!! صحابہ کرام نے قرآن میں لکھی ہی نہیں۔۔!!! مطلب موجودہ قرآن کریم معاذاللہ تحریف شدہ ہےَ!!

⬅️ اصل حقیقت➡️

اہل سنت کے نزدیک سات حروف مل کرایک قرآن نہیں بنتا بلکہ ہر ایک حرف اپنی جگہ مکمل قرآن کریم ہے، کیونکہ ہر قرآت میں آیات وہی ہیں صرف کچھ آیات میں کچھ الفاظ کا فرق تھا جو کہ ہم معنی الفاظ ہی تھے یعنی تمام حروف کے قرآن میں آیات ایک جیسی تھیں اور مفہوم بھی ایک۔

2۔ علمائے اہل سنت حضرت ابن عباس کے قول کی مخالفت بیان کر رہے ہیں! (ابوھشام)

ابوھشام نے حضرت ابن عباس کے قول سے تحریف قرآن ثابت کرنے کے لئے جن علمائے اہل سنت کے اقوال پیش کیے ان سب میں تحریف کے اقرار کے بجائے تحریف کی نفی بیان کی گئی ہے اور تاویلات بیان کی گئی ہیں ، خود ابوھشام نے وائسز میں اس کا اعتراف بھی کیا۔

اہل سنت کا دوٹوک مؤقف

قرآن کریم میں رد و بدل کا قائل بھی کافر ہے۔ موجودہ قرآن کریم ہر دور میں متواتر چلا آ رہا ہے۔ اس قرآن کریم پر امت کا اجماع ہے!! اگر کوئی بدبخت موجودہ قرآن کریم میں ذرا برابر بھی شک کرے گا تو وہ اپنے ایمان کی فکر کرے۔

آج اگر کوئی قرآن کریم میں ذرا برابر شک کرے گا تو وہ کافر ہے کیونکہ  اجماع کا منکر ہے! قرآن کی اس آیت کا منکر ہے جس میں اللہ عزوجل نے  قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے!

♦️ حضرت ابن عباس کا قول صحیح السند ہے۔(ابوھشام)

یاد رہے کہ اہل سنت کی طرف سے سند پر اشکال پیش نہیں کیا گیا تھا، ابوھشام اصول کافی کی روایت کا علمی رد نہ کر پائے اس لئے خفت مٹانے اور اپنے شیعوں کی تسلی کے لئے سند کو صحیح ثابت کر کے خوش ہوتے رہے ، جبکہ سند کو صحیح ثابت کرنا کوئی بڑا کارنامہ نہیں!! دلیل کی مضبوطی کے لئے ضروری ہے کہ سند ، متن اور استدلال کی تائید جیّد علمائے کرام سے ثابت ہو۔

ابوھشام کی فاش غلطی!

ابوھشام اپنے ٹرن میں چار پانچ وائسز اور چار تفصیلی تحاریر پیش کرنے کے بعد ختم شد لکھا تاکہ فریق مخالف جوابات دینا شروع کرے۔

اہل سنت کی طرف سے جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے اہم نکات پر مشتمل تحریر پیش کی گئی۔

اس کے بعد اصول کافی کی روایت کی توثیق دوبارہ پیش کی گئی۔

اگرچہ ابوھشام اپنا ٹرن مکمل کرچکے تھے ، لیکن فریق مخالف کے انداز سے سمجھ گئے کہ تین دن کا وقفہ بھی کچھ کام نہ آیا، گفتگو کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے کی تمام کوششیں ناکام ہورہی ہیں۔۔ پھر وہی ہوا جو عام طور پر شیعہ کرتے ہیں۔۔ !!

فریق مخالف کے ٹرن میں زبردستی کی دخل اندازی اور ان وائسز میں ابوھشام کی جاہلانہ باتیں!!

♦️ فریق مخالف کو ڈانٹتے ہوئے کہا: شارحین اصول کافی پر بات نہ کریں، اپنی بات کریں! (ابوھشام)

⬅️ اہل سنت کی طرف سے پیش کی گئی اصول کافی کی روایت پر استدلال اصل میں شارحین اصول کافی کی قابل اعتراض وضاحتیں ہی تھیں۔
ابوھشام خود تو ان پر بات کرنے کو تیار ہی نہ تھے بلکہ فریق مخالف کو بھی زبردستی روکتے رہے۔

فریق مخالف کی شکل پر بارہ بج رہے ہیں! (ابوھشام)
اس قسم کے ذاتی حملے ابوھشام پہلے دن سے آخری دن تک بلکہ آخری وائسز میں بھی کرتے رہے!
اہل سنت کی طرف سے حتی الامکان کوشش کی گئی کہ ان کی عزت کی جائے اور کوئی توہین آمیز گفتگو نہ ہو۔

غور طلب بات یہ ہے کہ فریق مخالف کی صورت واقعی پسند نہ تھی تو یہ گفتگو شروع ہی کیوں کی گئی؟؟
جب گفتگو میں ابوھشام بری طرح پھنس گئے اور اپنی عزت بچانا بھی ممکن نہ رہا تو یہی بہانہ ہاتھ آگیا کہ فریق مخالف کو فاسق کہہ کر خود کو مؤمن قرار دیا جا سکے!!

بحرحال۔۔۔حجت تمام کرتے ہوئے اہم نکات دوبارا پیش کردئے گئے اور آخری وائس میں ابوھشام کو ان کی غلطیاں بتا کر گروپ چھوڑ دیا گیا۔

صفحہ 6 از 7